منگل، 12 مئی، 2026

لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ اور پاور ڈویژن کے اشتراک سے صحافیوں کو پاور سیکٹر کے بنیادی معاملات پر آگہی کے لیے لمز میں ورکشاپ کا انعقاد

میڈیا پاور سیکٹر کے بارے میں درست اور متوازن معلومات عوام تک پہنچائے: وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری
 
لاہور ;  لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ (LEI) اور وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے اشتراک سے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ''صحافیوں کی پاور سیکٹر کے بنیادی معاملات پر تربیت'' کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو پاکستان کے پاور سیکٹر اور اس کے مستقبل کے بارے میں بہتر آگاہی فراہم کرنا تھا۔

وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے ورکشاپ سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاور سیکٹر سے متعلق درست، متوازن اور حقائق پر مبنی معلومات عوام تک پہنچانا ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کے بارے میں پائی جانے والی کئی غلط فہمیاں نامکمل اورغلط معلومات کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادھوری معلومات پر مبنی تجزیے اور خبریں اصل صورتِ حال کو واضح نہیں کرتیں۔ وزیر توانائی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاور سیکٹر سے متعلق شفاف اور مستند معلومات مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیر توانائی نے اہم اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت رواں سال کے دوران ایک کروڑ بجلی صارفین کو ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (AMI) پر منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مستقبل میں درآمدی ایندھن پر مبنی نئے آزاد بجلی گھروں (IPPs) کا قیام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات مکمل کیے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں آئندہ دس سے پندرہ سال کے دوران بجلی صارفین کے لیے تقریباً 3.5 کھرب روپے کی بچت ممکن ہو سکے گی۔

ILC00242.JPG

وفاقی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں متعارف کرائی گئی سولر پالیسی سے ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کی رفتار متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز میں سرمایہ کاری کے لیے حکومتی حمایت کا اعادہ کیا اور بتایا کہ صنعتی و تجارتی صارفین کو دن کے اوقات میں مزید سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ورکشاپ میں ملک کے نمایاں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا سائنسز کے طلبہ نے شرکت کی۔ شرکاء کو پاکستان کے بجلی کے شعبے کا جامع جائزہ پیش کیا گیا جس میں بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم، ٹیرف کے نظام، سبسڈیز، گردشی قرضہ، شمسی توانائی اور آزاد مارکیٹ اصلاحات شامل تھیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری، وزارت توانائی (پاور ڈویژن) محفوظ بھٹی نے استقبالیہ خطاب میں توانائی کے شعبے کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے میں باخبر صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کے تکنیکی سیشنز میں معروف توانائی ماہرین، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (NGC) اور سینئر ایڈوائزر لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ، ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری؛ چیف کارپوریٹ فنانس اینڈ ریگولیٹری افیئرز، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC)، نوید قیصر؛ سسٹم پلاننگ کنسلٹنٹ، انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO)، عمر فاروق اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر (مارکیٹ آپریشنز) آئی ایس ایم او عمر ہارون ملک نے شرکت کی۔

ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے زور دیا کہ بجلی کی ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ، توانائی کے مؤثر استعمال سے متعلق اصلاحات پاکستان کے توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر میڈیا نمائندوں کی استعداد میں اضافہ انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ درست، باخبر اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ اور توانائی کے شعبے کے لیے عملی اور مؤثر حل پیش کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے پاکستان کے پاور سسٹم کی استعداد کار، ڈسپیچ نظام، ٹیرف ڈیزائن، سبسڈیز، گردشی قرضے، نیٹ میٹرنگ، ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ، الیکٹریفیکیشن اور مستقبل کی مارکیٹ اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

آخر میں پاور ڈویژن کے ایڈوائزر برائے انرجی سید فیضان علی نے ''پاکستان کے پاور سیکٹر کا مستقبل: حکومتی وژن اور سٹریٹجک ترجیحات'' کے عنوان سے پریزنٹیشن دی جس میں توانائی شعبے کی کارکردگی، استعداد اور پائیداری بہتر بنانے کے لیے جاری حکومتی اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا۔ ورکشاپ کے دوران ایک تفصیلی اور انٹرایکٹو سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں شرکاء نے ماہرین سے براہِ راست سوالات کیے اور پاکستان کے پاور سیکٹر کو درپیش چیلنجز اور مواقع کے بارے میں آگہی حاصل کی۔

پیر، 27 اپریل، 2026

پی ٹی سی ایل اور یوفون نے ایفّی ایوارڈز میں 8 اعزازات کے ساتھ ’مارکیٹر آف دی ایئر‘ کا خطاب بھی اپنے نام کرلیا

اسلام آباد –  پاکستان کی صفِ اوّل کی ٹیلی کمیونی کیشن اور ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں، پی ٹی سی ایل اور یوفون، نے ایفّی ایوارڈز(Effie Awards 2026) میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 8 ایوارڈز اپنے نام کیے، جن میں 3 گولڈ، 2 سلور اور 3 برونز اعزازات شامل ہیں۔

کو اس کے علاوہ پی ٹی سی ایل اور یوفون کو معتبر ترین ’ایفیکٹو مارکیٹر آف دی ایئر 2025–26‘ (Effective Marketer of the Year) کا اعزاز بھی سونپا گیا، جو مختلف شعبہ جات میں بہترین کارکردگی دکھانے والے مارکیٹنگ اداروں کو دیا جاتا ہے۔ ایفّی ایوارڈز کو عالمی سطح پر مارکیٹنگ کے شعبے میں ایک معتبر معیار کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں قابلِ پیمائش کاروباری نتائج فراہم کرنے والے آئیڈیاز کو سراہا جاتا ہے اور انہیں حکمتِ عملی، عملدرآمد اور اثر انگیزی کی کسوٹی پر سختی سے جانچا جاتا ہے۔ایفی ایوارڈز میں اس شاندار کامیابی سے نتیجہ خیز اور ملک بھر میں صارفین کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے والی اشتہاری مہمات کی تیاری کے حوالے سے سےپی ٹی سی ایل اور یوفون کا رہنما کردار مزید مستحکم ہوا ہے۔

WhatsApp Image 2026-04-27 at 2.57.37 PM (1).jpeg

اس سال ایک نمایاں کامیابی انٹرنیٹ اینڈ ٹیلی کام کیٹیگری میں حاصل ہوئی، جہاں پی ٹی سی ایل اور یوفون نے گولڈ اور سلور دونوں ایوارڈز جیتے۔ یوفون کی فلیگ شپ مہم ’’ڈیٹا بہت ہے‘‘ نے گولڈ ایوارڈ حاصل کیا، جبکہ ’’بابر کا فون گم ہوگیا‘‘ مہم کو سوشل میڈیا (سروسز) میں گولڈ ایوارڈ دیا گیا، اس کے ساتھ ’’سوہنی ماہیوال‘‘ کے لیے سلور ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔

دیگر اعزازات میں’’ہاکی ہے پاکستان کی شان‘‘ کے لیے پیشن فار پاکستان کیٹیگری میں گولڈ؛ ’’دل سے بااختیار‘‘ کے لیے پازیٹو چینج – سوشل گڈ (برانڈز) کیٹیگری میں سلور؛ یوپیسہ کے لیے سیزنل مارکیٹنگ کے شعبے میں برونز؛ پشاور زلمی اور یوفون شراکت داری کے لیے برانڈ انٹیگریشن اینڈ انٹرٹینمنٹ پارٹنرشپ کے شعبے میں برونز؛ اور پی ٹی سی ایل اور یوفون کے سماجی خدمت کے پلیٹ فارم ’’دل سے‘‘ کے لیے کارپوریٹ ریپوٹیشن میں برونز ایوارڈ شامل ہیں۔
یہ کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پی ٹی سی ایل اور یوفون تخلیقی صلاحیت، ثقافتی ہم آہنگی اور مقصد یت پر مبنی اشتہار سازی کے ذریعے بامعنی نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مزاح پر مبنی ڈیجیٹل انگیجمنٹ سے لے کر جدید اندازِ بیان، قومی فخر کو اجاگر کرنے، خواتین کاروباری افراد کو بااختیار بنانے، اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مضبوط کرنے سے لے کر سماجی شمولیت کو فروغ دینے تک، ہر مہم پی ٹی سی ایل اور یوفون کی جانب سے ایک ایسے برانڈ کی تشکیل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ، جو صارفین اور کمیونٹیز دونوں کے لیے دیرپا افادیت پیدا کر سکے ۔
ٹیلی کمیونی کیشن سروسز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، کھیل، ثقافت اور مقصدیت پر مبنی اقدامات پر محیط یہ کامیابیاں اس بات کا مظہر ہیں کہ پی ٹی سی ایل اور یوفون کا مارکیٹنگ کے حوالے سے ایک جامع نقطۂ نظر ہے، جہاں کاروباری کامیابی اور سماجی خدمت شانہ بشانہ آگے بڑھتے ہیں۔

جمعہ، 24 اپریل، 2026

فیصل بینک نے31مارچ 2026 کیلئے مستحکم مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

کراچیفیصل بینک لمیٹڈ (ایف بی ایل) نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مستحکم مالیاتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10.8 ارب روپے کا قبل از ٹیکس جبکہ 5.2 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا۔ فی حصص آمدن 3.40 روپے رہی۔ بینک نے اپنی کارکردگی اور مستقبل کے مثبت امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے 1.5 روپے فی شیئر (15 فیصد) عبوری نقد منافع کا اعلان کیا ہے۔

ایف بی ایل نے مضبوط و مستحکم بیلنس شیٹ کو برقرار رکھا اور اس کے کُل اثاثے 1.7 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو اس کی مضبوط مالی بنیاد کی عکاسی کرتی ہے۔ بینک نے اپنی ڈپازٹ مکس کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھی، خصوصاً بنیادی کرنٹ اکاؤنٹس کے فروغ پر حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جس کی بنیاد تجارتی و ٹرانزیکشنل سرگرمیوں میں اضافہ اور بڑھتے ہوئے صارفین و برانچ نیٹ ورک ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹس (سی اے) میں بہتری دیکھی گئی اور یہ دسمبر 2025 کے مقابلے میں 15 فیصد اضافے کے ساتھ 614 ارب روپے پر جا پہنچا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ مکس میں بھی نمایاں بہتری آئی اور یہ 46.2 فیصد تک پہنچ گیا (دسمبر 2025: 37.5 فیصد)، جبکہ CASA ریشو بھی بہتر ہوکر 85.5 فیصد رہی (دسمبر 2025: 81.9 فیصد)۔ اس عرصے میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (ADR) مارچ 2026 تک 58.4 فیصد پر آگئی (دسمبر 2025: 61.1 فیصد)، جبکہ اثاثہ جات میں استحکام رہا اور انفیکشن ریشو 2.4 فیصد پر مستحکم رہی۔

مجموعی طور پر بینک کی مالیاتی کارکردگی اس کے مضبوط کاروباری اصولوں، محتاط رسک مینجمنٹ اور واضح و منظم گروتھ اسٹریٹجی کی عکاسی کرتی ہے۔ بینک کی توجہ ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی صارف مرکوز سلوشنز پر بڑھ رہی ہے، جس سے اس کی مستقبل کی سمت مزید مستحکم ہوگی۔

فیصل بینک کے چیئرمین میاں محمد یونس نے بینک کی کارکردگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا، ”الحمدللہ، مارچ 2026 کو ختم ہوئی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج ایف بی ایل کے اسلامی بینکاری ماڈل اور نیٹ ورک پر مبنی گروتھ کی پختگی اور گہرائی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس عرصے کے نتائج براہِ راست بورڈ کی طویل المدتی اسٹریٹجک سمت کا نتیجہ ہیں، جس کا بنیادی فوکس بینک کے نیٹ ورک کی تیز رفتار توسیع اور قلیل و متوسط مدت میں کم لاگت بنیادی ڈپازٹس میں مسلسل اضافہ ہے۔ میں اپنے معزز صارفین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کا اعتماد اور بھروسہ ہماری پیش رفت کا بنیادی ستون ہے اور ایک نمایاں شریعہ کمپلائنٹ ادارے کے طور پر ہماری مسلسل کامیابیوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔“

فیصل بینک کے صدر و سی ای او یوسف حسین نے کہا، ”ایف بی ایل اپنی مضبوط پروڈکٹ آفرنگز اور وسیع نیٹ ورک کی بنیاد پر مزید پیش رفت کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔ یہ پیش رفت ریجنل آپریشنل مراکز اور ٹریڈ سرگرمیوں کی معاونت سے ممکن ہوگی، جس کی بنیاد مضبوط اسلامی اقدار، منظم و مربوط عملدرآمد اور تمام شراکت داروں کے لیے مسلسل قدر کی فراہمی پر ہے۔“

بنگ ایکس (BingX)نے اسپیس تھیم پر مبنی میم کوائن “Asteroid Shiba” کو لسٹ کر دیا

پاکستان :  بنگ ایکس (BingX) جو ایک معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج اور Web3-AI کمپنی ہے، نے آج اعلان کیا ہے کہ Asteroid Shiba (ASTEROIDETH) کو اسپاٹ اور فیوچرز ٹریڈنگ دونوں کے لیے لسٹ کر دیا گیا ہے جس کے ساتھ 19 اپریل سے 26 اپریل تک محدود مدت کے لیے زیرو فیس پروموشن بھی پیش کی جا رہی ہے۔

یہ نئی لسٹنگ، بنگ ایکس (BingX)کی جانب سےاسپیس ایکسPre-IPO (SpaceX) پرپیچول فیوچرز اور SpaceX Xpool ایئرڈراپ مہم کے کامیاب آغاز کے بعد سامنے آئی ہے۔ کرپٹو ٹریڈرز میں اسپیس تھیم والے اثاثوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیشِ نظر بنگ ایکس (BingX) فعال طور پر اعلیٰ قدر کے اثاثوں کی نشاندہی اور لسٹنگ کر رہا ہے تاکہ صارفین کی طلب کو پورا کیا جا سکے۔

WhatsApp Image 2026-04-22 at 1.17.03 PM.jpeg

ASTEROIDETH ایک کمیونٹی سے چلنے والا میم کوائن ہے جو Ethereum بلاک چین پر مبنی ہے اور “Asteroid” نامی ایک شیبا اِنُو پلش ٹوائے سے متاثر ہے جو SpaceX کے Polaris Dawn مشن کے دوران زیرو گریویٹی انڈیکیٹر کے طور پر استعمال ہوا تھا۔ یہ ٹوکن کلاسک شیبا اِنُو میم کلچر کو خلائی تحقیق کے عناصر کے ساتھ یکجا کرتا ہے جس نے کرپٹو کمیونٹی میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

جمعہ، 17 اپریل، 2026

میڈ اِن پاکستان۔ اسپاٹیفائی کے پاکستان میں 5 سال مکمل، موسیقی کی نئی دنیا اور مقامی ٹیلنٹ کی نمایاں پذیرائی

کراچی،  پاکستان میں موسیقی کا منظرنامہ تیزی سے دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔ آج موسیقی کے شائقین پہلے سے کہیں زیادہ مختلف انداز سے موسیقی دریافت کر رہے ہیں، چاہے وہ مختلف زبانیں ہوں، نسلیں ہوں یا موسیقی کے نئے تجربات ہوں۔ پاکستان میں اسپاٹیفائی اپنے آغاز کے پانچ سال کی تکمیل پر ایک ایسے سنگِ میل کا جشن منا رہا ہے جو صرف ترقی تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ لوگ موسیقی سے پہلے سے کہیں زیادہ گہرا تعلق قائم کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اسپاٹیفائی سال 2021  سے اب تک موسیقی سننے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اس دوران پلیٹ فارم پر شائقین موسیقی کی تعداد میں 750 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ پاکستانی صارفین نے 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد اپنی پلے لسٹس تیار کیں۔ یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ سامعین خود اپنی پسند کو ترتیب دے کر اپنے موسیقی کے سفر کو خود تشکیل دے رہے ہیں۔

Spotify Infographic.jpeg

یہ بڑی تبدیلی سامعین کے انداز میں بھی نظر آتی ہے۔ آج پاکستان میں اسپاٹیفائی کا ایک عام صارف سال بھر میں 140 سے زیادہ مختلف گلوکاروں کو سنتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی سامعین نئی موسیقی دریافت کرنے میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں۔

پاکستانی ہپ ہاپ، پاکستانی پاپ، اور قوالی سے لیکر علاقائی موسیقی تک مختلف انداز کے گیتوں میں پاکستان کے سامعین کی بھرپور دلچسپی نظر آرہی ہے۔ یہ رجحان ایک ایسے میوزک کلچر کی نشاندہی کرتا ہے جو روایت اور جدت کو یکجا کر کے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

جیسے جیسے موسیقی کی دنیا وسعت اختیار کررہی ہے، ویسے ہی پاکستانی گلوکاروں اور مقامی موسیقی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ سال 2021 کے بعد سے اس پلیٹ فارم پر پاکستانی گلوکاروں کے گیت سننے کی شرح میں سات گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جو مقامی ٹیلنٹ اور سامعین کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

اس دور کے نمایاں گلوکار بھی اس بڑی تبدیلی کا اعتراف کرتے ہیں۔ طلحہ انجم، عمیر اور حسن رحیم جیسے نئے ناموں سے لے کر عاطف اسلم اور نصرت فتح علی خان جیسے عظیم گلوکاروں تک سامعین باآسانی نئی اور پرانی موسیقی کے درمیان سفر کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کی موسیقی کی وسعت اجاگر ہوتی ہے۔

اسی طرح مانو اور انورال خالد کا گیت ''جھول''، افیوسک اور علی سومرو میوزک کا گیت ''پل پل''، حسن رحیم، عمیر اور تلویندر کا گیت ''Wishes''، عبدالحنان اور روالیو کا گیت ''بکھرا'' اور بیان، حسن رحیم اور روالیو کا گیت ''مانند'' جیسے گانے اسٹریمنگ دور کی نمایاں شناخت بن چکے ہیں۔

پاکستانی موسیقی کی ترقی میں اسپاٹیفائی کی سرمایہ کاری بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اسکی ''پکا ہٹ ہے'' جیسی پلے لسٹس آج کے مقبول گانوں کا مرکز بن چکی ہیں، جبکہ ''آئیکون پاکستان'' میں ملک کے بڑے گلوکاروں کی میراث کو سراہا جاتا ہے۔

پاکستانی میوزک کی دنیا بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اسپاٹیفائی کے آغاز کے بعد سے لیکر اب تک پاکستانی گلوکاروں کی تعداد میں تقریباً 75 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے نئے گلوکاروں کو مقامی اور عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے کا موقع مل رہا ہے۔

اس تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے اسپاٹیفائی مسلسل کام کر رہا ہے۔ ''ریڈار پاکستان''، ''ایکول پاکستان'' اور ''فریش فائنڈز پاکستان'' جیسے اقدامات کے ذریعے یہ پلیٹ فارم گلوکار کے لئے ہر مرحلے پر سرمایہ کاری جاری رکھتا ہے، نئے اور ابھرتے ہوئے گلوکاروں کو مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ تجربہ کار گلوکاروں کی نئی آڈیئنس تک رسائی میں معاونت کرتا ہے۔

اسپاٹیفائی کی آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپس منیجر برائے پاکستان، رطابہ یعقوب نے کہا، ''پاکستانی ثقافت میں موسیقی کا ہمیشہ سے نہایت اہم مقام رہا ہے، لیکن اب ہم ایک نئی سطح کا تعلق دیکھ رہے ہیں۔ لوگ زیادہ موسیقی تلاش کر رہے ہیں، تیزی سے نئی آوازوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، اور مقامی گلوکاروں کی بھرپور پذیرائی کررہے ہیں جس سے ان میں بااختیار ہونے کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی آوازوں سے لے کر عظیم گلوکاروں تک، آج پاکستانی موسیقی میں حقیقی رفتار اور توانائی نظر آتی ہے، اور یہ دیکھنا خوش آئند ہے کہ یہ سفر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔''

 

یہ تمام تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان میں موسیقی کا کلچر زیادہ کھلا، فعال اور دریافت پر مبنی ہے جہاں سامعین نہ صرف مقبولیت کا تعین کرتے ہیں بلکہ نئے گلوکاروں اور نئی آوازوں کو آگے لانے میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

سامعین اسپاٹیفائی کی ''میڈ اِن پاکستان'' پلے لسٹ کے ذریعے گزشتہ پانچ سال کے نمایاں گانوں کو سن سکتے ہیں۔

https://open.spotify.com/playlist/37i9dQZF1DXbdNlwEdmFJI

گزشتہ 5 سال میں پاکستان میں سب سے زیادہ سنے جانے والے پاکستانی گلوکار:
1. طلحہ انجم
2. عاطف اسلم
3. عمیر
4. حسن رحیم
5. نصرت فتح علی خان

گزشتہ 5 سال میں پاکستان میں سب سے زیادہ سنے جانے والے پاکستانی گانے:

1. مانو اور انورال خالد کا گیت ''جھول''
2. افیوسک، علی سومرو کا گیت ''پل پل''
3. حسن رحیم، عمیر، تلویندر کا گیت ''وشز''
4. عبد الحنان، روالیو کا گیت ''بکھرا''
5. بیان، حسن رحیم، روالیو کا گیت ''ماند''

جمعرات، 16 اپریل، 2026

میگا موٹر کمپنی اور ٹی پی ایل انشورنس کا اشتراک، BYD صارفین کو MMC Care کے تحت جامع تحفظ حاصل ہوگا

کراچی،  پاکستان میں دنیا کے نمبر ون نیو انرجی وہیکل (NEV) برانڈ،BYD کی آفیشل پارٹنر میگا موٹر کمپنی (MMC)نے ملک کی صف اول کی جنرل انشورنس کمپنی ٹی پی ایل انشورنس کے ساتھ اہم اشتراک کا معاہدہ کیا ہے۔ اس اشتراک کے تحت ایم ایم سی کیئر(MMC Care) کے نام سے ایک جامع تحفظ پلان متعارف کرایا گیا ہے، جو خاص طور پر BYD گاڑیوں کے مالکان کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس شراکت داری کے تحت ٹی پی ایل انشورنس کی جانب سےBYD کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نیو انرجی گاڑیوں کے لئے خصوصی اور جامع انشورنس پلان فراہم کیا جائے گا۔

ایم ایم سی کیئر کے تحت بی وائی ڈی گاڑی کے مالکان کو حادثات، چوری، نقصان اور اچانک خرابی جیسے غیر متوقع حالات میں مالی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس پالیسی کا مقصد ریپیئرنگ کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا اور ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ صارفین کو بوقت ضرورت مدد حاصل ہو۔

image.png


اس موقع پر بی وائی ڈی پاکستان۔ ایم ایم سی کے نائب صدر سیلز و اسٹریٹجی، دانش خالق نے کہا، ''پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں (NEVs)کے فروغ میں قائدانہ کردار کے ساتھ یہ شراکت داری صارفین کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹی پی ایل انشورنس کے ساتھ ہمارا اشتراک ایک اور سنگ میل ہے اور یہ BYD صارفین کے لیے ایک مکمل اور بہتر تجربہ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ گاڑی ایک قابل ذکر سرمایہ کاری ہوتی ہے، اور ایم ایم سی کیئر کے ذریعے ہم اس عمل کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ صارفین اپنی اس سرمایہ کاری کو مکمل اعتماد کے ساتھ محفوظ بنا سکیں۔''

ٹی پی ایل انشورنس کے سی او او سید علی حسن زید نے کہا، '' ہم ایم ایم سی کے اشتراک سے BYD صارفین کے لیے خصوصی انشورنس کی سہولت متعارف کرانے پر خوش ہیں۔ آٹو انڈسٹری خصوصی طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے پیش نظر جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ انشورنس حل فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔''

ایم ایم سی کیئر پروگرام BYD  کے نئے اور موجودہ دونوں صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، جس کے تحت گاڑی کے استعمال کے دوران صارفین کسی بھی مرحلے پر اس میں باآسانی شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ شراکت داری صارفین کو جامع انداز سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آٹو اور انشورنس انڈسٹری کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

کراچی میں اسپاٹیفائی کا خصوصی پروگرام پیڈل کھیل، موسیقی اور کمیونٹی کا خوبصورت امتزاج بن گیا

کراچی،  اسپاٹیفائی نے کراچی میں خصوصی پیڈل ایونٹ کا انعقاد کیا جہاں شہر کے تخلیق کاروں اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد کھیل، موسیقی اور کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے تعلق کو اجاگر کرنا تھا جو تیزی سے شہری زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے۔

یہ ایونٹ ''ہاؤس آف پیڈل'' میں منعقد ہوا جہاں شہر بھر سے معروف تخلیق کاروں اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات کا خیرمقدم کیا گیا۔ ان میں عائلہ عدنان، حاجرہ یامین اور ارشنستان سمیت کراچی سے تعلق رکھنے والی دیگر قابل ذکر شخصیات شامل ہیں۔ یہ ایک پرجوش اور سماجی نوعیت کا پروگرام تھا جس میں یہ دکھا یا گیا کہ کھیل اور موسیقی جیسے مشترکہ شوق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لارہے ہیں اور انکے وقت گزارنے کے انداز کو بدل رہے ہیں۔

اس پروگرام کی میزبانی اقصیٰ منظور نے سرانجام دی، جبکہ ''ڈسگائز اِن ہوڈی'' کی زبردست ڈی جے پرفارمنس نے ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا۔ اس پورے پروگرام کے دوران پیڈل کورٹ کے اندر اور باہر موسیقی کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ اس دوران اسپاٹیفائی کی پیڈل فیور پلے لسٹ بھی نمایاں رہی جس نے کھیل کے ساتھ ایک خاص ردھم اور توانائی پیدا کی۔

WhatsApp Image 2026-04-14 at 9.52.54 AM.jpeg

اس پروگرام میں اسپاٹیفائی کے مکس فیچر کو دلچسپ انداز سے سامنے لایا گیا جو پاکستان میں پریمیئم صارفین کے پاس موجود ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ گانوں کو کس طرح ہموار انداز سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ تقریب کو اس طرح جاندار بنانے کی بدولت مہمانوں میں موسیقی سے لطف اٹھانے کا عمل مزید انٹرایکٹو اور پرجوش رہا۔

س موقع پر اسپاٹیفائی کے مارکیٹنگ منیجربرائے پاکستان، طلحہ ہاشم نے کہا، ''موسیقی ہماری زندگی کا پہلے سے ہی حصہ بن چکی ہے اور وہ لوگوں کو کھیل سے قبل، کھیل دوران جوڑنے کا کام سامنے لاتی ہے۔پیڈل اس کی بڑی قابل ذکر مثال ہے۔ یہ محض کھیل ہی نہیں ہے بلکہ پیڈل کورٹ کے ساتھ ساتھ یہ توانائی اور کمیونٹی لوگوں کو ماحول کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ یہاں موسیقی قدرتی طور پر اپنا راستہ بناتی ہے۔ اس طرح کے تجربات کا مقصد انہی لمحات میں شامل ہونا ہے اور پاکستان میں ہمارے صارفین اس طریقے سے ہم آہنگ ہونے کے لئے پہلے سے ہی اسپاٹیفائی کو استعمال کرتے ہیں۔ "

ایسے اقدامات کے ذریعے اسپاٹیفائی پاکستان میں موسیقی کے کلچر کو فروغ دے رہا ہے اور لوگوں کو مشترکہ اور عملی زندگی کے تجربات کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لارہا ہے۔

صارفین اسپاٹیفائی کی ''پیڈل فیور'' پلے لسٹ سن کر اس منفرد تجربے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور توانائی کی شکل میں اس موسیقی کو اپنے ہمراہ رکھ سکتے ہیں۔

https://open.spotify.com/playlist/37i9dQZF1DXdwBVJ7FmyRu

WhatsApp Image 2026-04-14 at 9.52.59 AM.jpeg

پیر، 13 اپریل، 2026

​فریز لینڈ کیمپینا نے اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز کے ساتھ ای پی سی معاہدہ، ڈی کاربنائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کا اعلان

کراچی، 13 اپریل 2026: فریز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) جو ڈیری اور غذائیت کے شعبے میں ایک معروف کثیر القومی ادارہ ہے، نےاے ٹو زیڈ انرجی سسٹمزکے ساتھ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے تاکہ 2 میگاواٹ کے سولر فوٹو وولٹک (PV) پلانٹ کو 4 میگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کے ساتھ مربوط کر کے نافذ کیا جا سکے۔ یہ تعیناتی فریز لینڈ کیمپینا کے ڈی کاربنائزیشن اسٹریٹجی کے لیے اس کے طویل المدتی عزم اور اپنی آپریشنز میں پائیدار توانائی کے حل کو شامل کرنے کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

یہ ہائبرڈ سسٹم جو فریز لینڈ کیمپینا کے آپریشنل سائٹس پر تعینات کیا جا رہا ہے، توانائی کی لاگت کی کارکردگی کو بہتر بنانے، بجلی کی فراہمی کی قابلِ اعتمادیت کو بڑھانے اور بڑھتے ہوئے ٹیرف کے درمیان گرڈ کے اتار چڑھاؤ سے نمائش کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ بہتر توانائی ڈسپیچ کو ممکن بنائے گا، پیک شیونگ کی حمایت کرے گا اور لوڈ مینجمنٹ کو مضبوط کرے گا جس سے آپریشنل مضبوطی میں اضافہ ہوگا اور قابلِ پیمائش مالی فوائد فراہم ہوں گے۔

مسٹر کاشان حسن، سی ای او رمنیجنگ ڈائریکٹر، فریز لینڈ کیمپینا نے کہا” ایک پائیدار اور مضبوط توانائی کا انفراسٹرکچر ہمارے مستقبل کے وژن کے مرکز میں ہے۔اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمزکے ساتھ ہماری شراکت داری ڈیری فارمنگ کے کاربن فُٹ پرنٹ کو کم کرنے کی ہماری کوششوں میں ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ فریز لینڈ کیمپینا کے“Doing DAIRY Right’’ کے وژن سے بھی ہم آہنگ ہے جس میں فطرت کے ساتھ توازن میں رہنا شامل ہے۔ شمسی توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم ایک لاگت مؤثر اور پائیدار طریقہ کار تیار کر رہے ہیں جو غیر قابلِ تجدید وسائل پر انحصار کو کم کرتا ہے اور ڈیری سیکٹر کے لیے مالی پائیداری کو بہتر بناتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے مجھے ایک ایسی کمپنی کی قیادت پر فخر ہے جو ترقی کو فروغ دینے اور پاکستان کے لیے ایک پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے۔ “

WhatsApp Image 2026-04-13 at 5.30.18 PM.jpeg

اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز، انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (EPC) کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے اس منصوبے کو مکمل، تیار اور قابلِ استعمال حالت میں فراہم کیا جائے گا۔ جدید توانائی کے نظام میں اپنی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنی بین الاقوامی معیار کے مطابق بہترین ڈیزائن، ہموار انضمام اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

 مسٹر انور الحسن، چیئرمین، اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز نے کہا” یہ منصوبہ صنعتی توانائی کی حکمت عملیوں میں پائیداری اور مالی کارکردگی کے بڑھتے ہوئے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم فریز لینڈ کیمپینا کی ایک مستقبل کے لیے تیار توانائی کے حل کی تعیناتی میں معاونت کر رہے ہیں جو ماحولیاتی اور معاشی دونوں قدر فراہم کرتا ہے۔“

یہ منصوبہ صنعتی توانائی کی منتقلی کے لیے ایک قابلِ توسیع ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے جو صاف توانائی کی پیداوار کو اسٹوریج کے ساتھ یکجا کر کے کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بناتا ہے اور طویل المدتی قدر کو ممکن بناتا ہے۔ کمیشننگ کے بعد توقع ہے کہ یہ نظام مستحکم توانائی لاگت کی بچت فراہم کرے گا، روایتی گرڈ پر انحصار کو کم کرے گا اور آپریشنل تسلسل کو بہتر بنائے گاجس سے زیادہ اثاثہ استعمال اور بہتر منافع حاصل ہوگا۔

یہ شراکت داری نہ صرف فریز لینڈ کیمپینا کے ڈیری فارمنگ کے کاربن فُٹ پرنٹ کو کم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اے ٹو زیڈ انرجی سسٹمز کی ایک معروف رینیوایبل مائیکرو گرڈز فراہم کنندہ کے طور پر مہارت کو بھی اجاگر کرتی ہے جو پاکستان کے لیے ایک سرسبز اور زیادہ پائیدار مستقبل کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔

ہفتہ، 11 اپریل، 2026

سپر نیٹ ٹیکنالوجیز کی ذیلی کمپنی کا ملک کے معروف بینک کے ساتھ ملٹی ملین ڈالر کا سائبر سیکیوریٹی معاہدہ

کراچی: سپرنیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ نے پاکستان کے مالیاتی خدمات کے شعبہ میں اپنی موجودگی کو مضبوط بناتے ہوئے اپنی ذیلی کمپنی سپرنیٹ سیکیورسلوشنز(پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ذریعے ایک معروف بینک کے ساتھ ملٹی ملین ڈالر کا سائبر سیکیوریٹی معاہدہ کیا ہے۔

 

سپرنیٹ سیکیورسلوشنز نے پاکستان کے بڑے بینکوں میں سے ایک بینک کے ساتھ 5سالہ معاہدہ کیا ہے۔ 2021میں کیے گئے 5سالہ معاہدے کی کامیاب تکمیل کے بعد مسلسل دوسری مرتبہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان طویل المدّتی کاروباری تعلقات کے تسلسل کی عکاسی ہے۔

 

نئے معاہدے کے تحت سپرنیٹ سیکیورسلوشنز،بینک کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرنے کیلئے زیادہ جدید اوراپ گریڈڈ سائبر سیکیوریٹی سلوشن فراہم کرے گی۔

 اس منصوبہ کے تحت اینڈ پوائنٹ سیکیوریٹی سسٹمز نافذ کیے جائیں گے جو ملک بھر میں بینک کے 10ہزار سے زائد ملازمین کے ڈیجیٹل ماحول کو تحفظ فراہم کریں گے واضح رہے کہ یہ شعبہ مالیاتی اداروں کیلئے سائبررسک کے حساس ترین پہلوؤں میں شمار کیا جاتاہے۔

 

کمپنی کے مطابق ملٹی ملین ڈالر کا معاہدہ اگلے 5سالوں میں اس کے سائبر سیکیوریٹی ریونیوپائپ لائن میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

 

اس معاہدہ کے علاوہ سپرنیٹ سیکیورسلوشنز پہلے ہی اس بینک کے ساتھ 3سالہ خصوصی رسائی کے انتظام کے سلوشن (Privileged Access Management)پر کام کررہی ہے جبکہ کمپنی ماضی میں بھی بینک کے بین الاقوامی آپریشنز کیلئے مختلف سائبر سیکیوریٹی خدمات فراہم کرچکی ہے۔

 

انڈسٹری مبصرین کے مطابق اس طرح کے معاہدوں کی تجدید نہ صرف کلائنٹ کے ساتھ مضبوط اور دیرپا تعلق کی عکاسی ہیں بلکہ پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ اور سائبرخطرات کے پیشِ نظر جدید سائبر سیکیوریٹی سلوشنز کی بڑھتی ہوئی طلب کو بھی ظاہرکرتے ہیں۔

 

کمپنی کے مطابق نئے معاہدے کے مالیاتی اثرات پورے معاہدے کی مدّت کے دوران مثبت رہنے کی توقع ہے جو اس کی طویل المدّتی ترقی کی حکمتِ عملی کو مزید تقویت دیں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپر نیٹ ٹیکنالوجیز ہائی ویلیو ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور سائبر سیکیوریٹی کے شعبوں میں اپنی موجودگی کو تیزی سے بڑھارہی ہے اور خود کو انٹر پرائز اور مالیاتی شعبے کے کلائنٹس کیلئے ایک اہم ٹیکنالوجی پارٹنر کے طورپر مستحکم کررہی ہے۔

جمعہ، 10 اپریل، 2026

وزیرِ اعظم کا کیش لیس معیشت کا وژن: موبی لنک بینک اور جاز کیش نے چکلالہ اسکیم-تھری بازار کو کیش لیس بازار بنا دیا



اسلام آباد – : پاکستان کے صفِ اول کے ڈیجیٹل مائیکرو فنانس بینک، موبی لنک بینک اور پاکستان کے نمایاں ڈیجیٹل مالیاتی  پلیٹ فارم، جاز کیش (Jazzcash)  نے راولپنڈی میں چکلالہ اسکیم-تھری کیش لیس بازار کا افتتاح کر دیا ہے، جہاں 900 دکانوں اور ٹھیلوں پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی قیادت میں وزیرِ اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے تحت روزمرہ ضروریات کے بازاروں میں ڈیجیٹل مالیاتی ڈھانچے کو فروغ دینے اور لین دین کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی اسٹیشن کمانڈر راولپنڈی، بریگیڈیئر سید علی انجم تھے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر رضوان خلیل شمسی، موبی لنک بینک کے چیف بزنس آفیسر، عطاء الرحمٰن، جاز کیش اور موبی لنک بینک کے اعلیٰ حکام، مقامی تاجران اور دیگر افراد بھی موقع پر موجود تھے۔
اس منصوبے کا بنیادی جزو بازار بھر کی دکانوں اور ٹھیلوں پر ادائیگیوں کے نظام ’راست‘ سے منسلک کیو آر کوڈز کی تنصیب ہے، جس کے ذریعے تاجر موبائل والٹس کے ذریعے فوری اور محفوظ ادائیگیاں براہِ راست وصول کر سکتے ہیں۔ اس اقدام سے نقد رقم کے استعمال سے منسلک مشکلات  میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ صارفین کو رقوم کی فوری منتقلی کی بدولت ایک آسان چیک آؤٹ تجربہ فراہم ہوگا، جس سے روزمرہ خریداری تیز اور زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔ موبی لنک بینک منصوبے میں شامل تمام تاجروں کے لیے بزنس پلس اکاؤنٹس کھولے گا اور مختلف مالیاتی سہولیات فراہم کرے گا، جن میں ہیلتھ اور فائر انشورنس، ایس ایم ای قرضے، اور سولر و الیکٹرک وہیکل فنانسنگ شامل ہیں۔

WhatsApp Image 2026-04-09 at 7.59.33 PM.jpeg

منصوبے کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے موبی لنک بینک کے صدر و سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، ’’موبی لنک بینک کے ڈیجیٹل فرسٹ نظریے کے تحت ہم سمجھتے ہیں کہ کیش لیس معیشت کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے جہاں روزمرہ کاروبار ہوتا ہے ، یعنی ہمارے مقامی بازاروں سے۔ یہ اقدام چھوٹے تاجروں کو ایک زیادہ محفوظ اور جامع مالیاتی نظام میں شامل کرے گا۔ جاز کیش جیسے فن ٹیک پلیٹ فارمز کے ذریعے زمینی سطح پر سہولت فراہم کرتے ہوئے ہم لین دین کو آسان بنا رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مالی شمولیت کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘

جاز کیش کے سی ای او مرتضیٰ علی نے کہا، ’’وزیرِ اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کی تکمیل کا انحصار زیادہ لین دین والے کاروباری شعبوں کی مؤثر ڈیجیٹلائزیشن پر ہے۔ پاکستان میں بازار روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے لین دین کا سب سے بڑا مرکز ہیں، اور جاز کیش اس تبدیلی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کررہا  ہے، اور اسے ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد راست سے منسلک کیو آر مرچنٹس کے نیٹ ورک کی معاونت حاصل ہے۔ ان مقامات پر بغیر رکاوٹ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے ذریعے ہم تاجروں کو ایک باقاعدہ اور مربوط مالیاتی نظام پر منتقل ہونے میں مدد دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی روزمرہ زندگی میں بہتری لاتی ہے، کیونکہ اس سے لاکھوں شہریوں کے لیے مالیاتی خدمات زیادہ قابلِ اعتماد، شمولیتی اور قابلِ رسائی بن جاتی ہیں۔‘‘
چکلالہ اسکیم-تھری کیش لیس بازار اس بات کی روشن مثال ہے کہ مقامی سطح کے قابلِ توسیع اقدامات قومی سطح پر بڑی تبدیلی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ حکومتی وژن کو مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مؤثر زمینی نفاذ کے ساتھ  مربوط کرکے جاز کیش اور موبی لنک بینک پاکستان کے ایک حقیقی کیش لیس معیشت کی جانب سفر کو مہمیز دے رہے ہیں۔

جمعہ، 3 اپریل، 2026

سی ای او ویون گروپ کی جانب سے موبی لنک بینک کے35 فیصد برانچ نیٹ ورک کی شمسی توانائی پر منتقلی کا خیرمقدم

کراچی ، موبی لنک بینک پاکستان میں اپنے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) وژن کے تحت تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھا کر پائیدار بینکاری کے شعبے میں ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کا مقصد ایک ذمہ دار، جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مالیاتی ادارے کے طور پر اپنا قائدانہ کردار اجاگر کرناہے۔ بینک کا ایک تہائی سے زائد ملک گیر برانچ نیٹ ورک اب قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو چکا ہے، جو کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور سب کے لیے  ایک قابلِ رسائی مالیاتی نظام کی دستیابی کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

اس حوالے سے ویون  (Veon)گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بورڈ ممبر، کان ترزی اوغلو نے موبی لنک بینک کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بینک کے جدید ڈیجیٹل آپریشنل ماڈل، صارف دوست مالیاتی سہولیات اور ماحولیاتی پائیداری سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے صارفین سے ملاقات کی اور اس بات کا مشاہدہ کیا کہ کس طرح بینک محفوظ، آسان اور جدید مالیاتی خدمات بڑے پیمانے پر فراہم کر رہا ہے۔

اس موقع پر ویون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کان ترزی اوغلو نے کہا،  "موبی لنک بینک کے نظام میں پائیدار ترقی کو ملحوظِ خاطر رکھنا نہایت بروقت اور مؤثر قدم ہے۔ گرین فنانسنگ کے فروغ کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات کو عام کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بینک ذمہ دارانہ ترقی کے لئے سنجیدہ ہے۔ یہ ایک روشن مثال ہے کہ ترقی پذیرممالک میں مالیاتی ادارے معاشی ترقی کو آگے بڑھا نے کے ساتھ ساتھ موثر ماحول دوست اقدامات بھی کر سکتے ہیں۔"



موبی لنک بینک کے صدر وسی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، "پائیدارترقی کا فروغ  موبی لنک بینک کا کوئی علیحدہ  ایجنڈا نہیں بلکہ ہماری ترقی کی بنیاد ہے۔ ہم پاکستان میں  خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں کیلئے ایک ایسا بڑا بینک بن کر ابھر رہے ہیں جو جدید ڈیجیٹل سہولیات، ای ایس جی اصولوں اور دور رس اثرات مرتب کرنے کے قابل ایک منفرد ماڈل  پر مبنی ہے۔ گرین فنانسنگ سے لے کر قابلِ تجدید توانائی کے استعمال تک، ہم اپنے ہر عمل میں سماجی و ماحولیاتی ذمہ داری کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔"

موبی لنک بینک کی ای ایس جی حکمت عملی میں گرین فنانسنگ، ذمہ دارانہ آپریشنز اور جامع ترقی کے پہلو شامل ہیں۔ بینک اب تک 2.9 ارب روپے کی گرین فنانسنگ فراہم کر چکا ہے تاکہ صاف توانائی اور ماحول دوست سفری سہولیات بشمول شمسی نظام کی طرف منتقلی اور ای بائیکس کو بالخصوص معاشرے کے نظرانداز طبقات میں فروغ دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بینک کے 35 فیصد برانچ نیٹ ورک کو قابلِ تجدید توانائی پر منتقل کرنا کاربن کے اخراج  میں کمی لانے کے نظام کی طرف واضح پیش رفت ہے۔

بینک اپنے پائیدار ترقی کے وژن کو مزید مستحکم بنانے کے لیے جدید اورڈیٹا پر مبنی نظام تشکیل دے رہا ہے جس کے ذریعے کاربن کے اخراج پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں کمی بھی لائی جاسکے گی۔ اس سلسلے میں خودکار ای ایس جی پلیٹ فارم کے تحت ابتدائی طور پر 4489 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جو مستقبل میں شفاف نگرانی اور کمی کے اہداف طے کرنے کی بنیاد بنے گا۔

موبی لنک بینک ماحولیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی میں بھی مسلسل نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ سال 2025 میں بینک نے 31 ہزار سے زائد خواتین کو مالیاتی سہولیات فراہم کر کے بااختیار بنایا۔ اسکے علاوہ، 50.30 ارب روپے کے لون پورٹ فولیو کے ذریعے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مالی رسائی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ موبی لنک بینک نے کمیونٹی کی بہتری کے لیے زندگی ٹرسٹ کے اشتراک سے خاتونِ پاکستان گورنمنٹ گرلز اسکول میں ڈیجیٹل آرٹس لیب کو شمسی توانائی پر منتقل کیا، جس سے 310 طالبات مستفید ہو رہی ہیں، جبکہ صاف پانی کے منصوبے کے ذریعے ایک ہزار سے زائد طلباء کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

جیسے جیسے پائیدارترقی جدید بینکاری کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے، موبی لنک بینک کا مربوط ای ایس جی طریقہ کار ماحولیاتی اعتبار سے پائیداری کو ایک مثبت تبدیلی کے طور پر پیش کرتا ہے کیونکہ بینک کا یہ طریقہ کار معاشی خودمختاری، ماحولیاتی ذمہ داری اور ڈیجیٹل جدت کے ذریعے زیادہ جامع اور پاکستان کے روشن مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔  ختم شد۔

جمعہ، 27 مارچ، 2026

ایچ بی ایل - پی ایس ایل 11، فاطمہ فرٹیلائزر آٹھویں سال بھی ملتان سلطانز کی مرکزی اسپانسر

لاہور،  پاکستان کی معروف کھاد بنانے والی کمپنی فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ پاکستان سپر لیگ (HBL-PSL) میں ملتان سلطانز کی ٹائٹل اسپانسر بن گئی ہے۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور میں ایک تقریب کے دوران کیے گئے۔

ٹائٹل اسپانسر کے طور پر فاطمہ فرٹیلائزر کا لوگو ملتان سلطانز کی جرسی کے پیچھے نمایاں طور پر نظر آئے گا، جو پاکستان کی مقبول ترین کرکٹ لیگ کے ساتھ کمپنی کے عزم کی علامت ہے۔ اس معاہدے پر فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز، رابیل سدوزئی، اور ملتان سلطانز کے سی ای او، گوہر شاہ نے دستخط کیے۔

یہ اسپانسرشپ فاطمہ فرٹیلائزر کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی جڑیں جنوبی پنجاب میں ہیں، جو ملتان سلطانز کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ یہ محض تشہیری سرگرمی نہیں بلکہ اس خطے کے ساتھ مضبوط رشتہ اور اپنائیت کی علامت ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر، جو طویل عرصے سے کسانوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی آ رہی ہے۔ اس شراکت داری کو اپنے مشن کا تسلسل سمجھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق کرکٹ پاکستان میں اتحاد اور جذبے کی ایک بڑی علامت ہے، جسے ملتان سلطانز بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔



تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز، مس رابیل سدوزئی نے کہا:
"کرکٹ محنت اور ترقی کے اس جذبے کی عکاسی کرتی ہے جسے ہم بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم ملتان سلطانز کے ساتھ ٹائٹل اسپانسر کے طور پر اپنی شراکت داری جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اس کے ساتھ ہم آٹھویں سال میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ تعلق باہمی اعتماد اور مشترکہ وژن پر قائم ہے۔

ہمارا ایک پلانٹ پاک عرب ملتان میں واقع ہے، اسی وجہ سے ملتان سلطانز کے ساتھ ہمارا تعلق بہت مضبوط ہے اور یہ شراکت داری فطری طور پر بالکل درست محسوس ہوتی ہے۔ یہ دیرینہ تعلق اعتماد اور مشترکہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صرف اسپانسرشپ نہیں بلکہ پاکستان بھر کے لاکھوں کرکٹ شائقین کے ساتھ ہمارا عزم ہے کہ ہم کھیل کے ہر لمحے میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔"

دستخطی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے ملتان سلطانز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، گوہر شاہ نے کہا،
"فاطمہ فرٹیلائزر ملتان سلطانز کا اہم حصہ ہے۔ وہ ہر مشکل اور آسان وقت میں ہمارے ساتھ رہے ہیں، اور اب ان کا لوگو ہماری جرسی پر ہونا ایک خوش آئند لمحہ ہے۔ یہ ہماری پارٹنرشپ کا آٹھواں سال ہے۔ ایک مضبوط اسپورٹس ٹیم بنانے کے لیے وفادار اور دور اندیش پارٹنرز ضروری ہوتے ہیں، اور فاطمہ فرٹیلائزر ہماری کارکردگی اور معیار کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم یہ سفر ایک ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

یہ شراکت داری فاطمہ فرٹیلائزر کے اس وژن کے مطابق ہے جس کا مقصد ملک بھر میں ایسے پلیٹ فارمز کی حمایت کرنا ہے جو اتحاد، جذبے اور بہترین کارکردگی کو فروغ دیں

بدھ، 25 مارچ، 2026

اسپاٹیفائی کی جانب سے نیا منفرد فیچر SongDNA متعارف

کراچی : اسپاٹیفائی نے سانگ ڈی این اے(SongDNA) کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد صارفین کے موسیقی سننے کے انداز کو مزید دلچسپ اور بھرپور بنانا ہے۔
 
یہ نیا فیچر فی الحال پریمیم صارفین کے لیے آزمائشی مرحلے میں جاری کیا جا رہا ہے۔ اس نئے فیچر کے ذریعے اب صارفین نہ صرف گانا سن سکیں گے بلکہ اس کے پیچھے کام کرنے والے رائٹرز، پروڈیوسرز اور دیگر تخلیق کاروں کے بارے میں بھی جان سکیں گے۔ اس کے علاوہ، گانے میں استعمال ہونے والے سیمپلز، انٹرپولیشنز اور بعد میں بننے والے کور ورژنز تک بھی باآسانی رسائی حاصل ہوگی۔



یہ فیچر موبائل ایپ میں ''Now Playing'' اسکرین کے اندر شامل کیا گیا ہے، جس سے صارفین صرف سننے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اپنی پسندیدہ موسیقی کو ایک نئے انداز میں دریافت کر سکیں گے۔

یہ فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

1.           اسپاٹیفائی کی موبائل ایپ میں کوئی بھی گانا چلائیں اور ''Now Playing'' اسکرین کھولیں۔

2.           نیچے اسکرول کریں، جہاں دستیاب گانوں میں SongDNA کارڈ نظر آئے گا۔

3.           اس پر کلک کر کے گانے کے تخلیق کار، سیمپلز، انٹرپولیشنز اور کورز دیکھیں، اور مزید معلومات جاننے کے لیے لنکس استعمال کریں۔

 
موسیقی کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

اسپاٹیفائی کا یہ نیا فیچر دراصل پہلے سے موجود فیچر ''About the Song'' کا ایک جدید اور وسیع ورژن ہے جو انکی پسندیدہ موسیقی کی گہری آگہی فراہم کرتا ہے۔  جہاں ''About the Song'' کسی ایک گانے کی کہانی بیان کرتا ہے، وہیں SongDNA صارفین کو ایک مکمل تجربہ فراہم کرتا ہے، جس میں وہ گانے کی دنیا میں داخل ہوکر اسکے مختلف پہلوؤں کو خود دریافت کر سکتے ہیں۔

یہ فیچر اس وقت دنیا بھر میں آئی فون اور اینڈرائڈ ڈیوائسز پر پریمیم صارفین کے لیے آزمائشی ورژن میں دستیاب ہے، اور اپریل میں تمام پریمیم صارفین کے لیے اسے جاری کر دیا جائے گا۔

جمعہ، 20 مارچ، 2026

وزارتِ تجارت کا گوشت کی برآمدات پر اضافی کارگو چارجز کا نوٹس، فوری کارروائی کی ہدایت


کراچی : وزارتِ تجارت نے گوشت برآمد کرنے والوں کی شکایات پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایوی ایشن حکام سے اضافی کارگو چارجز کے معاملے کی فوری تحقیقات اور حل طلب کر لیا ہے، جسے جاری تنازع میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 وزارتِ تجارت کی جانب سے 17 مارچ 2026 کو جاری کردہ ایک باضابطہ خط میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کراچی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کارگو ہینڈلنگ کمپنی جیریز ڈناتا کی جانب سے مبینہ طور پر عائد کیے گئے "غیر مجاز اضافی چارجز" کے معاملے کا جائزہ لے کر اسے حل کریں۔



یہ کارروائی آل پاکستان میٹ ایکسپورٹرز اینڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن (APMEPA) کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نئے چارجز کی وجہ سے برآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔

ایکسپورٹرز کے مطابق جیریز ڈناتا نے حال ہی میں گوشت کی برآمدات پر 50 روپے فی کلوگرام اضافی چارج عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں کھیپ کو ایکسپورٹ کے لیے پراسیس نہیں کیا جائے گا۔

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافی لاگت تقریباً 180 ڈالر فی ٹن بنتی ہے، جو عالمی منڈی میں پہلے سے سخت مقابلے کا سامنا کرنے والے پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

وزارتِ تجارت کے حکام نے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ 15 مارچ کو وزیراعظم کی زیر نگرانی سرپلس فوڈ آئٹمز کی جی سی سی ممالک کو برآمدات سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ اضافی چارجز واپس لے لیے گئے ہیں۔

تاہم برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور یہ چارجز بدستور وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر وزارت نے معاملے کو فوری طور پر حل کرنے اور برآمدکنندگان کے اطمینان تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

 وزارت نے متعلقہ حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔

برآمدکنندگان نے خبردار کیا ہے کہ کارگو چارجز میں غیر یقینی صورتحال گوشت جیسی خراب ہونے والی اشیاء کی برآمدات کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ یہ صنعت مکمل طور پر مربوط کولڈ چین اور ایئر کارگو نظام پر انحصار کرتی ہے۔

پاکستان کی گوشت برآمدی صنعت گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر ترقی کر چکی ہے اور اس وقت خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں کو حلال گوشت فراہم کر رہی ہے۔

صنعتی ماہرین کے مطابق برآمدات میں تسلسل کے لیے لاگت کا استحکام نہایت ضروری ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کو برازیل اور آسٹریلیا جیسے بڑے برآمدی ممالک سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ایکسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کارگو ہینڈلنگ چارجز کو شفاف اور ریگولیٹ کیا جائے، کیونکہ اچانک اور یکطرفہ اضافے نہ صرف صنعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی برآمدی حکمتِ عملی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

منگل، 10 مارچ، 2026

پی ٹی ایم ایل( یو فون) نے پاکستان میں جدید ترین موبائل سروسز کے آغاز کے 5G اسپیکٹرم حاصل کر لیا

کراچی : ملک میں یوفون کے برانڈ کے تحت خدمات فراہم کرنے والی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ، پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے اپنے ڈیجیٹل ٹیلی کام برانڈ' اونک' (onic) کے ہمراہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ نیلامی میں کامیابی سے 5Gاسپیکٹرم حاصل کر لیا ہے۔ اسپیکٹرم کا حصول پی ٹی ایم ایل کو پاکستان میں سماجی و معاشی بااختیاری ، جدت طرازی اور جامع قومی ترقی کو فروغ دینے والی جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی بڑھانے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔
یہ سنگِ میل پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے اگلے مرحلے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو تیز تر کنیکٹیویٹی، تیز رفتار انٹرنیٹ اور صارفین، کاروباری اداروں اور صنعتوں کے لیے بالکل نئے ڈیجیٹل تجربات کی راہ ہموار کرے گا۔

ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے بعد پی ٹی ایم ایل کے ساتھ انضمام مکمل ہو نے کے بعد ٹیلی نار پاکستان بھی پی ٹی ایم ایل کا 5G اسپیکٹرم استعمال کرے گا۔ انضمام کی تکمیل کے بعد مشترکہ ادارہ حاصل کردہ اسپیکٹرم اور اپنے متحدہ نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں 7کروڑ سے زائد صارفین کو اعلیٰ معیار کی جدید ترین خدمات فراہم کرے گا۔

5G محض تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ڈیجیٹل صلاحیت کی ایک بالکل نئی جہت فراہم کرتا ہے جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔

صارفین کے لیے 5G بغیر رکاوٹ الٹرا ہائی ڈیفی نیشن ویڈیو اسٹریمنگ، معیاری کلاؤڈ گیمنگ، آگمینٹڈ اور ورچوئل رئیلٹی کے تجربات، اور ڈیجیٹل خدمات و تفریح تک تیز تر رسائی ممکن بنائے گا۔


کاروباری افراد اور اداروں کے لیے 5G انقلابی صلاحیتوں کے حصول کے دروازے کھولے گا، جن میں اسمارٹ فیکٹریاں، کنکٹیڈ لاجسٹکس، اے آئی سے تقویت یافتہ تجزیات، اور انتہائی قابل اعتماد کلاؤڈ کنیکٹیویٹی شامل ہیں جو اہم آپریشنز میں معاونت کرتی ہے۔

صحت، تعلیم، زراعت اور عوامی خدمات کے شعبوں میں 5G فاصلاتی تشخیص، ورچوئل کلاس رومز، اسمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجیز، اسمارٹ ٹریفک نظام، اور نیکسٹ جنریشن مالیاتی خدمات جیسی جدت انگیزی کو ممکن بنا سکتا ہے۔
5G اسپیکٹرم کا حصول پی ٹی ایم ایل کی جانب سے اپنے انفرادی اور کاروباری صارفین کے لیے ڈیجیٹل سروسز کے معیاراور رسائی میں بہتری لانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

کمپنی اب 5G کی مرحلہ وار مگر تیز رفتار تنصیب کی تیاری کر رہی ہے، جس کا آغاز ترجیحاً بڑےشہروں سے کیا جائے گا اور اس کے بعد اسے بتدریج ملک کے دیگر علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔ 5G سروسز کے ملک بھر میں پھیلاؤ کے ساتھ مضبوط کارکردگی اور اعلیٰ معیار کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے کمپنی نیٹ ورک کی توسیع اور سائٹس کی تعداد بڑھانے پر بھرپور توجہ دے گی۔

اس اہم سنگِ میل پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی سی ایل و یو فون کے صدر و سی ای او، حاتم بامطرف نے کہا، 5G ایک انقلابی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے جو لوگوں، کاروباری اداروں اور معاشرے کے باہمی رابطوں اور جدت انگیزی کو ایک نئی جہت دے گا۔ یہ صرف تیز رفتار انٹرنیٹ نہیں، بلکہ بالکل نئے ڈیجیٹل تجربات اور معاشی مواقع کو ممکن بنانے کا وسیلہ ہے۔

ایک مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر ہماری ترجیح ہے جو پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کو بڑھاوا دے سکے۔ 5G کے ذریعے صارفین زیادہ ذہین ڈیجیٹل خدمات کا تجربہ کریں گے، کاروباری اداروں کو بہتر پیداوار اور جدت کے لیے نئے طاقتور اوزار میسر آئیں گے، اور مختلف صنعتیں ایک ڈیجیٹل دنیا میں اپنے کام کرنے کے طریقوں کو ازسرِ نو تشکیل دے سکیں گی۔''

انہوں نے مزید کہا،''ہم ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ انضمام کے بعد اپنے نیٹ ورکس اور صلاحیتوں کو یکجا کرکے بڑے پیمانے پر 5G کی تنصیب کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں ہوں گے۔ ہم لاکھوں صارفین تک جدید ڈیجیٹل خدمات پہنچا سکیں گےاور پاکستان کے کاروباری افراد، اداروں اور کمیونٹیز کو ڈیجیٹل معیشت میں بھرپور شرکت کے قابل بنائیں گے۔''

5G کی تنصیب حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کو آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، جس کا مقصد ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، جدت انگیز ی کے عمل کو تیز کرنا اور جدید ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔
جدید کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے پی ٹی سی ایل نے پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور ڈیجیٹل شمولیت میں بامعنی کردار ادا کرنے کا کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔
۔ختم شد۔

منگل، 3 مارچ، 2026

موبی لنک بینک نے سندھ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی کے لئے ایس ای ڈی ایف سے معاہدہ کر لیا



اسلام آباد ؛ پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک نے حکومت سندھ کے ذیلی ادارہ، سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ (ایس ای ڈی ایف) کے ساتھ پانچ سالہ شراکت داری کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد یہ ہے کہ صوبے میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو منظم انداز سے فنانس کی رسائی ترجیحی طور پر بڑھائی جائے۔ اس اشتراک کے تحت ایک ارب روپے تک کے قرضے موبی لنک بینک کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے جبکہ ایس ای ڈی ایف مارک اپ سبسڈی کے ذریعے سرمایہ کی لاگت کم کرنے میں معاونت کرے گا، تاکہ کاروباری افراد زیادہ آسانی سے سرمایہ حاصل کر سکیں اور صوبے بھر میں پائیدار معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

یہ اشتراک ان طبقات کے لئے مالی نظام کو مضبوط بنائے گا جو اب تک مالی سہولیات سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے لیکن معیشت میں گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ ان میں زرعی ویلیو چینز، لائیو اسٹاک اور ڈیری، پولٹری، فشریز، کولڈ اسٹوریج اور لاجسٹکس، قابلِ تجدید اور متبادل توانائی، خواتین کی زیرِ قیادت کاروبار، کان کنی و معدنیات کی پروسیسنگ اور جدت پر مبنی آئی ٹی منصوبے شامل ہیں۔ اس معاہدے کے تحت موبی لنک بینک قلیل، درمیانی اور طویل مدتی فنانسنگ فراہم کرے گا جبکہ ایس ای ڈی ایف ابتدائی تین سال کے لئے ایک سالہ کائبور (KIBOR) یا 10 فیصد (جو بھی کم ہو) تک مارک اپ سبسڈی دے گا، اس مدت میں کارکردگی کی بنیاد پر توسیع کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔ ہر منصوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ 50 لاکھ روپے تک فنانسنگ دستیاب ہوگی، جبکہ جدت پر مبنی منصوبوں میں توسیع کی سہولت بھی رکھی جائے گی۔



اس موقع پر موبی لنک بینک کے صدر و سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، ''چھوٹے کاروبار پاکستان کی حقیقی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ کاروبار روزگار پیدا کرتے ہیں، مقامی برادریوں کو متحرک رکھتے ہیں اور علاقائی ویلیو چینز کو مضبوط بناتے ہیں، مگر اس کے باوجود بہت سے کاروباری افراد کو سستی فنانسنگ کی آسان سہولت میسر نہیں۔ ایس ای ڈی ایف کے ساتھ یہ اشتراک مالی جدت اور پالیسی میں معاونت کے ذریعے ان شعبوں تک رسائی بڑھائے گا جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارا ہدف یہ ہے کہ مناسب لاگت پر سرمایہ براہِ راست مقامی کاروباری افراد تک پہنچایا جائے، نچلی سطح سے معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے اور صوبے بھر میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ یہ شراکت داری آج کے چھوٹے کاروباروں کو مضبوط بنانے کا ایک عملی قدم ہے، تاکہ کل ہم ایک زیادہ مستحکم اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی معیشت تشکیل دے سکیں۔''

سندھ حکومت کے محکمہ سرمایہ کاری کے سیکریٹری زبیر احمد چنہ نے زور دیا کہ حکومت صوبے بھر میں پیداواری شعبوں کی معاونت کے لیے مضبوط اور مؤثر مالیاتی نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق اس جیسی منظم شراکت داری سرکاری و نجی شعبے کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے اور سندھ کی ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں کام کرنے والے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے قابلِ توسیع سرمائے کی فراہمی کی راہیں کھولتی ہے۔

یہ شراکت داری موبی لنک بینک کے اس پختہ عزم کا اظہار ہے کہ وہ سرکاری پالیسی معاونت کو نجی شعبے کی مؤثر اور تیز رفتار کارکردگی کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پاکستان کے ابھرتے ہوئے معاشی خطوں میں ہمہ گیر ترقی، پائیدار استحکام اور کاروباری مواقع کو فروغ دے۔ اس اقدام سے چھوٹے و درمیانی کاروبار بالخصوص دیہی علاقوں کے کاروبار اور خواتین کی زیر قیادت کاروبار کو فائدہ پہنچے گا، جو کم لاگت میں قرض اور باضابطہ کریڈٹ تک بہتر رسائی کے ذریعے اپنی پیداوار میں اضافہ، گرین ٹیکنالوجی کا استعمال اور کاروبار میں وسعت لا سکیں گے۔

موبی لنک بینک اور ایس ای ڈی ایف کا یہ اشتراک رعایتی معاونت اور تجارتی فنانسنگ کو یکجا کر کے سندھ میں طویل المدتی معاشی استحکام کو فروغ دے گا، اور مستقبل میں اس ماڈل کو دیگر صوبوں میں بھی کامیابی سے نافذ کیا جاسکے گا۔

بدھ، 25 فروری، 2026

میگا موٹر کمپنی کا پاکستان کے پہلے بڑے NEV پلانٹ کی تعمیر کیلئے برٹش انٹریشنل انویسٹمنٹ سے فنانسنگ کا معاہدہ


کراچی ; پاکستان میں BYD کی آفیشل پارٹنر، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) نے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (بی آئی آئی) کے ساتھ فنانسنگ کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ بی آئی آئی برطانیہ کا ترقیاتی مالیاتی ادارہ اور امپیکٹ انویسٹر ہے، اور اس معاہدے کا مقصد پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں (NEV) کی خصوصی طور پر تیاری سے متعلق پہلے بڑے مینوفیکچرنگ پلانٹ کے قیام میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

اس معاہدے کے تحت بی آئی آئی طویل مدتی غیر ملکی کرنسی میں فنانسنگ فراہم کرے گا، جو اس منصوبے کی مجموعی لاگت کی 25 فیصد فناسنگ ہو گی۔ یہ سرمایہ کاری ایم ایم سی کے جدید اور خصوصی طور پر تیار کردہ NEV مینوفیکچرنگ پلانٹ میں کی جائے گی۔ اس پلانٹ کی باقاعدہ پیداوار رواں سال کی دوسری ششماہی میں شروع ہونے کا منصوبہ ہے۔ اس پلانٹ میں جدید آٹو میشن ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے مینوفیکچرنگ سسٹمز نصب کئے جائیں گے جو عالمی آٹو موٹیو معیارات میں سب سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

یہ معاہدہ پاکستان کی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ شعبے میں گرین انرجی سے منسلک اولین مالی معاونت میں شامل ہے، اور توقع ہے کہ اس سے صاف اور کم خرچ ٹرانسپورٹ کی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے مطابق پاکستان اس وقت فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کے بدترین ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ ملک میں گرین ہاؤس گیسز کے مجموعی اخراج کا 43 فیصد سے زائد حصہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے سے آتا ہے۔ ماہرین کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر ملک میں محض 30 فیصد گاڑیاں نیو انرجی گاڑیوں (NEVs)پر منتقل ہو جائیں تو ان گیسز کے مجموعی اخراج میں تقریباً 20 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ کلین موبیلٹی نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی لانے کا تیزرفتار اور مؤثر ذریعہ ہے بلکہ اس سے تیل کی درآمدات کم کرنے اور مقامی گرین انڈسٹری کو فروغ دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔




اس منصوبے سے 1100 سے زائد نئی ملازمتوں کی توقع ہے، جبکہ پائیدار صنعتی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ اندازہ ہے کہ 2034 تک تقریباً 165000 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ ممکن ہوگا۔

میگا موٹر کمپنی کے سی ای او، علی خان نے کہا، ''یہ اشتراک پاکستان میں ہماری طویل المدتی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ NEVs کے فروغ کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس سے لوگوں کی گاڑیوں تک رسائی بہتر ہوگی، سپلائی چین مضبوط ہوگی اور حکومتِ پاکستان کے NEVs اور  توانائی کے ذرائع کی منتقلی سے متعلق اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔''

میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی)کے سی ای او، علی خان نے کہا، "پاکستان اس وقت ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں کلین موبیلٹی ملک کے طویل المدتی معاشی اور توانائی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے ایم ایم سی اس تبدیلی میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے اور ملک میں عالمی مسابقتی معیار کے مطابق نیو انرجی گاڑیوں کے نظام کی بنیاد رکھ رہی ہے۔یہ گرین فیلڈ سرمایہ کاری نہ صرف نیو انرجی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ کو تیز کرے گی بلکہ مضبوط ویلیو چین کی تعمیر کے ذریعے پاکستان کی آٹو موٹیو صنعت کے مستقبل کو بھی نئی سمت دے گی، اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہوگی اور طویل عرصے کے لیے صنعتی صلاحیت مستحکم ہوگی۔"

برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور فنانشل سروسز گروپ، برائے انڈسٹریز، ٹیکنالوجی اینڈ سروسز کے سربراہ، اسٹیفن پرسٹلی نے کہا، ''اس سرمایہ کاری کا مقصد مستحکم صنعتی تبدیلی اور ماحولیاتی اقدامات کی ترجیحی طور پر حمایت کرنا ہے۔ اس کے ذریعے بڑھتے ہوئے گرین سیکٹر میں نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے صارف ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی تقویت ملے گی۔''

اسی دوران، میگا موٹر کمپنی برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے تعاون سے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG) کا پائیدار ضابطہ بھی نافذ کر رہی ہے۔ اس میں بہتر لیبر اسٹینڈرڈز، پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے انتظامات، اسٹیک ہولڈرز سے مؤثر رابطہ اور ذمہ دارانہ سپلائی چین کے سسٹمز شامل ہیں۔

منگل، 24 فروری، 2026

پولیس موبائل پر فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت 6 اہلکار اور ایک شہری شہید ہوگیا

کوہاٹ کے نواحی علاقے میں ایک بار پھر خونریزی کی ایک دلخراش داستان رقم ہو گئی ہے، جہاں دہشت گردوں نے پولیس کی بہادری اور فرض شناسی کو نشانہ بنایا۔ شکردرہ روڈ پر جب پولیس ٹیم ایک زیر حراست ملزم کو لے کر جا رہی تھی، تو اچانک نامعلوم مسلح افراد نے شدید فائرنگ شروع کر دی. یہ حملہ اتنا بے رحم تھا کہ ڈی ایس پی لاچی اسد محمود سمیت پانچ بہادر اہلکار شہید ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ شہداء میں انسپکٹر انارگل خان، گن مین، ریڈر اور ڈرائیور شامل ہیں،  یہ وہ لوگ تھے جو ہر روز امن کی خاطر جان کی بازی لڑاتے ہیں۔حملہ آوروں نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ پولیس موبائل کو آگ بھی لگا دی اور فرار ہو گئے، مگر ان کی یہ کارروائی پولیس کی لگن اور عزم کو نہیں توڑ سکی۔




واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، اور کوہاٹ سے اضافی دستے بھیج کر وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے، اور انصاف کی تلوار اب تیزی سے چل رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور دیگر شہداء کے خاندانوں کے ساتھ پورا ملک کھڑا ہے،  ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ 

یہ حملہ نہ صرف ایک خاندانوں کا غم ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک لمحہ سوچنے کا ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے جوان کس خطرے میں رہ کر فرض ادا کرتے ہیں۔ ان شہداء کی قربانی پر سر جھکاتے ہیں، اور دعا ہے کہ ان کی روحوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو شفا دے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فتح یاب ہو۔

جمعرات، 19 فروری، 2026

پی ٹی سی ایل فلیش فائبر نے معیاری سروس اور گیمنگ تجربے کی فراہمی کی بدولت دو ’اوکلا‘ ایوارڈز حاصل کر لیے


پی ٹی سی ایل فلیش فائبر  نے  معیاری سروس اور گیمنگ تجربے کی فراہمی کی بدولت دو 'اوکلا' ایوارڈز حاصل کر لیے

اسلام آباد؛  پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ  کی فلیگ شپ براڈبینڈ سروس، پی ٹی سی ایل فلیش فائبر کو عالمی سطح پر انٹرنیٹ ٹیسٹنگ اور تجزیے کے شعبے کی معروف کمپنی، اوکلا (Ookla)  کی جانب سے دو نمایاں ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، جن میں سال 2025 کے ''بہترین فکسڈ نیٹ ورک'' اور اسی سال  کے دوسرے نصف (H2 2025) کے لیے پاکستان میں ''بہترین آئی ایس پی گیمنگ ایکسپیریئنس'' فراہم  کنندہ کے اعزازات  شامل ہیں۔

یہ ایوارڈز پاکستان میں سال 2025 کی دونوں ششماہیوں کے اسپیڈ ٹیسٹ کنیکٹیوٹی رپورٹ کے اعداد و شمار   کی بنیاد پر دیے گئے ہیں اور ملک بھر میں اعلیٰ رفتار، کم ترین تعطل  اور بہتر ین صارف تجربے کی فراہمی میں پی ٹی سی ایل فلیش فائبر کی مسلسل کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔


بہترین فکسڈ نیٹ ورک کا ایوارڈ اوکلا کی جانب سے اہم ترین کارکردگی کے اشاریوں (KPI) ایویلیوایشن ماڈل کے تحت دیا جاتا ہے، جس میں ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ  کی رفتار، تعطل، ویڈیو اسٹریمنگ کی کارکردگی اور ویب براؤزنگ تجربے سمیت اہم عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اوکلا کو    فکسڈ براڈبینڈ نیٹ ورک کی کارکردگی کے حوالے سے اعلیٰ ترین اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔
سال2025 کی پہلی ششماہی میں پی ٹی سی ایل فلیش فائبر کو پاکستان کے چار خطوں میں تیز ترین سروس فراہم کنندہ قرار دیا گیا۔ جبکہ اسی سال کی دوسری ششماہی میں یہ سروس مارکیٹ میں اپنی رہنما حیثیت کو مزید مستحکم کرتے ہوئے اوکلا کے شائع کردہ ڈیٹا کے مطابق ملک کے بیشتر خطوں میں تیز ترین  سروس فراہم کنندہ کے طور پر سامنے آئی۔
اس کے علاوہ، پی ٹی سی ایل فلیش فائبر نے دوسری ششماہی کے لیے  بہترین آئی ایس پی گیمنگ ایکسپیریئنس ایوارڈ بھی حاصل کیا، جو کم ترین تعطل  اور مستحکم کنیکٹیویٹی کے ذریعے بغیر رکاوٹ  کے آن لائن گیمنگ کی سہولت کی  فراہمی  کے   بہترین  نیٹ ورک ڈیزائن کا عکاس  ہے۔ یہ ایوارڈ پاکستان بھر میں گیمرز اور زیادہ بینڈوڈتھ استعمال کرنے والے صارفین کی بدلتی ہوئی ڈیجیٹل ضروریات پوری کرنے کے پی ٹی سی ایل کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔
پی ٹی سی ایل ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کی توسیع، جدید ترین  انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی کنیکٹیویٹی ضروریات کے مطابق عالمی معیار کے ڈیجیٹل تجربات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

منگل، 17 فروری، 2026

ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک موبی لنک بینک کو 3.62 ارب روپے کا ریکارڈ قبل از ٹیکس منافع


پاکستان کے سب سے بڑے مائیکروفنانس بینک کے طور پر موبی لنک بینک کی پوزیشن مزید مستحکم

اپنے صارفین، ریگولیٹرز، شیئر ہولڈرز اور اپنی ٹیموں کے اعتماد کے مشکور ہیں، حارث محمود چوہدری

اسلام آباد، :  پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک  نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ بینک نے اہم مالیاتی اور آپریشنل اشاریوں میں نمایاں ترقی حاصل کی اور مائیکروفنانس بینکنگ کے شعبے میں اپنی قائدانہ حیثیت مزید مستحکم کی۔

سال 2025 موبی لنک بینک کے لیے مستحکم مالیاتی سال ثابت ہوا۔ بینک کا منافع قبل از ٹیکس 3.62 ارب روپے تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 217 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جبکہ مجموعی آمدن 33 فیصد بڑھ کر 89.5 ارب روپے ہو گئی۔ بینک کے ڈپازٹس 38 فیصد اضافے سے 214 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو مائیکروفنانس کے شعبے میں سب سے زیادہ ہیں اور اس سے صارفین کے بھرپور اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ گراس لون پورٹ فولیو 38 فیصد اضافے سے 103 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ سال کے اختتام پر بینک نے 19.53 فیصد کی مضبوط کیپیٹل ایڈیکویسی ریشو (CAR) برقرار رکھی، جو اس کی مستحکم مالی بنیاد اور محتاط رسک مینجمنٹ کی عکاسی کرتی ہے۔



بینک نے ماحولیاتی اعتبار سے پائیداری کے عزم کے تحت گرین فنانسنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 55.5 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ اس اقدام کے ذریعے انفرادی، گھریلو اور چھوٹے کاروباروں کو ماحول دوست مصنوعات اور وسائل اختیار کرنے میں عملی مدد فراہم کی گئی۔ بینک نے مالی شمولیت کے فروغ کا سلسلہ بھی جاری رکھا، جبکہ لون پورٹ فولیو میں خواتین کا تناسب 24.6 فیصد رہا۔ یہ پیش رفت خصوصی لون اسکیموں اور بہتر ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی کے باعث ممکن ہوئی، جس سے خواتین کی مالی رسائی مزید مضبوط ہوئی۔

سال 2025 کی ایک اہم پیش رفت اسلامی بینکاری کا آغاز تھا، جو بینک کی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اسلامی اصولوں کے مطابق مالیاتی مصنوعات متعارف کرا کے موبی لنک بینک نے مختلف سماجی طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا اور خود کو ایک ذمہ دار اور مستقبل کے مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اپنی ساکھ کو مزید مضبوط کیا۔

بینک کی کارکردگی اس کے لون کے ذمہ دارانہ نظام کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ہر لون کا فیصلہ محتاط مالی جائزے، شفاف قیمتوں، منصفانہ ریکوری طریقہ کار اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط کی مکمل پاسداری کے تحت کیا جاتا ہے۔ صارفین کو ضرورت سے زیادہ لون کے بوجھ سے بچانے اور پائیدار مالی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے داخلی نظام کو بھی مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔بینک کی ترقی میں شیئر ہولڈرز کے اعتماد نے بھی اہم کردار ادا کیاجس سے بینک کے سرمائے کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی  اور اس کی طویل المدتی حکمت عملی اور بڑی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی کو تقویت ملی۔

موبی لنک بینک کے صدر اور سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، ''ان اعداد و شمار کے پیچھے ایک بڑا مقصد کارفرما ہے، اور وہ یہ ہے کہ اُن لوگوں تک مالی سہولیات کی رسائی بڑھائی جائے جو اب تک ان سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے۔ ہم ملک کے سب سے بڑے مائیکروفنانس بینک کے طور پر اپنے صارفین، ریگولیٹرز، شیئر ہولڈرز اور اپنی ٹیموں کے شکر گزار ہیں جن کے اعتماد اور محنت نے ہماری پیش رفت کو ممکن بنایا۔ ہماری ترقی دراصل اُن لاکھوں افراد کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے روزگار اور کاروبار کے لیے ہم پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم بدستور اس عزم پر قائم ہیں کہ ذمہ دارانہ اور شرعی اصولوں کے مطابق ڈیجیٹل بینکاری کے ذریعے چھوٹے کاروباروں اور نئے کاروباری افراد کو بااختیار بنائیں اور پاکستان بھر میں پائیدار مواقع اور مالی شمولیت کو فروغ دیں۔''

موبی لنک بینک کے چیف فنانشل آفیسر، عادل علی عباسی نے کہا، ''سال 2025 کی کارکردگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم نے مالی نظم و ضبط، اثاثوں کے بہتر معیار اور بیلنس شیٹ کے موثر انتظام پر بھرپور توجہ دی۔ منافع، ڈپازٹس اور پورٹ فولیو کے حجم میں اضافہ ہمارے بنیادی کاروبار کے استحکام کو اجاگر کرتا ہے اور ہماری اس صلاحیت کو سامنے لاتا ہے کہ ہم محتاط رسک مینجمنٹ اور سرمائے کی مستحکم پوزیشن کی بدولت ترقی کی رفتار برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ہم اپنی مالی بنیادوں کو مزید مستحکم کریں گے، آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنائیں گے اور ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے بینک کی طویل المدت ترقی کو یقینی بنائیں گے۔''

سال 2026 میں موبی لنک بینک اپنے اس ہدف پر قائم ہے کہ وہ ڈیجیٹل اسلامی بینکنگ کی خدمات کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے ملک کا نمبر ون بینک بنے۔

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں