Advertisement

پیر، 13 اپریل، 2026

​فریز لینڈ کیمپینا نے اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز کے ساتھ ای پی سی معاہدہ، ڈی کاربنائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کا اعلان

کراچی، 13 اپریل 2026: فریز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) جو ڈیری اور غذائیت کے شعبے میں ایک معروف کثیر القومی ادارہ ہے، نےاے ٹو زیڈ انرجی سسٹمزکے ساتھ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے تاکہ 2 میگاواٹ کے سولر فوٹو وولٹک (PV) پلانٹ کو 4 میگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کے ساتھ مربوط کر کے نافذ کیا جا سکے۔ یہ تعیناتی فریز لینڈ کیمپینا کے ڈی کاربنائزیشن اسٹریٹجی کے لیے اس کے طویل المدتی عزم اور اپنی آپریشنز میں پائیدار توانائی کے حل کو شامل کرنے کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

یہ ہائبرڈ سسٹم جو فریز لینڈ کیمپینا کے آپریشنل سائٹس پر تعینات کیا جا رہا ہے، توانائی کی لاگت کی کارکردگی کو بہتر بنانے، بجلی کی فراہمی کی قابلِ اعتمادیت کو بڑھانے اور بڑھتے ہوئے ٹیرف کے درمیان گرڈ کے اتار چڑھاؤ سے نمائش کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ بہتر توانائی ڈسپیچ کو ممکن بنائے گا، پیک شیونگ کی حمایت کرے گا اور لوڈ مینجمنٹ کو مضبوط کرے گا جس سے آپریشنل مضبوطی میں اضافہ ہوگا اور قابلِ پیمائش مالی فوائد فراہم ہوں گے۔

مسٹر کاشان حسن، سی ای او رمنیجنگ ڈائریکٹر، فریز لینڈ کیمپینا نے کہا” ایک پائیدار اور مضبوط توانائی کا انفراسٹرکچر ہمارے مستقبل کے وژن کے مرکز میں ہے۔اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمزکے ساتھ ہماری شراکت داری ڈیری فارمنگ کے کاربن فُٹ پرنٹ کو کم کرنے کی ہماری کوششوں میں ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ فریز لینڈ کیمپینا کے“Doing DAIRY Right’’ کے وژن سے بھی ہم آہنگ ہے جس میں فطرت کے ساتھ توازن میں رہنا شامل ہے۔ شمسی توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم ایک لاگت مؤثر اور پائیدار طریقہ کار تیار کر رہے ہیں جو غیر قابلِ تجدید وسائل پر انحصار کو کم کرتا ہے اور ڈیری سیکٹر کے لیے مالی پائیداری کو بہتر بناتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے مجھے ایک ایسی کمپنی کی قیادت پر فخر ہے جو ترقی کو فروغ دینے اور پاکستان کے لیے ایک پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے۔ “

WhatsApp Image 2026-04-13 at 5.30.18 PM.jpeg

اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز، انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (EPC) کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے اس منصوبے کو مکمل، تیار اور قابلِ استعمال حالت میں فراہم کیا جائے گا۔ جدید توانائی کے نظام میں اپنی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنی بین الاقوامی معیار کے مطابق بہترین ڈیزائن، ہموار انضمام اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

 مسٹر انور الحسن، چیئرمین، اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز نے کہا” یہ منصوبہ صنعتی توانائی کی حکمت عملیوں میں پائیداری اور مالی کارکردگی کے بڑھتے ہوئے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم فریز لینڈ کیمپینا کی ایک مستقبل کے لیے تیار توانائی کے حل کی تعیناتی میں معاونت کر رہے ہیں جو ماحولیاتی اور معاشی دونوں قدر فراہم کرتا ہے۔“

یہ منصوبہ صنعتی توانائی کی منتقلی کے لیے ایک قابلِ توسیع ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے جو صاف توانائی کی پیداوار کو اسٹوریج کے ساتھ یکجا کر کے کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بناتا ہے اور طویل المدتی قدر کو ممکن بناتا ہے۔ کمیشننگ کے بعد توقع ہے کہ یہ نظام مستحکم توانائی لاگت کی بچت فراہم کرے گا، روایتی گرڈ پر انحصار کو کم کرے گا اور آپریشنل تسلسل کو بہتر بنائے گاجس سے زیادہ اثاثہ استعمال اور بہتر منافع حاصل ہوگا۔

یہ شراکت داری نہ صرف فریز لینڈ کیمپینا کے ڈیری فارمنگ کے کاربن فُٹ پرنٹ کو کم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز کی ایک معروف رینیوایبل مائیکرو گرڈز فراہم کنندہ کے طور پر مہارت کو بھی اجاگر کرتی ہے جو پاکستان کے لیے ایک سرسبز اور زیادہ پائیدار مستقبل کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔

ہفتہ، 11 اپریل، 2026

سپر نیٹ ٹیکنالوجیز کی ذیلی کمپنی کا ملک کے معروف بینک کے ساتھ ملٹی ملین ڈالر کا سائبر سیکیوریٹی معاہدہ

کراچی: سپرنیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ نے پاکستان کے مالیاتی خدمات کے شعبہ میں اپنی موجودگی کو مضبوط بناتے ہوئے اپنی ذیلی کمپنی سپرنیٹ سیکیورسلوشنز(پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ذریعے ایک معروف بینک کے ساتھ ملٹی ملین ڈالر کا سائبر سیکیوریٹی معاہدہ کیا ہے۔

 

سپرنیٹ سیکیورسلوشنز نے پاکستان کے بڑے بینکوں میں سے ایک بینک کے ساتھ 5سالہ معاہدہ کیا ہے۔ 2021میں کیے گئے 5سالہ معاہدے کی کامیاب تکمیل کے بعد مسلسل دوسری مرتبہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان طویل المدّتی کاروباری تعلقات کے تسلسل کی عکاسی ہے۔

 

نئے معاہدے کے تحت سپرنیٹ سیکیورسلوشنز،بینک کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرنے کیلئے زیادہ جدید اوراپ گریڈڈ سائبر سیکیوریٹی سلوشن فراہم کرے گی۔

 اس منصوبہ کے تحت اینڈ پوائنٹ سیکیوریٹی سسٹمز نافذ کیے جائیں گے جو ملک بھر میں بینک کے 10ہزار سے زائد ملازمین کے ڈیجیٹل ماحول کو تحفظ فراہم کریں گے واضح رہے کہ یہ شعبہ مالیاتی اداروں کیلئے سائبررسک کے حساس ترین پہلوؤں میں شمار کیا جاتاہے۔

 

کمپنی کے مطابق ملٹی ملین ڈالر کا معاہدہ اگلے 5سالوں میں اس کے سائبر سیکیوریٹی ریونیوپائپ لائن میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

 

اس معاہدہ کے علاوہ سپرنیٹ سیکیورسلوشنز پہلے ہی اس بینک کے ساتھ 3سالہ خصوصی رسائی کے انتظام کے سلوشن (Privileged Access Management)پر کام کررہی ہے جبکہ کمپنی ماضی میں بھی بینک کے بین الاقوامی آپریشنز کیلئے مختلف سائبر سیکیوریٹی خدمات فراہم کرچکی ہے۔

 

انڈسٹری مبصرین کے مطابق اس طرح کے معاہدوں کی تجدید نہ صرف کلائنٹ کے ساتھ مضبوط اور دیرپا تعلق کی عکاسی ہیں بلکہ پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ اور سائبرخطرات کے پیشِ نظر جدید سائبر سیکیوریٹی سلوشنز کی بڑھتی ہوئی طلب کو بھی ظاہرکرتے ہیں۔

 

کمپنی کے مطابق نئے معاہدے کے مالیاتی اثرات پورے معاہدے کی مدّت کے دوران مثبت رہنے کی توقع ہے جو اس کی طویل المدّتی ترقی کی حکمتِ عملی کو مزید تقویت دیں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپر نیٹ ٹیکنالوجیز ہائی ویلیو ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور سائبر سیکیوریٹی کے شعبوں میں اپنی موجودگی کو تیزی سے بڑھارہی ہے اور خود کو انٹر پرائز اور مالیاتی شعبے کے کلائنٹس کیلئے ایک اہم ٹیکنالوجی پارٹنر کے طورپر مستحکم کررہی ہے۔

جمعہ، 10 اپریل، 2026

وزیرِ اعظم کا کیش لیس معیشت کا وژن: موبی لنک بینک اور جاز کیش نے چکلالہ اسکیم-تھری بازار کو کیش لیس بازار بنا دیا



اسلام آباد – : پاکستان کے صفِ اول کے ڈیجیٹل مائیکرو فنانس بینک، موبی لنک بینک اور پاکستان کے نمایاں ڈیجیٹل مالیاتی  پلیٹ فارم، جاز کیش (Jazzcash)  نے راولپنڈی میں چکلالہ اسکیم-تھری کیش لیس بازار کا افتتاح کر دیا ہے، جہاں 900 دکانوں اور ٹھیلوں پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی قیادت میں وزیرِ اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے تحت روزمرہ ضروریات کے بازاروں میں ڈیجیٹل مالیاتی ڈھانچے کو فروغ دینے اور لین دین کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی اسٹیشن کمانڈر راولپنڈی، بریگیڈیئر سید علی انجم تھے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر رضوان خلیل شمسی، موبی لنک بینک کے چیف بزنس آفیسر، عطاء الرحمٰن، جاز کیش اور موبی لنک بینک کے اعلیٰ حکام، مقامی تاجران اور دیگر افراد بھی موقع پر موجود تھے۔
اس منصوبے کا بنیادی جزو بازار بھر کی دکانوں اور ٹھیلوں پر ادائیگیوں کے نظام ’راست‘ سے منسلک کیو آر کوڈز کی تنصیب ہے، جس کے ذریعے تاجر موبائل والٹس کے ذریعے فوری اور محفوظ ادائیگیاں براہِ راست وصول کر سکتے ہیں۔ اس اقدام سے نقد رقم کے استعمال سے منسلک مشکلات  میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ صارفین کو رقوم کی فوری منتقلی کی بدولت ایک آسان چیک آؤٹ تجربہ فراہم ہوگا، جس سے روزمرہ خریداری تیز اور زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔ موبی لنک بینک منصوبے میں شامل تمام تاجروں کے لیے بزنس پلس اکاؤنٹس کھولے گا اور مختلف مالیاتی سہولیات فراہم کرے گا، جن میں ہیلتھ اور فائر انشورنس، ایس ایم ای قرضے، اور سولر و الیکٹرک وہیکل فنانسنگ شامل ہیں۔

WhatsApp Image 2026-04-09 at 7.59.33 PM.jpeg

منصوبے کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے موبی لنک بینک کے صدر و سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، ’’موبی لنک بینک کے ڈیجیٹل فرسٹ نظریے کے تحت ہم سمجھتے ہیں کہ کیش لیس معیشت کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے جہاں روزمرہ کاروبار ہوتا ہے ، یعنی ہمارے مقامی بازاروں سے۔ یہ اقدام چھوٹے تاجروں کو ایک زیادہ محفوظ اور جامع مالیاتی نظام میں شامل کرے گا۔ جاز کیش جیسے فن ٹیک پلیٹ فارمز کے ذریعے زمینی سطح پر سہولت فراہم کرتے ہوئے ہم لین دین کو آسان بنا رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مالی شمولیت کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘

جاز کیش کے سی ای او مرتضیٰ علی نے کہا، ’’وزیرِ اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کی تکمیل کا انحصار زیادہ لین دین والے کاروباری شعبوں کی مؤثر ڈیجیٹلائزیشن پر ہے۔ پاکستان میں بازار روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے لین دین کا سب سے بڑا مرکز ہیں، اور جاز کیش اس تبدیلی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کررہا  ہے، اور اسے ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد راست سے منسلک کیو آر مرچنٹس کے نیٹ ورک کی معاونت حاصل ہے۔ ان مقامات پر بغیر رکاوٹ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے ذریعے ہم تاجروں کو ایک باقاعدہ اور مربوط مالیاتی نظام پر منتقل ہونے میں مدد دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی روزمرہ زندگی میں بہتری لاتی ہے، کیونکہ اس سے لاکھوں شہریوں کے لیے مالیاتی خدمات زیادہ قابلِ اعتماد، شمولیتی اور قابلِ رسائی بن جاتی ہیں۔‘‘
چکلالہ اسکیم-تھری کیش لیس بازار اس بات کی روشن مثال ہے کہ مقامی سطح کے قابلِ توسیع اقدامات قومی سطح پر بڑی تبدیلی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ حکومتی وژن کو مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مؤثر زمینی نفاذ کے ساتھ  مربوط کرکے جاز کیش اور موبی لنک بینک پاکستان کے ایک حقیقی کیش لیس معیشت کی جانب سفر کو مہمیز دے رہے ہیں۔

جمعہ، 3 اپریل، 2026

سی ای او ویون گروپ کی جانب سے موبی لنک بینک کے35 فیصد برانچ نیٹ ورک کی شمسی توانائی پر منتقلی کا خیرمقدم

کراچی ، موبی لنک بینک پاکستان میں اپنے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) وژن کے تحت تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھا کر پائیدار بینکاری کے شعبے میں ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کا مقصد ایک ذمہ دار، جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مالیاتی ادارے کے طور پر اپنا قائدانہ کردار اجاگر کرناہے۔ بینک کا ایک تہائی سے زائد ملک گیر برانچ نیٹ ورک اب قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو چکا ہے، جو کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور سب کے لیے  ایک قابلِ رسائی مالیاتی نظام کی دستیابی کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

اس حوالے سے ویون  (Veon)گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بورڈ ممبر، کان ترزی اوغلو نے موبی لنک بینک کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بینک کے جدید ڈیجیٹل آپریشنل ماڈل، صارف دوست مالیاتی سہولیات اور ماحولیاتی پائیداری سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے صارفین سے ملاقات کی اور اس بات کا مشاہدہ کیا کہ کس طرح بینک محفوظ، آسان اور جدید مالیاتی خدمات بڑے پیمانے پر فراہم کر رہا ہے۔

اس موقع پر ویون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کان ترزی اوغلو نے کہا،  "موبی لنک بینک کے نظام میں پائیدار ترقی کو ملحوظِ خاطر رکھنا نہایت بروقت اور مؤثر قدم ہے۔ گرین فنانسنگ کے فروغ کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات کو عام کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بینک ذمہ دارانہ ترقی کے لئے سنجیدہ ہے۔ یہ ایک روشن مثال ہے کہ ترقی پذیرممالک میں مالیاتی ادارے معاشی ترقی کو آگے بڑھا نے کے ساتھ ساتھ موثر ماحول دوست اقدامات بھی کر سکتے ہیں۔"



موبی لنک بینک کے صدر وسی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، "پائیدارترقی کا فروغ  موبی لنک بینک کا کوئی علیحدہ  ایجنڈا نہیں بلکہ ہماری ترقی کی بنیاد ہے۔ ہم پاکستان میں  خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں کیلئے ایک ایسا بڑا بینک بن کر ابھر رہے ہیں جو جدید ڈیجیٹل سہولیات، ای ایس جی اصولوں اور دور رس اثرات مرتب کرنے کے قابل ایک منفرد ماڈل  پر مبنی ہے۔ گرین فنانسنگ سے لے کر قابلِ تجدید توانائی کے استعمال تک، ہم اپنے ہر عمل میں سماجی و ماحولیاتی ذمہ داری کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔"

موبی لنک بینک کی ای ایس جی حکمت عملی میں گرین فنانسنگ، ذمہ دارانہ آپریشنز اور جامع ترقی کے پہلو شامل ہیں۔ بینک اب تک 2.9 ارب روپے کی گرین فنانسنگ فراہم کر چکا ہے تاکہ صاف توانائی اور ماحول دوست سفری سہولیات بشمول شمسی نظام کی طرف منتقلی اور ای بائیکس کو بالخصوص معاشرے کے نظرانداز طبقات میں فروغ دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بینک کے 35 فیصد برانچ نیٹ ورک کو قابلِ تجدید توانائی پر منتقل کرنا کاربن کے اخراج  میں کمی لانے کے نظام کی طرف واضح پیش رفت ہے۔

بینک اپنے پائیدار ترقی کے وژن کو مزید مستحکم بنانے کے لیے جدید اورڈیٹا پر مبنی نظام تشکیل دے رہا ہے جس کے ذریعے کاربن کے اخراج پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں کمی بھی لائی جاسکے گی۔ اس سلسلے میں خودکار ای ایس جی پلیٹ فارم کے تحت ابتدائی طور پر 4489 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جو مستقبل میں شفاف نگرانی اور کمی کے اہداف طے کرنے کی بنیاد بنے گا۔

موبی لنک بینک ماحولیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی میں بھی مسلسل نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ سال 2025 میں بینک نے 31 ہزار سے زائد خواتین کو مالیاتی سہولیات فراہم کر کے بااختیار بنایا۔ اسکے علاوہ، 50.30 ارب روپے کے لون پورٹ فولیو کے ذریعے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مالی رسائی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ موبی لنک بینک نے کمیونٹی کی بہتری کے لیے زندگی ٹرسٹ کے اشتراک سے خاتونِ پاکستان گورنمنٹ گرلز اسکول میں ڈیجیٹل آرٹس لیب کو شمسی توانائی پر منتقل کیا، جس سے 310 طالبات مستفید ہو رہی ہیں، جبکہ صاف پانی کے منصوبے کے ذریعے ایک ہزار سے زائد طلباء کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

جیسے جیسے پائیدارترقی جدید بینکاری کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے، موبی لنک بینک کا مربوط ای ایس جی طریقہ کار ماحولیاتی اعتبار سے پائیداری کو ایک مثبت تبدیلی کے طور پر پیش کرتا ہے کیونکہ بینک کا یہ طریقہ کار معاشی خودمختاری، ماحولیاتی ذمہ داری اور ڈیجیٹل جدت کے ذریعے زیادہ جامع اور پاکستان کے روشن مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔  ختم شد۔

جمعہ، 27 مارچ، 2026

ایچ بی ایل - پی ایس ایل 11، فاطمہ فرٹیلائزر آٹھویں سال بھی ملتان سلطانز کی مرکزی اسپانسر

لاہور،  پاکستان کی معروف کھاد بنانے والی کمپنی فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ پاکستان سپر لیگ (HBL-PSL) میں ملتان سلطانز کی ٹائٹل اسپانسر بن گئی ہے۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور میں ایک تقریب کے دوران کیے گئے۔

ٹائٹل اسپانسر کے طور پر فاطمہ فرٹیلائزر کا لوگو ملتان سلطانز کی جرسی کے پیچھے نمایاں طور پر نظر آئے گا، جو پاکستان کی مقبول ترین کرکٹ لیگ کے ساتھ کمپنی کے عزم کی علامت ہے۔ اس معاہدے پر فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز، رابیل سدوزئی، اور ملتان سلطانز کے سی ای او، گوہر شاہ نے دستخط کیے۔

یہ اسپانسرشپ فاطمہ فرٹیلائزر کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی جڑیں جنوبی پنجاب میں ہیں، جو ملتان سلطانز کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ یہ محض تشہیری سرگرمی نہیں بلکہ اس خطے کے ساتھ مضبوط رشتہ اور اپنائیت کی علامت ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر، جو طویل عرصے سے کسانوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی آ رہی ہے۔ اس شراکت داری کو اپنے مشن کا تسلسل سمجھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق کرکٹ پاکستان میں اتحاد اور جذبے کی ایک بڑی علامت ہے، جسے ملتان سلطانز بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔



تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز، مس رابیل سدوزئی نے کہا:
"کرکٹ محنت اور ترقی کے اس جذبے کی عکاسی کرتی ہے جسے ہم بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم ملتان سلطانز کے ساتھ ٹائٹل اسپانسر کے طور پر اپنی شراکت داری جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اس کے ساتھ ہم آٹھویں سال میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ تعلق باہمی اعتماد اور مشترکہ وژن پر قائم ہے۔

ہمارا ایک پلانٹ پاک عرب ملتان میں واقع ہے، اسی وجہ سے ملتان سلطانز کے ساتھ ہمارا تعلق بہت مضبوط ہے اور یہ شراکت داری فطری طور پر بالکل درست محسوس ہوتی ہے۔ یہ دیرینہ تعلق اعتماد اور مشترکہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صرف اسپانسرشپ نہیں بلکہ پاکستان بھر کے لاکھوں کرکٹ شائقین کے ساتھ ہمارا عزم ہے کہ ہم کھیل کے ہر لمحے میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔"

دستخطی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے ملتان سلطانز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، گوہر شاہ نے کہا،
"فاطمہ فرٹیلائزر ملتان سلطانز کا اہم حصہ ہے۔ وہ ہر مشکل اور آسان وقت میں ہمارے ساتھ رہے ہیں، اور اب ان کا لوگو ہماری جرسی پر ہونا ایک خوش آئند لمحہ ہے۔ یہ ہماری پارٹنرشپ کا آٹھواں سال ہے۔ ایک مضبوط اسپورٹس ٹیم بنانے کے لیے وفادار اور دور اندیش پارٹنرز ضروری ہوتے ہیں، اور فاطمہ فرٹیلائزر ہماری کارکردگی اور معیار کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم یہ سفر ایک ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

یہ شراکت داری فاطمہ فرٹیلائزر کے اس وژن کے مطابق ہے جس کا مقصد ملک بھر میں ایسے پلیٹ فارمز کی حمایت کرنا ہے جو اتحاد، جذبے اور بہترین کارکردگی کو فروغ دیں

بدھ، 25 مارچ، 2026

اسپاٹیفائی کی جانب سے نیا منفرد فیچر SongDNA متعارف

کراچی : اسپاٹیفائی نے سانگ ڈی این اے(SongDNA) کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد صارفین کے موسیقی سننے کے انداز کو مزید دلچسپ اور بھرپور بنانا ہے۔
 
یہ نیا فیچر فی الحال پریمیم صارفین کے لیے آزمائشی مرحلے میں جاری کیا جا رہا ہے۔ اس نئے فیچر کے ذریعے اب صارفین نہ صرف گانا سن سکیں گے بلکہ اس کے پیچھے کام کرنے والے رائٹرز، پروڈیوسرز اور دیگر تخلیق کاروں کے بارے میں بھی جان سکیں گے۔ اس کے علاوہ، گانے میں استعمال ہونے والے سیمپلز، انٹرپولیشنز اور بعد میں بننے والے کور ورژنز تک بھی باآسانی رسائی حاصل ہوگی۔



یہ فیچر موبائل ایپ میں ''Now Playing'' اسکرین کے اندر شامل کیا گیا ہے، جس سے صارفین صرف سننے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اپنی پسندیدہ موسیقی کو ایک نئے انداز میں دریافت کر سکیں گے۔

یہ فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

1.           اسپاٹیفائی کی موبائل ایپ میں کوئی بھی گانا چلائیں اور ''Now Playing'' اسکرین کھولیں۔

2.           نیچے اسکرول کریں، جہاں دستیاب گانوں میں SongDNA کارڈ نظر آئے گا۔

3.           اس پر کلک کر کے گانے کے تخلیق کار، سیمپلز، انٹرپولیشنز اور کورز دیکھیں، اور مزید معلومات جاننے کے لیے لنکس استعمال کریں۔

 
موسیقی کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

اسپاٹیفائی کا یہ نیا فیچر دراصل پہلے سے موجود فیچر ''About the Song'' کا ایک جدید اور وسیع ورژن ہے جو انکی پسندیدہ موسیقی کی گہری آگہی فراہم کرتا ہے۔  جہاں ''About the Song'' کسی ایک گانے کی کہانی بیان کرتا ہے، وہیں SongDNA صارفین کو ایک مکمل تجربہ فراہم کرتا ہے، جس میں وہ گانے کی دنیا میں داخل ہوکر اسکے مختلف پہلوؤں کو خود دریافت کر سکتے ہیں۔

یہ فیچر اس وقت دنیا بھر میں آئی فون اور اینڈرائڈ ڈیوائسز پر پریمیم صارفین کے لیے آزمائشی ورژن میں دستیاب ہے، اور اپریل میں تمام پریمیم صارفین کے لیے اسے جاری کر دیا جائے گا۔

جمعہ، 20 مارچ، 2026

وزارتِ تجارت کا گوشت کی برآمدات پر اضافی کارگو چارجز کا نوٹس، فوری کارروائی کی ہدایت


کراچی : وزارتِ تجارت نے گوشت برآمد کرنے والوں کی شکایات پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایوی ایشن حکام سے اضافی کارگو چارجز کے معاملے کی فوری تحقیقات اور حل طلب کر لیا ہے، جسے جاری تنازع میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 وزارتِ تجارت کی جانب سے 17 مارچ 2026 کو جاری کردہ ایک باضابطہ خط میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کراچی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کارگو ہینڈلنگ کمپنی جیریز ڈناتا کی جانب سے مبینہ طور پر عائد کیے گئے "غیر مجاز اضافی چارجز" کے معاملے کا جائزہ لے کر اسے حل کریں۔



یہ کارروائی آل پاکستان میٹ ایکسپورٹرز اینڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن (APMEPA) کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نئے چارجز کی وجہ سے برآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔

ایکسپورٹرز کے مطابق جیریز ڈناتا نے حال ہی میں گوشت کی برآمدات پر 50 روپے فی کلوگرام اضافی چارج عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں کھیپ کو ایکسپورٹ کے لیے پراسیس نہیں کیا جائے گا۔

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافی لاگت تقریباً 180 ڈالر فی ٹن بنتی ہے، جو عالمی منڈی میں پہلے سے سخت مقابلے کا سامنا کرنے والے پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

وزارتِ تجارت کے حکام نے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ 15 مارچ کو وزیراعظم کی زیر نگرانی سرپلس فوڈ آئٹمز کی جی سی سی ممالک کو برآمدات سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ اضافی چارجز واپس لے لیے گئے ہیں۔

تاہم برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور یہ چارجز بدستور وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر وزارت نے معاملے کو فوری طور پر حل کرنے اور برآمدکنندگان کے اطمینان تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

 وزارت نے متعلقہ حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔

برآمدکنندگان نے خبردار کیا ہے کہ کارگو چارجز میں غیر یقینی صورتحال گوشت جیسی خراب ہونے والی اشیاء کی برآمدات کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ یہ صنعت مکمل طور پر مربوط کولڈ چین اور ایئر کارگو نظام پر انحصار کرتی ہے۔

پاکستان کی گوشت برآمدی صنعت گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر ترقی کر چکی ہے اور اس وقت خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں کو حلال گوشت فراہم کر رہی ہے۔

صنعتی ماہرین کے مطابق برآمدات میں تسلسل کے لیے لاگت کا استحکام نہایت ضروری ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کو برازیل اور آسٹریلیا جیسے بڑے برآمدی ممالک سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ایکسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کارگو ہینڈلنگ چارجز کو شفاف اور ریگولیٹ کیا جائے، کیونکہ اچانک اور یکطرفہ اضافے نہ صرف صنعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی برآمدی حکمتِ عملی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں