Advertisement

جمعہ، 17 اپریل، 2026

میڈ اِن پاکستان۔ اسپاٹیفائی کے پاکستان میں 5 سال مکمل، موسیقی کی نئی دنیا اور مقامی ٹیلنٹ کی نمایاں پذیرائی

کراچی،  پاکستان میں موسیقی کا منظرنامہ تیزی سے دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔ آج موسیقی کے شائقین پہلے سے کہیں زیادہ مختلف انداز سے موسیقی دریافت کر رہے ہیں، چاہے وہ مختلف زبانیں ہوں، نسلیں ہوں یا موسیقی کے نئے تجربات ہوں۔ پاکستان میں اسپاٹیفائی اپنے آغاز کے پانچ سال کی تکمیل پر ایک ایسے سنگِ میل کا جشن منا رہا ہے جو صرف ترقی تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ لوگ موسیقی سے پہلے سے کہیں زیادہ گہرا تعلق قائم کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اسپاٹیفائی سال 2021  سے اب تک موسیقی سننے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اس دوران پلیٹ فارم پر شائقین موسیقی کی تعداد میں 750 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ پاکستانی صارفین نے 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد اپنی پلے لسٹس تیار کیں۔ یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ سامعین خود اپنی پسند کو ترتیب دے کر اپنے موسیقی کے سفر کو خود تشکیل دے رہے ہیں۔

Spotify Infographic.jpeg

یہ بڑی تبدیلی سامعین کے انداز میں بھی نظر آتی ہے۔ آج پاکستان میں اسپاٹیفائی کا ایک عام صارف سال بھر میں 140 سے زیادہ مختلف گلوکاروں کو سنتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی سامعین نئی موسیقی دریافت کرنے میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں۔

پاکستانی ہپ ہاپ، پاکستانی پاپ، اور قوالی سے لیکر علاقائی موسیقی تک مختلف انداز کے گیتوں میں پاکستان کے سامعین کی بھرپور دلچسپی نظر آرہی ہے۔ یہ رجحان ایک ایسے میوزک کلچر کی نشاندہی کرتا ہے جو روایت اور جدت کو یکجا کر کے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

جیسے جیسے موسیقی کی دنیا وسعت اختیار کررہی ہے، ویسے ہی پاکستانی گلوکاروں اور مقامی موسیقی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ سال 2021 کے بعد سے اس پلیٹ فارم پر پاکستانی گلوکاروں کے گیت سننے کی شرح میں سات گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جو مقامی ٹیلنٹ اور سامعین کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

اس دور کے نمایاں گلوکار بھی اس بڑی تبدیلی کا اعتراف کرتے ہیں۔ طلحہ انجم، عمیر اور حسن رحیم جیسے نئے ناموں سے لے کر عاطف اسلم اور نصرت فتح علی خان جیسے عظیم گلوکاروں تک سامعین باآسانی نئی اور پرانی موسیقی کے درمیان سفر کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کی موسیقی کی وسعت اجاگر ہوتی ہے۔

اسی طرح مانو اور انورال خالد کا گیت ''جھول''، افیوسک اور علی سومرو میوزک کا گیت ''پل پل''، حسن رحیم، عمیر اور تلویندر کا گیت ''Wishes''، عبدالحنان اور روالیو کا گیت ''بکھرا'' اور بیان، حسن رحیم اور روالیو کا گیت ''مانند'' جیسے گانے اسٹریمنگ دور کی نمایاں شناخت بن چکے ہیں۔

پاکستانی موسیقی کی ترقی میں اسپاٹیفائی کی سرمایہ کاری بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اسکی ''پکا ہٹ ہے'' جیسی پلے لسٹس آج کے مقبول گانوں کا مرکز بن چکی ہیں، جبکہ ''آئیکون پاکستان'' میں ملک کے بڑے گلوکاروں کی میراث کو سراہا جاتا ہے۔

پاکستانی میوزک کی دنیا بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اسپاٹیفائی کے آغاز کے بعد سے لیکر اب تک پاکستانی گلوکاروں کی تعداد میں تقریباً 75 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے نئے گلوکاروں کو مقامی اور عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے کا موقع مل رہا ہے۔

اس تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے اسپاٹیفائی مسلسل کام کر رہا ہے۔ ''ریڈار پاکستان''، ''ایکول پاکستان'' اور ''فریش فائنڈز پاکستان'' جیسے اقدامات کے ذریعے یہ پلیٹ فارم گلوکار کے لئے ہر مرحلے پر سرمایہ کاری جاری رکھتا ہے، نئے اور ابھرتے ہوئے گلوکاروں کو مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ تجربہ کار گلوکاروں کی نئی آڈیئنس تک رسائی میں معاونت کرتا ہے۔

اسپاٹیفائی کی آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپس منیجر برائے پاکستان، رطابہ یعقوب نے کہا، ''پاکستانی ثقافت میں موسیقی کا ہمیشہ سے نہایت اہم مقام رہا ہے، لیکن اب ہم ایک نئی سطح کا تعلق دیکھ رہے ہیں۔ لوگ زیادہ موسیقی تلاش کر رہے ہیں، تیزی سے نئی آوازوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، اور مقامی گلوکاروں کی بھرپور پذیرائی کررہے ہیں جس سے ان میں بااختیار ہونے کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی آوازوں سے لے کر عظیم گلوکاروں تک، آج پاکستانی موسیقی میں حقیقی رفتار اور توانائی نظر آتی ہے، اور یہ دیکھنا خوش آئند ہے کہ یہ سفر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔''

 

یہ تمام تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان میں موسیقی کا کلچر زیادہ کھلا، فعال اور دریافت پر مبنی ہے جہاں سامعین نہ صرف مقبولیت کا تعین کرتے ہیں بلکہ نئے گلوکاروں اور نئی آوازوں کو آگے لانے میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

سامعین اسپاٹیفائی کی ''میڈ اِن پاکستان'' پلے لسٹ کے ذریعے گزشتہ پانچ سال کے نمایاں گانوں کو سن سکتے ہیں۔

https://open.spotify.com/playlist/37i9dQZF1DXbdNlwEdmFJI

گزشتہ 5 سال میں پاکستان میں سب سے زیادہ سنے جانے والے پاکستانی گلوکار:
1. طلحہ انجم
2. عاطف اسلم
3. عمیر
4. حسن رحیم
5. نصرت فتح علی خان

گزشتہ 5 سال میں پاکستان میں سب سے زیادہ سنے جانے والے پاکستانی گانے:

1. مانو اور انورال خالد کا گیت ''جھول''
2. افیوسک، علی سومرو کا گیت ''پل پل''
3. حسن رحیم، عمیر، تلویندر کا گیت ''وشز''
4. عبد الحنان، روالیو کا گیت ''بکھرا''
5. بیان، حسن رحیم، روالیو کا گیت ''ماند''

جمعرات، 16 اپریل، 2026

میگا موٹر کمپنی اور ٹی پی ایل انشورنس کا اشتراک، BYD صارفین کو MMC Care کے تحت جامع تحفظ حاصل ہوگا

کراچی،  پاکستان میں دنیا کے نمبر ون نیو انرجی وہیکل (NEV) برانڈ،BYD کی آفیشل پارٹنر میگا موٹر کمپنی (MMC)نے ملک کی صف اول کی جنرل انشورنس کمپنی ٹی پی ایل انشورنس کے ساتھ اہم اشتراک کا معاہدہ کیا ہے۔ اس اشتراک کے تحت ایم ایم سی کیئر(MMC Care) کے نام سے ایک جامع تحفظ پلان متعارف کرایا گیا ہے، جو خاص طور پر BYD گاڑیوں کے مالکان کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس شراکت داری کے تحت ٹی پی ایل انشورنس کی جانب سےBYD کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نیو انرجی گاڑیوں کے لئے خصوصی اور جامع انشورنس پلان فراہم کیا جائے گا۔

ایم ایم سی کیئر کے تحت بی وائی ڈی گاڑی کے مالکان کو حادثات، چوری، نقصان اور اچانک خرابی جیسے غیر متوقع حالات میں مالی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس پالیسی کا مقصد ریپیئرنگ کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا اور ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ صارفین کو بوقت ضرورت مدد حاصل ہو۔

image.png


اس موقع پر بی وائی ڈی پاکستان۔ ایم ایم سی کے نائب صدر سیلز و اسٹریٹجی، دانش خالق نے کہا، ''پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں (NEVs)کے فروغ میں قائدانہ کردار کے ساتھ یہ شراکت داری صارفین کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹی پی ایل انشورنس کے ساتھ ہمارا اشتراک ایک اور سنگ میل ہے اور یہ BYD صارفین کے لیے ایک مکمل اور بہتر تجربہ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ گاڑی ایک قابل ذکر سرمایہ کاری ہوتی ہے، اور ایم ایم سی کیئر کے ذریعے ہم اس عمل کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ صارفین اپنی اس سرمایہ کاری کو مکمل اعتماد کے ساتھ محفوظ بنا سکیں۔''

ٹی پی ایل انشورنس کے سی او او سید علی حسن زید نے کہا، '' ہم ایم ایم سی کے اشتراک سے BYD صارفین کے لیے خصوصی انشورنس کی سہولت متعارف کرانے پر خوش ہیں۔ آٹو انڈسٹری خصوصی طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے پیش نظر جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ انشورنس حل فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔''

ایم ایم سی کیئر پروگرام BYD  کے نئے اور موجودہ دونوں صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، جس کے تحت گاڑی کے استعمال کے دوران صارفین کسی بھی مرحلے پر اس میں باآسانی شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ شراکت داری صارفین کو جامع انداز سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آٹو اور انشورنس انڈسٹری کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

کراچی میں اسپاٹیفائی کا خصوصی پروگرام پیڈل کھیل، موسیقی اور کمیونٹی کا خوبصورت امتزاج بن گیا

کراچی،  اسپاٹیفائی نے کراچی میں خصوصی پیڈل ایونٹ کا انعقاد کیا جہاں شہر کے تخلیق کاروں اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد کھیل، موسیقی اور کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے تعلق کو اجاگر کرنا تھا جو تیزی سے شہری زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے۔

یہ ایونٹ ''ہاؤس آف پیڈل'' میں منعقد ہوا جہاں شہر بھر سے معروف تخلیق کاروں اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات کا خیرمقدم کیا گیا۔ ان میں عائلہ عدنان، حاجرہ یامین اور ارشنستان سمیت کراچی سے تعلق رکھنے والی دیگر قابل ذکر شخصیات شامل ہیں۔ یہ ایک پرجوش اور سماجی نوعیت کا پروگرام تھا جس میں یہ دکھا یا گیا کہ کھیل اور موسیقی جیسے مشترکہ شوق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لارہے ہیں اور انکے وقت گزارنے کے انداز کو بدل رہے ہیں۔

اس پروگرام کی میزبانی اقصیٰ منظور نے سرانجام دی، جبکہ ''ڈسگائز اِن ہوڈی'' کی زبردست ڈی جے پرفارمنس نے ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا۔ اس پورے پروگرام کے دوران پیڈل کورٹ کے اندر اور باہر موسیقی کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ اس دوران اسپاٹیفائی کی پیڈل فیور پلے لسٹ بھی نمایاں رہی جس نے کھیل کے ساتھ ایک خاص ردھم اور توانائی پیدا کی۔

WhatsApp Image 2026-04-14 at 9.52.54 AM.jpeg

اس پروگرام میں اسپاٹیفائی کے مکس فیچر کو دلچسپ انداز سے سامنے لایا گیا جو پاکستان میں پریمیئم صارفین کے پاس موجود ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ گانوں کو کس طرح ہموار انداز سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ تقریب کو اس طرح جاندار بنانے کی بدولت مہمانوں میں موسیقی سے لطف اٹھانے کا عمل مزید انٹرایکٹو اور پرجوش رہا۔

س موقع پر اسپاٹیفائی کے مارکیٹنگ منیجربرائے پاکستان، طلحہ ہاشم نے کہا، ''موسیقی ہماری زندگی کا پہلے سے ہی حصہ بن چکی ہے اور وہ لوگوں کو کھیل سے قبل، کھیل دوران جوڑنے کا کام سامنے لاتی ہے۔پیڈل اس کی بڑی قابل ذکر مثال ہے۔ یہ محض کھیل ہی نہیں ہے بلکہ پیڈل کورٹ کے ساتھ ساتھ یہ توانائی اور کمیونٹی لوگوں کو ماحول کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ یہاں موسیقی قدرتی طور پر اپنا راستہ بناتی ہے۔ اس طرح کے تجربات کا مقصد انہی لمحات میں شامل ہونا ہے اور پاکستان میں ہمارے صارفین اس طریقے سے ہم آہنگ ہونے کے لئے پہلے سے ہی اسپاٹیفائی کو استعمال کرتے ہیں۔ "

ایسے اقدامات کے ذریعے اسپاٹیفائی پاکستان میں موسیقی کے کلچر کو فروغ دے رہا ہے اور لوگوں کو مشترکہ اور عملی زندگی کے تجربات کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لارہا ہے۔

صارفین اسپاٹیفائی کی ''پیڈل فیور'' پلے لسٹ سن کر اس منفرد تجربے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور توانائی کی شکل میں اس موسیقی کو اپنے ہمراہ رکھ سکتے ہیں۔

https://open.spotify.com/playlist/37i9dQZF1DXdwBVJ7FmyRu

WhatsApp Image 2026-04-14 at 9.52.59 AM.jpeg

پیر، 13 اپریل، 2026

​فریز لینڈ کیمپینا نے اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز کے ساتھ ای پی سی معاہدہ، ڈی کاربنائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کا اعلان

کراچی، 13 اپریل 2026: فریز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) جو ڈیری اور غذائیت کے شعبے میں ایک معروف کثیر القومی ادارہ ہے، نےاے ٹو زیڈ انرجی سسٹمزکے ساتھ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے تاکہ 2 میگاواٹ کے سولر فوٹو وولٹک (PV) پلانٹ کو 4 میگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کے ساتھ مربوط کر کے نافذ کیا جا سکے۔ یہ تعیناتی فریز لینڈ کیمپینا کے ڈی کاربنائزیشن اسٹریٹجی کے لیے اس کے طویل المدتی عزم اور اپنی آپریشنز میں پائیدار توانائی کے حل کو شامل کرنے کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

یہ ہائبرڈ سسٹم جو فریز لینڈ کیمپینا کے آپریشنل سائٹس پر تعینات کیا جا رہا ہے، توانائی کی لاگت کی کارکردگی کو بہتر بنانے، بجلی کی فراہمی کی قابلِ اعتمادیت کو بڑھانے اور بڑھتے ہوئے ٹیرف کے درمیان گرڈ کے اتار چڑھاؤ سے نمائش کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ بہتر توانائی ڈسپیچ کو ممکن بنائے گا، پیک شیونگ کی حمایت کرے گا اور لوڈ مینجمنٹ کو مضبوط کرے گا جس سے آپریشنل مضبوطی میں اضافہ ہوگا اور قابلِ پیمائش مالی فوائد فراہم ہوں گے۔

مسٹر کاشان حسن، سی ای او رمنیجنگ ڈائریکٹر، فریز لینڈ کیمپینا نے کہا” ایک پائیدار اور مضبوط توانائی کا انفراسٹرکچر ہمارے مستقبل کے وژن کے مرکز میں ہے۔اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمزکے ساتھ ہماری شراکت داری ڈیری فارمنگ کے کاربن فُٹ پرنٹ کو کم کرنے کی ہماری کوششوں میں ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ فریز لینڈ کیمپینا کے“Doing DAIRY Right’’ کے وژن سے بھی ہم آہنگ ہے جس میں فطرت کے ساتھ توازن میں رہنا شامل ہے۔ شمسی توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم ایک لاگت مؤثر اور پائیدار طریقہ کار تیار کر رہے ہیں جو غیر قابلِ تجدید وسائل پر انحصار کو کم کرتا ہے اور ڈیری سیکٹر کے لیے مالی پائیداری کو بہتر بناتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے مجھے ایک ایسی کمپنی کی قیادت پر فخر ہے جو ترقی کو فروغ دینے اور پاکستان کے لیے ایک پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے۔ “

WhatsApp Image 2026-04-13 at 5.30.18 PM.jpeg

اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز، انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (EPC) کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے اس منصوبے کو مکمل، تیار اور قابلِ استعمال حالت میں فراہم کیا جائے گا۔ جدید توانائی کے نظام میں اپنی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنی بین الاقوامی معیار کے مطابق بہترین ڈیزائن، ہموار انضمام اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

 مسٹر انور الحسن، چیئرمین، اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز نے کہا” یہ منصوبہ صنعتی توانائی کی حکمت عملیوں میں پائیداری اور مالی کارکردگی کے بڑھتے ہوئے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم فریز لینڈ کیمپینا کی ایک مستقبل کے لیے تیار توانائی کے حل کی تعیناتی میں معاونت کر رہے ہیں جو ماحولیاتی اور معاشی دونوں قدر فراہم کرتا ہے۔“

یہ منصوبہ صنعتی توانائی کی منتقلی کے لیے ایک قابلِ توسیع ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے جو صاف توانائی کی پیداوار کو اسٹوریج کے ساتھ یکجا کر کے کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بناتا ہے اور طویل المدتی قدر کو ممکن بناتا ہے۔ کمیشننگ کے بعد توقع ہے کہ یہ نظام مستحکم توانائی لاگت کی بچت فراہم کرے گا، روایتی گرڈ پر انحصار کو کم کرے گا اور آپریشنل تسلسل کو بہتر بنائے گاجس سے زیادہ اثاثہ استعمال اور بہتر منافع حاصل ہوگا۔

یہ شراکت داری نہ صرف فریز لینڈ کیمپینا کے ڈیری فارمنگ کے کاربن فُٹ پرنٹ کو کم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز کی ایک معروف رینیوایبل مائیکرو گرڈز فراہم کنندہ کے طور پر مہارت کو بھی اجاگر کرتی ہے جو پاکستان کے لیے ایک سرسبز اور زیادہ پائیدار مستقبل کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔

ہفتہ، 11 اپریل، 2026

سپر نیٹ ٹیکنالوجیز کی ذیلی کمپنی کا ملک کے معروف بینک کے ساتھ ملٹی ملین ڈالر کا سائبر سیکیوریٹی معاہدہ

کراچی: سپرنیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ نے پاکستان کے مالیاتی خدمات کے شعبہ میں اپنی موجودگی کو مضبوط بناتے ہوئے اپنی ذیلی کمپنی سپرنیٹ سیکیورسلوشنز(پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ذریعے ایک معروف بینک کے ساتھ ملٹی ملین ڈالر کا سائبر سیکیوریٹی معاہدہ کیا ہے۔

 

سپرنیٹ سیکیورسلوشنز نے پاکستان کے بڑے بینکوں میں سے ایک بینک کے ساتھ 5سالہ معاہدہ کیا ہے۔ 2021میں کیے گئے 5سالہ معاہدے کی کامیاب تکمیل کے بعد مسلسل دوسری مرتبہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان طویل المدّتی کاروباری تعلقات کے تسلسل کی عکاسی ہے۔

 

نئے معاہدے کے تحت سپرنیٹ سیکیورسلوشنز،بینک کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرنے کیلئے زیادہ جدید اوراپ گریڈڈ سائبر سیکیوریٹی سلوشن فراہم کرے گی۔

 اس منصوبہ کے تحت اینڈ پوائنٹ سیکیوریٹی سسٹمز نافذ کیے جائیں گے جو ملک بھر میں بینک کے 10ہزار سے زائد ملازمین کے ڈیجیٹل ماحول کو تحفظ فراہم کریں گے واضح رہے کہ یہ شعبہ مالیاتی اداروں کیلئے سائبررسک کے حساس ترین پہلوؤں میں شمار کیا جاتاہے۔

 

کمپنی کے مطابق ملٹی ملین ڈالر کا معاہدہ اگلے 5سالوں میں اس کے سائبر سیکیوریٹی ریونیوپائپ لائن میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

 

اس معاہدہ کے علاوہ سپرنیٹ سیکیورسلوشنز پہلے ہی اس بینک کے ساتھ 3سالہ خصوصی رسائی کے انتظام کے سلوشن (Privileged Access Management)پر کام کررہی ہے جبکہ کمپنی ماضی میں بھی بینک کے بین الاقوامی آپریشنز کیلئے مختلف سائبر سیکیوریٹی خدمات فراہم کرچکی ہے۔

 

انڈسٹری مبصرین کے مطابق اس طرح کے معاہدوں کی تجدید نہ صرف کلائنٹ کے ساتھ مضبوط اور دیرپا تعلق کی عکاسی ہیں بلکہ پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ اور سائبرخطرات کے پیشِ نظر جدید سائبر سیکیوریٹی سلوشنز کی بڑھتی ہوئی طلب کو بھی ظاہرکرتے ہیں۔

 

کمپنی کے مطابق نئے معاہدے کے مالیاتی اثرات پورے معاہدے کی مدّت کے دوران مثبت رہنے کی توقع ہے جو اس کی طویل المدّتی ترقی کی حکمتِ عملی کو مزید تقویت دیں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپر نیٹ ٹیکنالوجیز ہائی ویلیو ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور سائبر سیکیوریٹی کے شعبوں میں اپنی موجودگی کو تیزی سے بڑھارہی ہے اور خود کو انٹر پرائز اور مالیاتی شعبے کے کلائنٹس کیلئے ایک اہم ٹیکنالوجی پارٹنر کے طورپر مستحکم کررہی ہے۔

جمعہ، 10 اپریل، 2026

وزیرِ اعظم کا کیش لیس معیشت کا وژن: موبی لنک بینک اور جاز کیش نے چکلالہ اسکیم-تھری بازار کو کیش لیس بازار بنا دیا



اسلام آباد – : پاکستان کے صفِ اول کے ڈیجیٹل مائیکرو فنانس بینک، موبی لنک بینک اور پاکستان کے نمایاں ڈیجیٹل مالیاتی  پلیٹ فارم، جاز کیش (Jazzcash)  نے راولپنڈی میں چکلالہ اسکیم-تھری کیش لیس بازار کا افتتاح کر دیا ہے، جہاں 900 دکانوں اور ٹھیلوں پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی قیادت میں وزیرِ اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے تحت روزمرہ ضروریات کے بازاروں میں ڈیجیٹل مالیاتی ڈھانچے کو فروغ دینے اور لین دین کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی اسٹیشن کمانڈر راولپنڈی، بریگیڈیئر سید علی انجم تھے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر رضوان خلیل شمسی، موبی لنک بینک کے چیف بزنس آفیسر، عطاء الرحمٰن، جاز کیش اور موبی لنک بینک کے اعلیٰ حکام، مقامی تاجران اور دیگر افراد بھی موقع پر موجود تھے۔
اس منصوبے کا بنیادی جزو بازار بھر کی دکانوں اور ٹھیلوں پر ادائیگیوں کے نظام ’راست‘ سے منسلک کیو آر کوڈز کی تنصیب ہے، جس کے ذریعے تاجر موبائل والٹس کے ذریعے فوری اور محفوظ ادائیگیاں براہِ راست وصول کر سکتے ہیں۔ اس اقدام سے نقد رقم کے استعمال سے منسلک مشکلات  میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ صارفین کو رقوم کی فوری منتقلی کی بدولت ایک آسان چیک آؤٹ تجربہ فراہم ہوگا، جس سے روزمرہ خریداری تیز اور زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔ موبی لنک بینک منصوبے میں شامل تمام تاجروں کے لیے بزنس پلس اکاؤنٹس کھولے گا اور مختلف مالیاتی سہولیات فراہم کرے گا، جن میں ہیلتھ اور فائر انشورنس، ایس ایم ای قرضے، اور سولر و الیکٹرک وہیکل فنانسنگ شامل ہیں۔

WhatsApp Image 2026-04-09 at 7.59.33 PM.jpeg

منصوبے کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے موبی لنک بینک کے صدر و سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، ’’موبی لنک بینک کے ڈیجیٹل فرسٹ نظریے کے تحت ہم سمجھتے ہیں کہ کیش لیس معیشت کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے جہاں روزمرہ کاروبار ہوتا ہے ، یعنی ہمارے مقامی بازاروں سے۔ یہ اقدام چھوٹے تاجروں کو ایک زیادہ محفوظ اور جامع مالیاتی نظام میں شامل کرے گا۔ جاز کیش جیسے فن ٹیک پلیٹ فارمز کے ذریعے زمینی سطح پر سہولت فراہم کرتے ہوئے ہم لین دین کو آسان بنا رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مالی شمولیت کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘

جاز کیش کے سی ای او مرتضیٰ علی نے کہا، ’’وزیرِ اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کی تکمیل کا انحصار زیادہ لین دین والے کاروباری شعبوں کی مؤثر ڈیجیٹلائزیشن پر ہے۔ پاکستان میں بازار روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے لین دین کا سب سے بڑا مرکز ہیں، اور جاز کیش اس تبدیلی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کررہا  ہے، اور اسے ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد راست سے منسلک کیو آر مرچنٹس کے نیٹ ورک کی معاونت حاصل ہے۔ ان مقامات پر بغیر رکاوٹ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے ذریعے ہم تاجروں کو ایک باقاعدہ اور مربوط مالیاتی نظام پر منتقل ہونے میں مدد دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی روزمرہ زندگی میں بہتری لاتی ہے، کیونکہ اس سے لاکھوں شہریوں کے لیے مالیاتی خدمات زیادہ قابلِ اعتماد، شمولیتی اور قابلِ رسائی بن جاتی ہیں۔‘‘
چکلالہ اسکیم-تھری کیش لیس بازار اس بات کی روشن مثال ہے کہ مقامی سطح کے قابلِ توسیع اقدامات قومی سطح پر بڑی تبدیلی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ حکومتی وژن کو مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مؤثر زمینی نفاذ کے ساتھ  مربوط کرکے جاز کیش اور موبی لنک بینک پاکستان کے ایک حقیقی کیش لیس معیشت کی جانب سفر کو مہمیز دے رہے ہیں۔

جمعہ، 3 اپریل، 2026

سی ای او ویون گروپ کی جانب سے موبی لنک بینک کے35 فیصد برانچ نیٹ ورک کی شمسی توانائی پر منتقلی کا خیرمقدم

کراچی ، موبی لنک بینک پاکستان میں اپنے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) وژن کے تحت تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھا کر پائیدار بینکاری کے شعبے میں ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کا مقصد ایک ذمہ دار، جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مالیاتی ادارے کے طور پر اپنا قائدانہ کردار اجاگر کرناہے۔ بینک کا ایک تہائی سے زائد ملک گیر برانچ نیٹ ورک اب قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو چکا ہے، جو کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور سب کے لیے  ایک قابلِ رسائی مالیاتی نظام کی دستیابی کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

اس حوالے سے ویون  (Veon)گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بورڈ ممبر، کان ترزی اوغلو نے موبی لنک بینک کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بینک کے جدید ڈیجیٹل آپریشنل ماڈل، صارف دوست مالیاتی سہولیات اور ماحولیاتی پائیداری سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے صارفین سے ملاقات کی اور اس بات کا مشاہدہ کیا کہ کس طرح بینک محفوظ، آسان اور جدید مالیاتی خدمات بڑے پیمانے پر فراہم کر رہا ہے۔

اس موقع پر ویون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کان ترزی اوغلو نے کہا،  "موبی لنک بینک کے نظام میں پائیدار ترقی کو ملحوظِ خاطر رکھنا نہایت بروقت اور مؤثر قدم ہے۔ گرین فنانسنگ کے فروغ کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات کو عام کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بینک ذمہ دارانہ ترقی کے لئے سنجیدہ ہے۔ یہ ایک روشن مثال ہے کہ ترقی پذیرممالک میں مالیاتی ادارے معاشی ترقی کو آگے بڑھا نے کے ساتھ ساتھ موثر ماحول دوست اقدامات بھی کر سکتے ہیں۔"



موبی لنک بینک کے صدر وسی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، "پائیدارترقی کا فروغ  موبی لنک بینک کا کوئی علیحدہ  ایجنڈا نہیں بلکہ ہماری ترقی کی بنیاد ہے۔ ہم پاکستان میں  خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں کیلئے ایک ایسا بڑا بینک بن کر ابھر رہے ہیں جو جدید ڈیجیٹل سہولیات، ای ایس جی اصولوں اور دور رس اثرات مرتب کرنے کے قابل ایک منفرد ماڈل  پر مبنی ہے۔ گرین فنانسنگ سے لے کر قابلِ تجدید توانائی کے استعمال تک، ہم اپنے ہر عمل میں سماجی و ماحولیاتی ذمہ داری کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔"

موبی لنک بینک کی ای ایس جی حکمت عملی میں گرین فنانسنگ، ذمہ دارانہ آپریشنز اور جامع ترقی کے پہلو شامل ہیں۔ بینک اب تک 2.9 ارب روپے کی گرین فنانسنگ فراہم کر چکا ہے تاکہ صاف توانائی اور ماحول دوست سفری سہولیات بشمول شمسی نظام کی طرف منتقلی اور ای بائیکس کو بالخصوص معاشرے کے نظرانداز طبقات میں فروغ دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بینک کے 35 فیصد برانچ نیٹ ورک کو قابلِ تجدید توانائی پر منتقل کرنا کاربن کے اخراج  میں کمی لانے کے نظام کی طرف واضح پیش رفت ہے۔

بینک اپنے پائیدار ترقی کے وژن کو مزید مستحکم بنانے کے لیے جدید اورڈیٹا پر مبنی نظام تشکیل دے رہا ہے جس کے ذریعے کاربن کے اخراج پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں کمی بھی لائی جاسکے گی۔ اس سلسلے میں خودکار ای ایس جی پلیٹ فارم کے تحت ابتدائی طور پر 4489 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جو مستقبل میں شفاف نگرانی اور کمی کے اہداف طے کرنے کی بنیاد بنے گا۔

موبی لنک بینک ماحولیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی میں بھی مسلسل نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ سال 2025 میں بینک نے 31 ہزار سے زائد خواتین کو مالیاتی سہولیات فراہم کر کے بااختیار بنایا۔ اسکے علاوہ، 50.30 ارب روپے کے لون پورٹ فولیو کے ذریعے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مالی رسائی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ موبی لنک بینک نے کمیونٹی کی بہتری کے لیے زندگی ٹرسٹ کے اشتراک سے خاتونِ پاکستان گورنمنٹ گرلز اسکول میں ڈیجیٹل آرٹس لیب کو شمسی توانائی پر منتقل کیا، جس سے 310 طالبات مستفید ہو رہی ہیں، جبکہ صاف پانی کے منصوبے کے ذریعے ایک ہزار سے زائد طلباء کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

جیسے جیسے پائیدارترقی جدید بینکاری کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے، موبی لنک بینک کا مربوط ای ایس جی طریقہ کار ماحولیاتی اعتبار سے پائیداری کو ایک مثبت تبدیلی کے طور پر پیش کرتا ہے کیونکہ بینک کا یہ طریقہ کار معاشی خودمختاری، ماحولیاتی ذمہ داری اور ڈیجیٹل جدت کے ذریعے زیادہ جامع اور پاکستان کے روشن مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔  ختم شد۔

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں