Advertisement

منگل، 12 مئی، 2026

لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ اور پاور ڈویژن کے اشتراک سے صحافیوں کو پاور سیکٹر کے بنیادی معاملات پر آگہی کے لیے لمز میں ورکشاپ کا انعقاد

میڈیا پاور سیکٹر کے بارے میں درست اور متوازن معلومات عوام تک پہنچائے: وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری
 
لاہور ;  لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ (LEI) اور وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے اشتراک سے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ''صحافیوں کی پاور سیکٹر کے بنیادی معاملات پر تربیت'' کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو پاکستان کے پاور سیکٹر اور اس کے مستقبل کے بارے میں بہتر آگاہی فراہم کرنا تھا۔

وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے ورکشاپ سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاور سیکٹر سے متعلق درست، متوازن اور حقائق پر مبنی معلومات عوام تک پہنچانا ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کے بارے میں پائی جانے والی کئی غلط فہمیاں نامکمل اورغلط معلومات کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادھوری معلومات پر مبنی تجزیے اور خبریں اصل صورتِ حال کو واضح نہیں کرتیں۔ وزیر توانائی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاور سیکٹر سے متعلق شفاف اور مستند معلومات مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیر توانائی نے اہم اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت رواں سال کے دوران ایک کروڑ بجلی صارفین کو ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (AMI) پر منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مستقبل میں درآمدی ایندھن پر مبنی نئے آزاد بجلی گھروں (IPPs) کا قیام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات مکمل کیے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں آئندہ دس سے پندرہ سال کے دوران بجلی صارفین کے لیے تقریباً 3.5 کھرب روپے کی بچت ممکن ہو سکے گی۔

ILC00242.JPG

وفاقی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں متعارف کرائی گئی سولر پالیسی سے ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کی رفتار متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز میں سرمایہ کاری کے لیے حکومتی حمایت کا اعادہ کیا اور بتایا کہ صنعتی و تجارتی صارفین کو دن کے اوقات میں مزید سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ورکشاپ میں ملک کے نمایاں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا سائنسز کے طلبہ نے شرکت کی۔ شرکاء کو پاکستان کے بجلی کے شعبے کا جامع جائزہ پیش کیا گیا جس میں بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم، ٹیرف کے نظام، سبسڈیز، گردشی قرضہ، شمسی توانائی اور آزاد مارکیٹ اصلاحات شامل تھیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری، وزارت توانائی (پاور ڈویژن) محفوظ بھٹی نے استقبالیہ خطاب میں توانائی کے شعبے کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے میں باخبر صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کے تکنیکی سیشنز میں معروف توانائی ماہرین، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (NGC) اور سینئر ایڈوائزر لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ، ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری؛ چیف کارپوریٹ فنانس اینڈ ریگولیٹری افیئرز، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC)، نوید قیصر؛ سسٹم پلاننگ کنسلٹنٹ، انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO)، عمر فاروق اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر (مارکیٹ آپریشنز) آئی ایس ایم او عمر ہارون ملک نے شرکت کی۔

ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے زور دیا کہ بجلی کی ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ، توانائی کے مؤثر استعمال سے متعلق اصلاحات پاکستان کے توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر میڈیا نمائندوں کی استعداد میں اضافہ انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ درست، باخبر اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ اور توانائی کے شعبے کے لیے عملی اور مؤثر حل پیش کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے پاکستان کے پاور سسٹم کی استعداد کار، ڈسپیچ نظام، ٹیرف ڈیزائن، سبسڈیز، گردشی قرضے، نیٹ میٹرنگ، ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ، الیکٹریفیکیشن اور مستقبل کی مارکیٹ اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

آخر میں پاور ڈویژن کے ایڈوائزر برائے انرجی سید فیضان علی نے ''پاکستان کے پاور سیکٹر کا مستقبل: حکومتی وژن اور سٹریٹجک ترجیحات'' کے عنوان سے پریزنٹیشن دی جس میں توانائی شعبے کی کارکردگی، استعداد اور پائیداری بہتر بنانے کے لیے جاری حکومتی اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا۔ ورکشاپ کے دوران ایک تفصیلی اور انٹرایکٹو سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں شرکاء نے ماہرین سے براہِ راست سوالات کیے اور پاکستان کے پاور سیکٹر کو درپیش چیلنجز اور مواقع کے بارے میں آگہی حاصل کی۔

