کوہاٹ کے نواحی علاقے میں ایک بار پھر خونریزی کی ایک دلخراش داستان رقم ہو گئی ہے، جہاں دہشت گردوں نے پولیس کی بہادری اور فرض شناسی کو نشانہ بنایا۔ شکردرہ روڈ پر جب پولیس ٹیم ایک زیر حراست ملزم کو لے کر جا رہی تھی، تو اچانک نامعلوم مسلح افراد نے شدید فائرنگ شروع کر دی. یہ حملہ اتنا بے رحم تھا کہ ڈی ایس پی لاچی اسد محمود سمیت پانچ بہادر اہلکار شہید ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ شہداء میں انسپکٹر انارگل خان، گن مین، ریڈر اور ڈرائیور شامل ہیں، یہ وہ لوگ تھے جو ہر روز امن کی خاطر جان کی بازی لڑاتے ہیں۔حملہ آوروں نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ پولیس موبائل کو آگ بھی لگا دی اور فرار ہو گئے، مگر ان کی یہ کارروائی پولیس کی لگن اور عزم کو نہیں توڑ سکی۔
واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، اور کوہاٹ سے اضافی دستے بھیج کر وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے، اور انصاف کی تلوار اب تیزی سے چل رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور دیگر شہداء کے خاندانوں کے ساتھ پورا ملک کھڑا ہے، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
یہ حملہ نہ صرف ایک خاندانوں کا غم ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک لمحہ سوچنے کا ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے جوان کس خطرے میں رہ کر فرض ادا کرتے ہیں۔ ان شہداء کی قربانی پر سر جھکاتے ہیں، اور دعا ہے کہ ان کی روحوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو شفا دے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فتح یاب ہو۔
کوئی تبصرے نہیں:
Write تبصرے