پیر، 27 اپریل، 2026

پی ٹی سی ایل اور یوفون نے ایفّی ایوارڈز میں 8 اعزازات کے ساتھ ’مارکیٹر آف دی ایئر‘ کا خطاب بھی اپنے نام کرلیا

اسلام آباد –  پاکستان کی صفِ اوّل کی ٹیلی کمیونی کیشن اور ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں، پی ٹی سی ایل اور یوفون، نے ایفّی ایوارڈز(Effie Awards 2026) میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 8 ایوارڈز اپنے نام کیے، جن میں 3 گولڈ، 2 سلور اور 3 برونز اعزازات شامل ہیں۔

کو اس کے علاوہ پی ٹی سی ایل اور یوفون کو معتبر ترین ’ایفیکٹو مارکیٹر آف دی ایئر 2025–26‘ (Effective Marketer of the Year) کا اعزاز بھی سونپا گیا، جو مختلف شعبہ جات میں بہترین کارکردگی دکھانے والے مارکیٹنگ اداروں کو دیا جاتا ہے۔ ایفّی ایوارڈز کو عالمی سطح پر مارکیٹنگ کے شعبے میں ایک معتبر معیار کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں قابلِ پیمائش کاروباری نتائج فراہم کرنے والے آئیڈیاز کو سراہا جاتا ہے اور انہیں حکمتِ عملی، عملدرآمد اور اثر انگیزی کی کسوٹی پر سختی سے جانچا جاتا ہے۔ایفی ایوارڈز میں اس شاندار کامیابی سے نتیجہ خیز اور ملک بھر میں صارفین کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے والی اشتہاری مہمات کی تیاری کے حوالے سے سےپی ٹی سی ایل اور یوفون کا رہنما کردار مزید مستحکم ہوا ہے۔

WhatsApp Image 2026-04-27 at 2.57.37 PM (1).jpeg

اس سال ایک نمایاں کامیابی انٹرنیٹ اینڈ ٹیلی کام کیٹیگری میں حاصل ہوئی، جہاں پی ٹی سی ایل اور یوفون نے گولڈ اور سلور دونوں ایوارڈز جیتے۔ یوفون کی فلیگ شپ مہم ’’ڈیٹا بہت ہے‘‘ نے گولڈ ایوارڈ حاصل کیا، جبکہ ’’بابر کا فون گم ہوگیا‘‘ مہم کو سوشل میڈیا (سروسز) میں گولڈ ایوارڈ دیا گیا، اس کے ساتھ ’’سوہنی ماہیوال‘‘ کے لیے سلور ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔

دیگر اعزازات میں’’ہاکی ہے پاکستان کی شان‘‘ کے لیے پیشن فار پاکستان کیٹیگری میں گولڈ؛ ’’دل سے بااختیار‘‘ کے لیے پازیٹو چینج – سوشل گڈ (برانڈز) کیٹیگری میں سلور؛ یوپیسہ کے لیے سیزنل مارکیٹنگ کے شعبے میں برونز؛ پشاور زلمی اور یوفون شراکت داری کے لیے برانڈ انٹیگریشن اینڈ انٹرٹینمنٹ پارٹنرشپ کے شعبے میں برونز؛ اور پی ٹی سی ایل اور یوفون کے سماجی خدمت کے پلیٹ فارم ’’دل سے‘‘ کے لیے کارپوریٹ ریپوٹیشن میں برونز ایوارڈ شامل ہیں۔
یہ کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پی ٹی سی ایل اور یوفون تخلیقی صلاحیت، ثقافتی ہم آہنگی اور مقصد یت پر مبنی اشتہار سازی کے ذریعے بامعنی نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مزاح پر مبنی ڈیجیٹل انگیجمنٹ سے لے کر جدید اندازِ بیان، قومی فخر کو اجاگر کرنے، خواتین کاروباری افراد کو بااختیار بنانے، اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مضبوط کرنے سے لے کر سماجی شمولیت کو فروغ دینے تک، ہر مہم پی ٹی سی ایل اور یوفون کی جانب سے ایک ایسے برانڈ کی تشکیل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ، جو صارفین اور کمیونٹیز دونوں کے لیے دیرپا افادیت پیدا کر سکے ۔
ٹیلی کمیونی کیشن سروسز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، کھیل، ثقافت اور مقصدیت پر مبنی اقدامات پر محیط یہ کامیابیاں اس بات کا مظہر ہیں کہ پی ٹی سی ایل اور یوفون کا مارکیٹنگ کے حوالے سے ایک جامع نقطۂ نظر ہے، جہاں کاروباری کامیابی اور سماجی خدمت شانہ بشانہ آگے بڑھتے ہیں۔

جمعہ، 24 اپریل، 2026

فیصل بینک نے31مارچ 2026 کیلئے مستحکم مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

کراچیفیصل بینک لمیٹڈ (ایف بی ایل) نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مستحکم مالیاتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10.8 ارب روپے کا قبل از ٹیکس جبکہ 5.2 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا۔ فی حصص آمدن 3.40 روپے رہی۔ بینک نے اپنی کارکردگی اور مستقبل کے مثبت امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے 1.5 روپے فی شیئر (15 فیصد) عبوری نقد منافع کا اعلان کیا ہے۔

ایف بی ایل نے مضبوط و مستحکم بیلنس شیٹ کو برقرار رکھا اور اس کے کُل اثاثے 1.7 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو اس کی مضبوط مالی بنیاد کی عکاسی کرتی ہے۔ بینک نے اپنی ڈپازٹ مکس کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھی، خصوصاً بنیادی کرنٹ اکاؤنٹس کے فروغ پر حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جس کی بنیاد تجارتی و ٹرانزیکشنل سرگرمیوں میں اضافہ اور بڑھتے ہوئے صارفین و برانچ نیٹ ورک ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹس (سی اے) میں بہتری دیکھی گئی اور یہ دسمبر 2025 کے مقابلے میں 15 فیصد اضافے کے ساتھ 614 ارب روپے پر جا پہنچا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ مکس میں بھی نمایاں بہتری آئی اور یہ 46.2 فیصد تک پہنچ گیا (دسمبر 2025: 37.5 فیصد)، جبکہ CASA ریشو بھی بہتر ہوکر 85.5 فیصد رہی (دسمبر 2025: 81.9 فیصد)۔ اس عرصے میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (ADR) مارچ 2026 تک 58.4 فیصد پر آگئی (دسمبر 2025: 61.1 فیصد)، جبکہ اثاثہ جات میں استحکام رہا اور انفیکشن ریشو 2.4 فیصد پر مستحکم رہی۔

مجموعی طور پر بینک کی مالیاتی کارکردگی اس کے مضبوط کاروباری اصولوں، محتاط رسک مینجمنٹ اور واضح و منظم گروتھ اسٹریٹجی کی عکاسی کرتی ہے۔ بینک کی توجہ ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی صارف مرکوز سلوشنز پر بڑھ رہی ہے، جس سے اس کی مستقبل کی سمت مزید مستحکم ہوگی۔

فیصل بینک کے چیئرمین میاں محمد یونس نے بینک کی کارکردگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا، ”الحمدللہ، مارچ 2026 کو ختم ہوئی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج ایف بی ایل کے اسلامی بینکاری ماڈل اور نیٹ ورک پر مبنی گروتھ کی پختگی اور گہرائی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس عرصے کے نتائج براہِ راست بورڈ کی طویل المدتی اسٹریٹجک سمت کا نتیجہ ہیں، جس کا بنیادی فوکس بینک کے نیٹ ورک کی تیز رفتار توسیع اور قلیل و متوسط مدت میں کم لاگت بنیادی ڈپازٹس میں مسلسل اضافہ ہے۔ میں اپنے معزز صارفین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کا اعتماد اور بھروسہ ہماری پیش رفت کا بنیادی ستون ہے اور ایک نمایاں شریعہ کمپلائنٹ ادارے کے طور پر ہماری مسلسل کامیابیوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔“

فیصل بینک کے صدر و سی ای او یوسف حسین نے کہا، ”ایف بی ایل اپنی مضبوط پروڈکٹ آفرنگز اور وسیع نیٹ ورک کی بنیاد پر مزید پیش رفت کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔ یہ پیش رفت ریجنل آپریشنل مراکز اور ٹریڈ سرگرمیوں کی معاونت سے ممکن ہوگی، جس کی بنیاد مضبوط اسلامی اقدار، منظم و مربوط عملدرآمد اور تمام شراکت داروں کے لیے مسلسل قدر کی فراہمی پر ہے۔“

بنگ ایکس (BingX)نے اسپیس تھیم پر مبنی میم کوائن “Asteroid Shiba” کو لسٹ کر دیا

پاکستان :  بنگ ایکس (BingX) جو ایک معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج اور Web3-AI کمپنی ہے، نے آج اعلان کیا ہے کہ Asteroid Shiba (ASTEROIDETH) کو اسپاٹ اور فیوچرز ٹریڈنگ دونوں کے لیے لسٹ کر دیا گیا ہے جس کے ساتھ 19 اپریل سے 26 اپریل تک محدود مدت کے لیے زیرو فیس پروموشن بھی پیش کی جا رہی ہے۔

یہ نئی لسٹنگ، بنگ ایکس (BingX)کی جانب سےاسپیس ایکسPre-IPO (SpaceX) پرپیچول فیوچرز اور SpaceX Xpool ایئرڈراپ مہم کے کامیاب آغاز کے بعد سامنے آئی ہے۔ کرپٹو ٹریڈرز میں اسپیس تھیم والے اثاثوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیشِ نظر بنگ ایکس (BingX) فعال طور پر اعلیٰ قدر کے اثاثوں کی نشاندہی اور لسٹنگ کر رہا ہے تاکہ صارفین کی طلب کو پورا کیا جا سکے۔

WhatsApp Image 2026-04-22 at 1.17.03 PM.jpeg

ASTEROIDETH ایک کمیونٹی سے چلنے والا میم کوائن ہے جو Ethereum بلاک چین پر مبنی ہے اور “Asteroid” نامی ایک شیبا اِنُو پلش ٹوائے سے متاثر ہے جو SpaceX کے Polaris Dawn مشن کے دوران زیرو گریویٹی انڈیکیٹر کے طور پر استعمال ہوا تھا۔ یہ ٹوکن کلاسک شیبا اِنُو میم کلچر کو خلائی تحقیق کے عناصر کے ساتھ یکجا کرتا ہے جس نے کرپٹو کمیونٹی میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

جمعہ، 17 اپریل، 2026

میڈ اِن پاکستان۔ اسپاٹیفائی کے پاکستان میں 5 سال مکمل، موسیقی کی نئی دنیا اور مقامی ٹیلنٹ کی نمایاں پذیرائی

کراچی،  پاکستان میں موسیقی کا منظرنامہ تیزی سے دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔ آج موسیقی کے شائقین پہلے سے کہیں زیادہ مختلف انداز سے موسیقی دریافت کر رہے ہیں، چاہے وہ مختلف زبانیں ہوں، نسلیں ہوں یا موسیقی کے نئے تجربات ہوں۔ پاکستان میں اسپاٹیفائی اپنے آغاز کے پانچ سال کی تکمیل پر ایک ایسے سنگِ میل کا جشن منا رہا ہے جو صرف ترقی تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ لوگ موسیقی سے پہلے سے کہیں زیادہ گہرا تعلق قائم کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اسپاٹیفائی سال 2021  سے اب تک موسیقی سننے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اس دوران پلیٹ فارم پر شائقین موسیقی کی تعداد میں 750 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ پاکستانی صارفین نے 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد اپنی پلے لسٹس تیار کیں۔ یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ سامعین خود اپنی پسند کو ترتیب دے کر اپنے موسیقی کے سفر کو خود تشکیل دے رہے ہیں۔

Spotify Infographic.jpeg

یہ بڑی تبدیلی سامعین کے انداز میں بھی نظر آتی ہے۔ آج پاکستان میں اسپاٹیفائی کا ایک عام صارف سال بھر میں 140 سے زیادہ مختلف گلوکاروں کو سنتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی سامعین نئی موسیقی دریافت کرنے میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں۔

پاکستانی ہپ ہاپ، پاکستانی پاپ، اور قوالی سے لیکر علاقائی موسیقی تک مختلف انداز کے گیتوں میں پاکستان کے سامعین کی بھرپور دلچسپی نظر آرہی ہے۔ یہ رجحان ایک ایسے میوزک کلچر کی نشاندہی کرتا ہے جو روایت اور جدت کو یکجا کر کے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

جیسے جیسے موسیقی کی دنیا وسعت اختیار کررہی ہے، ویسے ہی پاکستانی گلوکاروں اور مقامی موسیقی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ سال 2021 کے بعد سے اس پلیٹ فارم پر پاکستانی گلوکاروں کے گیت سننے کی شرح میں سات گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جو مقامی ٹیلنٹ اور سامعین کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

اس دور کے نمایاں گلوکار بھی اس بڑی تبدیلی کا اعتراف کرتے ہیں۔ طلحہ انجم، عمیر اور حسن رحیم جیسے نئے ناموں سے لے کر عاطف اسلم اور نصرت فتح علی خان جیسے عظیم گلوکاروں تک سامعین باآسانی نئی اور پرانی موسیقی کے درمیان سفر کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کی موسیقی کی وسعت اجاگر ہوتی ہے۔

اسی طرح مانو اور انورال خالد کا گیت ''جھول''، افیوسک اور علی سومرو میوزک کا گیت ''پل پل''، حسن رحیم، عمیر اور تلویندر کا گیت ''Wishes''، عبدالحنان اور روالیو کا گیت ''بکھرا'' اور بیان، حسن رحیم اور روالیو کا گیت ''مانند'' جیسے گانے اسٹریمنگ دور کی نمایاں شناخت بن چکے ہیں۔

پاکستانی موسیقی کی ترقی میں اسپاٹیفائی کی سرمایہ کاری بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اسکی ''پکا ہٹ ہے'' جیسی پلے لسٹس آج کے مقبول گانوں کا مرکز بن چکی ہیں، جبکہ ''آئیکون پاکستان'' میں ملک کے بڑے گلوکاروں کی میراث کو سراہا جاتا ہے۔

پاکستانی میوزک کی دنیا بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اسپاٹیفائی کے آغاز کے بعد سے لیکر اب تک پاکستانی گلوکاروں کی تعداد میں تقریباً 75 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے نئے گلوکاروں کو مقامی اور عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے کا موقع مل رہا ہے۔

اس تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے اسپاٹیفائی مسلسل کام کر رہا ہے۔ ''ریڈار پاکستان''، ''ایکول پاکستان'' اور ''فریش فائنڈز پاکستان'' جیسے اقدامات کے ذریعے یہ پلیٹ فارم گلوکار کے لئے ہر مرحلے پر سرمایہ کاری جاری رکھتا ہے، نئے اور ابھرتے ہوئے گلوکاروں کو مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ تجربہ کار گلوکاروں کی نئی آڈیئنس تک رسائی میں معاونت کرتا ہے۔

اسپاٹیفائی کی آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپس منیجر برائے پاکستان، رطابہ یعقوب نے کہا، ''پاکستانی ثقافت میں موسیقی کا ہمیشہ سے نہایت اہم مقام رہا ہے، لیکن اب ہم ایک نئی سطح کا تعلق دیکھ رہے ہیں۔ لوگ زیادہ موسیقی تلاش کر رہے ہیں، تیزی سے نئی آوازوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، اور مقامی گلوکاروں کی بھرپور پذیرائی کررہے ہیں جس سے ان میں بااختیار ہونے کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی آوازوں سے لے کر عظیم گلوکاروں تک، آج پاکستانی موسیقی میں حقیقی رفتار اور توانائی نظر آتی ہے، اور یہ دیکھنا خوش آئند ہے کہ یہ سفر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔''

 

یہ تمام تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان میں موسیقی کا کلچر زیادہ کھلا، فعال اور دریافت پر مبنی ہے جہاں سامعین نہ صرف مقبولیت کا تعین کرتے ہیں بلکہ نئے گلوکاروں اور نئی آوازوں کو آگے لانے میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

سامعین اسپاٹیفائی کی ''میڈ اِن پاکستان'' پلے لسٹ کے ذریعے گزشتہ پانچ سال کے نمایاں گانوں کو سن سکتے ہیں۔

https://open.spotify.com/playlist/37i9dQZF1DXbdNlwEdmFJI

گزشتہ 5 سال میں پاکستان میں سب سے زیادہ سنے جانے والے پاکستانی گلوکار:
1. طلحہ انجم
2. عاطف اسلم
3. عمیر
4. حسن رحیم
5. نصرت فتح علی خان

گزشتہ 5 سال میں پاکستان میں سب سے زیادہ سنے جانے والے پاکستانی گانے:

1. مانو اور انورال خالد کا گیت ''جھول''
2. افیوسک، علی سومرو کا گیت ''پل پل''
3. حسن رحیم، عمیر، تلویندر کا گیت ''وشز''
4. عبد الحنان، روالیو کا گیت ''بکھرا''
5. بیان، حسن رحیم، روالیو کا گیت ''ماند''

جمعرات، 16 اپریل، 2026

میگا موٹر کمپنی اور ٹی پی ایل انشورنس کا اشتراک، BYD صارفین کو MMC Care کے تحت جامع تحفظ حاصل ہوگا

کراچی،  پاکستان میں دنیا کے نمبر ون نیو انرجی وہیکل (NEV) برانڈ،BYD کی آفیشل پارٹنر میگا موٹر کمپنی (MMC)نے ملک کی صف اول کی جنرل انشورنس کمپنی ٹی پی ایل انشورنس کے ساتھ اہم اشتراک کا معاہدہ کیا ہے۔ اس اشتراک کے تحت ایم ایم سی کیئر(MMC Care) کے نام سے ایک جامع تحفظ پلان متعارف کرایا گیا ہے، جو خاص طور پر BYD گاڑیوں کے مالکان کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس شراکت داری کے تحت ٹی پی ایل انشورنس کی جانب سےBYD کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نیو انرجی گاڑیوں کے لئے خصوصی اور جامع انشورنس پلان فراہم کیا جائے گا۔

ایم ایم سی کیئر کے تحت بی وائی ڈی گاڑی کے مالکان کو حادثات، چوری، نقصان اور اچانک خرابی جیسے غیر متوقع حالات میں مالی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس پالیسی کا مقصد ریپیئرنگ کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا اور ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ صارفین کو بوقت ضرورت مدد حاصل ہو۔

image.png


اس موقع پر بی وائی ڈی پاکستان۔ ایم ایم سی کے نائب صدر سیلز و اسٹریٹجی، دانش خالق نے کہا، ''پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں (NEVs)کے فروغ میں قائدانہ کردار کے ساتھ یہ شراکت داری صارفین کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹی پی ایل انشورنس کے ساتھ ہمارا اشتراک ایک اور سنگ میل ہے اور یہ BYD صارفین کے لیے ایک مکمل اور بہتر تجربہ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ گاڑی ایک قابل ذکر سرمایہ کاری ہوتی ہے، اور ایم ایم سی کیئر کے ذریعے ہم اس عمل کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ صارفین اپنی اس سرمایہ کاری کو مکمل اعتماد کے ساتھ محفوظ بنا سکیں۔''

ٹی پی ایل انشورنس کے سی او او سید علی حسن زید نے کہا، '' ہم ایم ایم سی کے اشتراک سے BYD صارفین کے لیے خصوصی انشورنس کی سہولت متعارف کرانے پر خوش ہیں۔ آٹو انڈسٹری خصوصی طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے پیش نظر جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ انشورنس حل فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔''

ایم ایم سی کیئر پروگرام BYD  کے نئے اور موجودہ دونوں صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، جس کے تحت گاڑی کے استعمال کے دوران صارفین کسی بھی مرحلے پر اس میں باآسانی شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ شراکت داری صارفین کو جامع انداز سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آٹو اور انشورنس انڈسٹری کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

کراچی میں اسپاٹیفائی کا خصوصی پروگرام پیڈل کھیل، موسیقی اور کمیونٹی کا خوبصورت امتزاج بن گیا

کراچی،  اسپاٹیفائی نے کراچی میں خصوصی پیڈل ایونٹ کا انعقاد کیا جہاں شہر کے تخلیق کاروں اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد کھیل، موسیقی اور کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے تعلق کو اجاگر کرنا تھا جو تیزی سے شہری زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے۔

یہ ایونٹ ''ہاؤس آف پیڈل'' میں منعقد ہوا جہاں شہر بھر سے معروف تخلیق کاروں اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات کا خیرمقدم کیا گیا۔ ان میں عائلہ عدنان، حاجرہ یامین اور ارشنستان سمیت کراچی سے تعلق رکھنے والی دیگر قابل ذکر شخصیات شامل ہیں۔ یہ ایک پرجوش اور سماجی نوعیت کا پروگرام تھا جس میں یہ دکھا یا گیا کہ کھیل اور موسیقی جیسے مشترکہ شوق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لارہے ہیں اور انکے وقت گزارنے کے انداز کو بدل رہے ہیں۔

اس پروگرام کی میزبانی اقصیٰ منظور نے سرانجام دی، جبکہ ''ڈسگائز اِن ہوڈی'' کی زبردست ڈی جے پرفارمنس نے ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا۔ اس پورے پروگرام کے دوران پیڈل کورٹ کے اندر اور باہر موسیقی کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ اس دوران اسپاٹیفائی کی پیڈل فیور پلے لسٹ بھی نمایاں رہی جس نے کھیل کے ساتھ ایک خاص ردھم اور توانائی پیدا کی۔

WhatsApp Image 2026-04-14 at 9.52.54 AM.jpeg

اس پروگرام میں اسپاٹیفائی کے مکس فیچر کو دلچسپ انداز سے سامنے لایا گیا جو پاکستان میں پریمیئم صارفین کے پاس موجود ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ گانوں کو کس طرح ہموار انداز سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ تقریب کو اس طرح جاندار بنانے کی بدولت مہمانوں میں موسیقی سے لطف اٹھانے کا عمل مزید انٹرایکٹو اور پرجوش رہا۔

س موقع پر اسپاٹیفائی کے مارکیٹنگ منیجربرائے پاکستان، طلحہ ہاشم نے کہا، ''موسیقی ہماری زندگی کا پہلے سے ہی حصہ بن چکی ہے اور وہ لوگوں کو کھیل سے قبل، کھیل دوران جوڑنے کا کام سامنے لاتی ہے۔پیڈل اس کی بڑی قابل ذکر مثال ہے۔ یہ محض کھیل ہی نہیں ہے بلکہ پیڈل کورٹ کے ساتھ ساتھ یہ توانائی اور کمیونٹی لوگوں کو ماحول کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ یہاں موسیقی قدرتی طور پر اپنا راستہ بناتی ہے۔ اس طرح کے تجربات کا مقصد انہی لمحات میں شامل ہونا ہے اور پاکستان میں ہمارے صارفین اس طریقے سے ہم آہنگ ہونے کے لئے پہلے سے ہی اسپاٹیفائی کو استعمال کرتے ہیں۔ "

ایسے اقدامات کے ذریعے اسپاٹیفائی پاکستان میں موسیقی کے کلچر کو فروغ دے رہا ہے اور لوگوں کو مشترکہ اور عملی زندگی کے تجربات کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لارہا ہے۔

صارفین اسپاٹیفائی کی ''پیڈل فیور'' پلے لسٹ سن کر اس منفرد تجربے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور توانائی کی شکل میں اس موسیقی کو اپنے ہمراہ رکھ سکتے ہیں۔

https://open.spotify.com/playlist/37i9dQZF1DXdwBVJ7FmyRu

WhatsApp Image 2026-04-14 at 9.52.59 AM.jpeg

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں