پیر، 2 فروری، 2026

سعودی عرب میں 19 ہزار 975 افراد کو ڈی پورٹ کردیا گیا

سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔

مقامی میڈیا ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی مزید 19 ہزار 975 کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 14 ہزار867 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
22 سے 28 جنوری 2026 کے درمیان 12 ہزار906 اقامہ قانون، 3 ہزار918 بارڈر سکیورٹی اور 3 ہزار 151 قانون محنت کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 419 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں 60 فیصد ایتھوپین، 39 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
48 ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جو سعودی عرب سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 11 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی،

کراچی: پیر کے روز شہر کے مرکزی علاقے صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، جس نے عمارت کی ساتویں منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی تین گاڑیاں موقع پر پہنچیں، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث مزید گاڑیاں طلب کر لی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ساتویں منزل پر لوگ پھنس گئے تھے جبکہ دھوئیں سے ایک شخص متاثر ہوا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم دکانداروں نے حفاظتی طور پر اپنی دکانیں بند کرنا شروع کر دیں۔




افسوسناک طور پر گل پلازہ میں آگ اور دھوئیں کے باعث کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ منزل سے لاشیں برآمد کیں، جس نے اس واقعے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی مراکز میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی اور فوری ریسکیو و امدادی کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس پی ٹریفک ساؤتھ کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت دی اور متاثرہ عمارت و اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کا حکم دیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فائر بریگیڈ کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور ہائیڈرینٹس پر ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔

اتوار، 1 فروری، 2026

شان شاہد کی عیدالفطر 2026 پر شاندار واپسی، پنجابی ایکشن فلم ’بُلّھا‘ کا اعلان

پاکستان: شیک فلمز نے اپنی بڑی پاکستانی پنجابی ایکشن فلم 'بُلّھا' کا موشن پوسٹر جاری کر دیا ہے، جس کے بعد شائقینِ سینما اور فلمی حلقوں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ فلم میں پاکستان کے سپر اسٹار شان شاہد مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دیگر نمایاں اداکاروں میں مونا لیزا، نعیمہ بٹ، عدنان بٹ، علی جوش، ماہَم مرزا اور آصف خان شامل ہیں۔ یہ فلم تقریباً 30 سال بعد شان شاہد اور سلیم شیخ کی اسکرین پر یادگار واپسی بھی ہے، جس کا شائقین طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے فلم کی تقسیم ایچ کے سی انٹرٹینمنٹ کے تحت کی جا رہی ہے

فلم کے موشن پوسٹر نے 'بُلّھا' کے شاندار انداز، سنسنی خیز فضا اور بصری وسعت کی ایک جھلک پیش کی ہے۔ اسی سلسلے میں فلم کا باضابطہ ٹیذر لانچ ایونٹ 30 جنوری 2026 کو سینی اسٹار، شِنہوا مال، لاہور میں منعقد کیا جائے گا، جس میں فلم کے فنکاروں، تخلیقی ٹیم اور میڈیا نمائندگان کی شرکت متوقع ہے۔ فلم عیدالفطر 2026 پر ملک بھر میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ نامور ہدایتکار شعیب خان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم 'بُلّھا' ایک ایسے جدید دور کے ہیرو کی کہانی ہے جو ناانصافی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ فلم پنجابی ثقافت اور روحانی پس منظر میں جڑی ایک طاقتور داستان پیش کرتی ہے، جس میں ایکشن کے ساتھ جذباتی گہرائی بھی شامل ہے۔ فلم ظلم، مزاحمت، حوصلے اور حق و باطل کی ازلی کشمکش کو اجاگر کرتی ہے۔ اس موقع پر ہدایتکار شعیب خان نے کہا:"'بُلّھا' میری محبت اور محنت کا نتیجہ ہے، جو عالمی سطح پر ناظرین سے جڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ فلم ظلم، مزاحمت، ایمان اور وقار جیسے آفاقی موضوعات کو پنجابی ثقافت میں سموئے ہوئے ہے۔"



فلم کے ہیرو شان شاہد نے کہا: "'بُلّھا' محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک آواز ہے۔ یہ وہ سینما ہے جس کی آج ہمیں ضرورت ہے—بے خوف، بامعنی اور سچ پر مبنی۔ یہ فلم ہماری ثقافت اور ایمان کی طاقت کو یاد دلاتی ہے اور دیر تک ناظرین کے دل و دماغ پر اثر چھوڑتی ہے۔" فلم کے پروڈیوسر مسٹر وہورا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "'بُلّھا' پنجابی سینما کی تجارتی صلاحیت اور ثقافتی طاقت کا ثبوت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ فلم نہ صرف ناظرین کو متاثر کرے گی بلکہ معیاری اور مقامی ثقافت سے جڑی فلم سازی کے ایک نئے دور کی بنیاد بھی رکھے گی، جو پاکستانی سینما کے مستقبل کو مضبوط بنائے گی۔"

فلم کی کہانی معروف اور لیجنڈری مصنف ناصر ادیب نے تحریر کی ہے، جن کی تحریری خدمات جنوبی ایشیائی سینما کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس مضبوط تخلیقی ٹیم کے ساتھ 'بُلّھا' کو سال کی ایک بڑی اور یادگار فلم قرار دیا جا رہا ہے، جو عوامی مقبولیت کے ساتھ بامعنی کہانی، شاندار اداکاری اور ثقافتی ہم آہنگی کا حسین امتزاج پیش کرے گی۔

جمعہ، 30 جنوری، 2026

میزان بینک کوملائیشیا کے مرکزی بینک کی جانب سے رسک شیئرنگ فنانس پر مہارت شیئرکرنے کی دعوت

کراچی: پاکستان کے ممتاز اور سب سے بڑے اسلامی بینک میزان بینک نے رسک شیئرنگ فنانس پر علم و تجربہ کے تبادلہ کیلئے ملائیشیا کے مرکزی بینک، بینک نیگارا ملائیشیا  (BNM)کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

میزان بینک نے بینک نیگارا ملائیشیاکی دعوت پر ملائیشیا میں اسلامک بینکنگ کے ماہرین کیلئے ڈیزائن کیے گئے ایک پروگرام "انکیوبیشن پروگرام آن رسک شیئرنگ"میں بطور مقرر شرکت کی۔ اس پروگرام کا مقصد ملائیشیا کے اسلامی بینکاری سیکٹر میں رسک شیئرنگ اور نان ڈیٹ بیسڈ مالیاتی سلوشنز کے فروغ میں معاونت فراہم کرناتھا۔ پروگرام میں میزان بینک کی مارکیٹ لیڈرشپ اوراسلامی بینکاری میں وسیع تجربہ سے استفادہ کیاگیا۔



پروگرام میں میزان بینک کی نمائندگی شریعہ کمپلائنس کے سربراہ شایان احمد بیگ نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں شریعہ کے مطابق رسک شیئرنگ پراڈکٹس کی تشکیل، نفاذ اورگورننس سے متعلق میزان بینک کے عملی تجربے کی بنیاد پر تفصیلی گفتگوکی۔ سیشنز میں رسک شیئرنگ کے نظریاتی اصولوں کو قابلِ عمل بینکاری سلوشنز میں ڈھالنے پر توجہ دی گئی جبکہ ریگولیٹری تقاضوں، آپریشنل نفاذاور شریعہ گورننس فریم ورک پربھی تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ میزان بینک نے رسک شیئرنگ مقاصدسے ہم آہنگ متبادل مصنوعات کے اسٹرکچر اورمقامی ریگولیٹری تقاضوں سے متعلق اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔

اس دورہ کے دوران شایان احمد بیگ نے بینک نیگارا ملائیشیا کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کی اور حال ہی میں لانچ کی گئی میزان بینک کی آفیشل تاریخ پر مبنی کتاب"Unconventional: The Bank No One Saw Coming," نیگارا بینک کے اسسٹنٹ گورنر کو پیش کی۔ اس کتاب میں پاکستان میں اسلامی بینکاری کی ترقی میں میزان بینک کے سفر اور کردارکو اجاگر کیاگیاہے۔

اس پروگرام میں میزان بینک کی شرکت اسلامی بینکاری کے شعبہ میں اس کے قائدانہ کردار، تکنیکی مہارت اور فکری قیادت کے بڑھتے ہوئے عالمی اعتراف کی عکاسی ہے۔ کسی غیر ملکی مرکزی بینک کی جانب سے دعوت دیاجانا اس بات کی عکاسی ہے کہ میزان بینک نہ صرف پاکستان بلکہ اہم بین الاقوامی مارکیٹس میں بھی اسلامی مالیات کے ایک نمایاں اور معیاری ادارے کے طورپر تسلیم کیا جاتاہے۔

محمد سعید مہدی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’دی آئی وِٹنس‘ کی لاہور میں رونمائی

لاہور:  محمد سعید مہدی کی طویل انتظار کے بعد شائع ہونے والی یادداشتوں پر مبنی کتاب

 The Eyewitness: Standing in the Shadows of Pakistan's History

کی رونمائی لاہور میں ایک پروقار اور بھرپور تقریب کے دوران کی گئی۔ لائٹ اسٹون پبلشرز کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس تقریب میں 600 سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں سفارتکار، سینئر صحافی، قانونی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور ادبی شخصیات شامل تھیں۔ یہ کتاب پاکستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ میں ایک اہم اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔

تقریب کا آغاز لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر آمنہ سید کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جنہوں نے کتاب کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کے اہم اور فیصلہ کن ادوار کا چشم دید بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد سعید مہدی کے مشاہدے میں آنے والے ادوار آئندہ نسلوں کے لیے قیمتی تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔



آمنہ سید نے لائٹ اسٹون پبلشرز کی تعلیمی اور ثقافتی خدمات کا بھی ذکر کیا، خصوصاً ادب فیسٹیول کے ذریعے فکری اور تخلیقی ترقی کے فروغ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے شائع کردہ اسکول نصاب کے کتب ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ ہیں اور تنقیدی سوچ، جستجو اور تخیل کو فروغ دیتے ہیں۔

مصنف محمد سعید مہدی نے اپنے خطاب میں کتاب لکھنے کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے کہا،
"میں نے یہ کتاب سچ کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی ہے۔ میں نے وہی لکھا ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، نہ اس میں کچھ بڑھایا اور نہ گھٹایا۔"اس کے بعد گفتگو نے کتاب کے سیاسی، عدالتی اور صحافتی پہلوؤں کا احاطہ کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی اور سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے چشم دید تاریخی بیانات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایسے بیانات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں شامل بھٹو مقدمے کے عدالتی پہلو ملکی قانونی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب لکھنا جہاد کی مانند ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بھی ردعمل کا باعث بن سکتا ہے، مگر محمد سعید مہدی نے بے خوف ہو کر سچ لکھا۔ انہوں نے

پیر، 26 جنوری، 2026

خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کی جانب سے SME کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026 میں نمایاں کاروباری حل پیش


لاہور ؛ خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ  نے SME میڈ اِن پاکستان کلسٹر ایکسپو 2026 میں اپنے اسٹال کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے مؤثر اور جامع حل پیش کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ایکسپو کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے زیرِ اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے SME شعبے میں کام کرنے والے معتبر اداروں اور پلیٹ فارمز نے شرکت کی۔

SME کلائنٹس کے ساتھ کامیاب شراکت داری اور ثابت شدہ کارکردگی کی بنیاد پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک کو اپنے خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے باعث بھرپور پذیرائی ملی۔ یہ قرضہ پروگرام مختلف زمروں پر مشتمل ہے جو بینک کے متنوع صارفین اور ان کی مختلف کاروباری ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔



ثاقب حسین ، ریجنل بزنس ہیڈ،خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"خوشحالی مائیکروفنانس بینک میں SME شعبے کے لیے ہماری اولین ترجیح استحکام اور ترقی ہے جو سادہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے حاصل کی جاتی ہےتاکہ کاروباری مالکان اپنے اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔"

بینک کے اسٹال میں خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے تحت مختلف نمایاں حل پیش کیے گئے جن میں رننگ فنانس قرضہ شامل تھا جو مؤثر کیش فلو مینجمنٹ اور ورکنگ کیپیٹل کے تسلسل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کمرشل وہیکل فنانسنگ جو لاجسٹکس، نقل و حرکت اور تقسیم کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کاروباری توسیع میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر قرضہ لاگت میں کمی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدتی عملی پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تمام حل شرکاء میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو SME شعبے کی عملی ضروریات سے ان کی براہِ راست مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدف ارشد رانا، سینئر ایریا مینیجر، خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"ہمارے خوشحالی کاروباری قرضہ جات ہمارے صارفین کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلق اور مختلف معاشرتی طبقات کی ضروریات کو سمجھنے کا ثبوت ہیں جو مختلف SME صنعتوں میں محفوظ اور پائیدار ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔"

ملک کے SME شعبے کے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک اپنے دیہی، شہری اور نیم شہری صارفین کو مخصوص مالی مصنوعات، خدمات اور رہنمائی فراہم کرتا رہے گا جو پاکستان کے SME شعبے کی ترقی کے لیے بینک کے عزم اور ایک نمایاں مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

نیہا کریم اللہ اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان کی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کی ایمبیسڈر منتخب

نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر میں اسپاٹیفائی کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر نیہا کریم اللہ جلوہ گر ہوئیں

کراچی ؛ اسپاٹیفائی نے ابھرتی ہوئی ڈانس -پاپ گلوکارہ نیہا کریم اللہ کو پاکستانی میوزک کی دنیا میں ایک تازہ اور مسحور کن آواز کو سراہنے کے ساتھ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے لیے ایکول پاکستان ایمبیسڈر منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں 22 جنوری کو نیہا کریم اللہ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں اسپاٹیفائی کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر جلوہ گر ہوئیں اور اس پلیٹ فارم ان کے گانے مختلف منتخب پلے لسٹس میں بھی شامل کئے گئے جو انکی گلوکاری کے سفر میں بڑا سنگ میل ہے۔

اپنی کہانی سنانے کے جذباتی انداز اور الیکٹرانک دھنوں کے امتزاج سے نیہا کی موسیقی نئی نسل کے سامعین کو مسحور کردیتی ہے۔ نیہا کے خصوصی گیت ''آؤ تو ذرا'' نے اپنے ماڈرن طریقے سے تیاری اور دل کو چھولینے والے انداز سے سامعین کو متوجہ کیا ہے جس کی بدولت انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی منفرد سامعین سے جڑنے میں مدد ملی ہے۔

انکی مسلسل مقبولیت کا اظہار پاکستان سے بڑھ کر امریکا، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات سے سامعین کی بڑھتی تعداد نیہا کی موسیقی کی عالمی رسائی کی عکاس ہے۔ اسپاٹیفائی کے اعداد و شمار کے مطابق ان کے 85 فیصد سامعین ملینیئلز اور جین زی سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ نوجوان انکی موسیقی کے انداز کو پسند کرتے ہیں۔

  

ڈانس۔پاپ کے شعبے میں نیہا کے گیتوں کے کیٹالاگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکے گیتوں میں توانائی اور جذبات کا اظہار ایک توازن کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ انکے گیت جیسے Modern Day Witch Trial (Mdwt) اور 'دیوانے' ردھم اور رقص کے انداز کو نمایاں کرتے ہیں جبکہ 'نہ کروں ' گیت سے انکی تخلیق کا ایک منفرد زاویہ سامنے آیا ہے۔ مجموعی طور پر، انکی گلوکاری کی صلاحیتیں منفردآواز اور کہانی سنانے کے دلچسپ طریقوں کے ذریعے سامعین کو جوڑے رکھتی ہیں۔

ایکول پاکستان کی ایمبیسڈر بننے پر نیہا کریم اللہ نے کہا، ''اسپاٹیفائی ایکول پاکستان پروگرام خواتین گلوکاروں کے لیے واقعی ایک شاندار اقدام ہے۔ یہ خواتین گلوکاروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، ہماری کہانیوں کو جگہ دیتا ہے اور ہمیں وہ پہچان دیتا ہے جس کی بہت عرصے سے ضرورت تھی۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو ہماری جدوجہد کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری آواز کو مزید بلند کرتا ہے۔ ایسی کاوش کا حصہ بننا جو خواتین کی حوصلہ افزائی کرے، انکی نمائندگی میں پیش قدمی کرے اور نئی نسل کی لڑکیوں کو موسیقی کے لئے مائیک اٹھانے کی ترغیب دے، وہ میرے لئے بہت خاص ہے۔ "

اسپاٹیفائی پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپس کی منیجر رطابہ یعقوب نے کہا، ''پاکستانی میوزک انڈسٹری میں نیہا کریم اللہ ایک نئی آواز ہے جو تنوع اور تازگی لیکر آئی ہیں۔ ایکو ل پاکستان کے ذریعے ہم خواتین گلوکاروں کو انکی موسیقی کے سفر میں ہر مرحلے پر تعاون فراہم کرتے ہیں اور نیہا کی اس پروگرام میں شمولیت اس عزم کی عکاس ہے کہ ہم ابھرتی ہوئی آوازوں عالمی سطح تک پہنچانا چاہتے ہیں ''

ایکول پاکستان جیسے اقدامات کے ذریعے اسپاٹیفائی خواتین گلوکاروں کی عالمی سطح پر حوصلہ افزائی کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ نیہا کریم اللہ کا بطور حالیہ ایکول پاکستان ایمبیسڈر انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ اسپاٹیفائی وسیع اقسام کی آوازوں کو آگے لانے اور پاکستانی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

پاکستان کی متاثر کن خواتین گلوکاروں کے گیت تلاش کرنے کے لئے سامعین اسپاٹیفائی پر ایکول پاکستان کی پلے لسٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان اور ملائیشیا کے برادرانہ تعلقات تعلیم کے شعبے میں بھی مستحکم

ملائیشیا میں پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم، ای ایم جی ایس

اسلام آباد: ایجوکیشن ملائیشیا گلوبل سروسز نے اسلام آباد میں ایک نیٹ ورکنگ تقریب کا انعقاد کیا، جس کی میزبانی پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر عالی جناب داتو محمد اظہر مزلان نے کی۔ اس موقع پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا، جو مشترکہ ثقافتی، مذہبی اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے تعلیمی نظام، عالمی سطح پر تسلیم شدہ جامعات اور مناسب تعلیمی اخراجات کے باعث ملائیشیا پاکستانی طلبہ کے لیے ایک پسندیدہ تعلیمی منزل بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اس وقت ملائیشیا کی معروف سرکاری و نجی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی روابط کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
 


اس موقع پر موئن احمد، ریجنل ہیڈ جنوبی ایشیا، ایجوکیشن ملائیشیا گلوبل سروسز نے بھی خطاب کیا اور پاکستان کے تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ملائیشیا کے تعلیمی نظام کی مضبوط علمی بنیادوں، صنعت سے ہم آہنگ نصاب اور طلبہ دوست ماحول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ ملائیشیا کی عالمی معیار کی جامعات میں دستیاب تعلیمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

 یہ تقریب ملائیشیا کی اعلیٰ تعلیمی جامعات اور پاکستان کے تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان روابط، تعاون اور تبادلۂ خیال کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ اس موقع پر ملائیشیا کی معروف جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں یونیورسٹی آف ملایا، یونیورسٹی اترا ملائیشیا (UUM)، یونیورسٹی کوالالمپور (UniKL)، ایشیا پیسیفک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن (APU)، یو سی ایس آئی یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سائبرجایا (UOC) شامل ہیں۔
 
تقریب کے اختتام پر ای ایم جی ایس نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستانی طلبہ کے لیے ملائیشیا کو ایک ممتاز عالمی تعلیمی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کی جانب سے SME کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026 میں نمایاں کاروباری حل پیش

لاہورخوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ  نے SME میڈ اِن پاکستان کلسٹر ایکسپو 2026 میں اپنے اسٹال کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے
لیے مؤثر اور جامع حل پیش کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ایکسپو کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے زیرِ اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے SME شعبے میں کام کرنے والے معتبر اداروں اور پلیٹ فارمز نے شرکت کی۔

SME کلائنٹس کے ساتھ کامیاب شراکت داری اور ثابت شدہ کارکردگی کی بنیاد پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک کو اپنے خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے باعث بھرپور پذیرائی ملی۔ یہ قرضہ پروگرام مختلف زمروں پر مشتمل ہے جو بینک کے متنوع صارفین اور ان کی مختلف کاروباری ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔



ثاقب حسین ، ریجنل بزنس ہیڈ،خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"خوشحالی مائیکروفنانس بینک میں SME شعبے کے لیے ہماری اولین ترجیح استحکام اور ترقی ہے جو سادہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے حاصل کی جاتی ہےتاکہ کاروباری مالکان اپنے اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔"

بینک کے اسٹال میں خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے تحت مختلف نمایاں حل پیش کیے گئے جن میں رننگ فنانس قرضہ شامل تھا جو مؤثر کیش فلو مینجمنٹ اور ورکنگ کیپیٹل کے تسلسل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کمرشل وہیکل فنانسنگ جو لاجسٹکس، نقل و حرکت اور تقسیم کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کاروباری توسیع میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر قرضہ لاگت میں کمی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدتی عملی پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تمام حل شرکاء میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو SME شعبے کی عملی ضروریات سے ان کی براہِ راست مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدف ارشد رانا، سینئر ایریا مینیجر، خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"ہمارے خوشحالی کاروباری قرضہ جات ہمارے صارفین کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلق اور مختلف معاشرتی طبقات کی ضروریات کو سمجھنے کا ثبوت ہیں جو مختلف SME صنعتوں میں محفوظ اور پائیدار ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔"

ملک کے SME شعبے کے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک اپنے دیہی، شہری اور نیم شہری صارفین کو مخصوص مالی مصنوعات، خدمات اور رہنمائی فراہم کرتا رہے گا جو پاکستان کے SME شعبے کی ترقی کے لیے بینک کے عزم اور ایک نمایاں مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

جمعرات، 22 جنوری، 2026

موبی لنک کے انفارمیشن سیکیورٹی سسٹم نے ISO 27001​ کی عالمی سرٹیفکیشن حاصل کرلی



اسلام آباد : پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک نے آئی ایس او کی جدید عالمی سرٹیفکیشن (ISO/IEC 27001:2022) حاصل کرلی ہے۔ یہ سرٹیفکیشن اسکے انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹمز (آئی ایس ایم ایس)کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔یہ سرٹیفکیشن اُن اداروں کو دی جاتی ہے جو ڈیٹا سیکیورٹی کے بین الاقوامی تقاضوں پر پورا اترتے ہوں۔ یہ کامیابی موبی لنک بینک کی انفارمیشن سیکیورٹی کی مضبوط گورننس، سائبر خطرات کو منظم انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت، اور بہترین عالمی طریقوں کے تحت صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو ظاہر کرتی ہے۔

عالمی سطح پر اس سرٹیفکیشن (ISO/IEC 27001:2022) کو انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم کے قیام، اسکے نفاذ اور اس میں مسلسل بہتری کے لیے ایک اعلیٰ معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفکیشن خطرات سے نمٹنے کا واضح فریم ورک فراہم کرتی ہے جو انفارمیشن کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے، اور ڈیٹا کی رازداری، درستگی اور دستیابی کو یقینی بناتی ہے۔ موبی لنک بینک کی یہ کامیابی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کا ڈیجیٹل بینکنگ کا نظام مضبوط، خود مختار اور مصدقہ انفارمیشن کے تحفظ کے طریقہ کار پر قائم ہے۔



یہ اہم سنگِ میل موبی لنک بینک کے صارفین کو اولین ترجیح دینے کے وژن اور سروس میں جدت کے عزم سے ہم آہنگ ہے، جہاں عالمی معیار کو بنیادی آپریشنز کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بینک اپنے پلیٹ فارمز کی سیکیورٹی اور اعتماد کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے تاکہ صارفین کا بھرپور اعتماد قائم ہو اور ڈیجیٹل بینکنگ کی خدمات کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

اس اہم پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے موبی لنک بینک کے چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسر، مصطفی لوٹیا نے کہا، ''یہ سرٹیفکیشن صارفین کی معلومات کے تحفظ، سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے، اور ہماری تمام سرگرمیوں میں بہترین عالمی طریقوں کی شمولیت کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔ ہمارے صارفین اپنے ڈیٹا کے معاملے میں ہم پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، اور یہ سرٹیفکیشن اس اعتماد کے تحفظ سے متعلق ہماری ذمہ داری کو مزید مستحکم بناتی ہے۔ اس سرٹیفکیشن کی بدولت ہم پاکستان بھر میں محفوظ، جدید اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل بینکنگ کی خدمات مسلسل فراہم کرسکیں گے۔''

یہ سرٹیفکیشن موبی لنک بینک کے اس مقصد کو تقویت دیتی ہے کہ وہ مؤثر گورننس، رسک مینجمنٹ اور سیکیورٹی کنٹرولز کے ذریعے ایک مضبوط انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم (آئی ایس ایم ایس) قائم کرے، اسے فعال رکھے اور اسے مسلسل بہتر بناتا رہے، تاکہ انفارمیشن کا تحفظ ہو اور محفوظ، پائیدار اور قابلِ اعتماد بینکنگ کی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

پیر، 19 جنوری، 2026

لکی انوسٹمنٹس نے لکی فنڈز موبائل ایپ متعارف کرادی

کراچی: لکی انوسٹمنٹس نے موبائل سرمایہ کاری ایپلیکشن "لکی فنڈز"  متعارف کرادی ہے۔ یہ ایپ سرمایہ کاروں کو شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری تک محفوظ،آسان اور شفاف رسائی فراہم کرنے کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔

 

لکی فنڈز گوگل پلے اسٹور (Android) اور ایپل ایپ اسٹور (iOS) دونوں پر دستیاب ہے۔ ایپ کے ذریعے سرمایہ کار لکی انوسٹمنٹس کے تمام میوچل اور پنشن فنڈزمیں سرمایہ کاری،فنڈز کی تبدیل اور ریڈیمشن کی سہولت کے ساتھ ساتھ رئیل ٹائم میں پورٹ فولیو کی نگرانی اور فنڈزسے متعلق جامع معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

 

سرمایہ کاری کو آسان بنانے کیلئے تیارکی گئی ایپ کے ذریعے صارفین فنڈز کا جائزہ،ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت، سرمایہ کاری کی کارکردگی کو ٹریک اور کسی بھی وقت کہیں بھی اپنی سرمایہ کاری کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایپ سرمایہ کاروں کو آگاہی فراہم کرنے میں بھی معاون ہے جس میں شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری سے متعلق تجزیہ، سی ای او مارکیٹ آؤٹ لک اور مالی منصوبہ بندی کے ٹولز شامل ہیں جو منظم بچت اور کمپاؤنڈنگ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

 

لکی فنڈز ایپ کو ایک محفوظ ڈیجیٹل سروس چینل کے طورپر تیارکیاگیاہے جس میں بائیو میٹرک اور چہرے کی شناخت کی تصدیق، انکرپٹڈ کمیونیکیشن، بیک اینڈ آتھرائزیشن کنڑولز،آڈٹ ٹریل اور سسٹم کی منطقی تقسیم شامل ہے تاکہ ڈیٹا اور ٹرانزیکشنز کی رازداری، سالمیت اوراعتماد کو یقینی بنایا جاسکے۔

 

ایپ کی نمایاں خصوصیات میں ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنا، فنڈ کے حساب سے پورٹ فولیو کی سیگریشن،یومیہ نیٹ ایسٹ ویلیو(NAV) اور کارکردگی رپورٹس تک رسائی، اسٹیٹمنٹس اور سرٹیفکیٹس ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت، ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز، راست آئی ڈی جنریشن، کیوک پے سروس،قابلِ تخصیص یوزر انٹر فیس تھیمز، پش نوٹیفکیشنز اورسرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق اسکیل ہونے والا ہائی اویلبلٹی انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔

 

لکی انوسٹمنٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد شعیب سی ایف اے نے کہاکہ لکی فنڈز ایپ ٹیکنالوجی اور شریعہ کے مطابق گورننس کو یکجا کرنے کے کمپنی کے عزم کی عکاسی ہے جس کا مقصداعتماد اور شفافیت پر سمجھوتہ کیے بغیر سرمایہ کاروں کے تجربے کوبہتر بناناہے۔

جمعہ، 16 جنوری، 2026

زونگ فورجی کی پاکستان میں فائیو جی کو فروغ دینے کے لیے زیڈ ٹی ای اور سکوٹیل کے ساتھ شراکت داری

اسلام آباد ،  پاکستان کی معروف انفارمیشن سروسز اور ٹیکنالوجی انوویشن کمپنی زونگ فورجی نے زیڈ ٹی ای کارپوریشن اور اس کے مجاز ڈسٹری بیوٹر سکوٹیل(Siccotel) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی شراکت داری ہے جس کا مقصد پاکستان بھر کے صارفین کے لیے نیکسٹ جنریشن ڈیوائسزتک رسائی کوبڑھانا ہے۔

اس شراکت داری کے تحت زونگ فورجی کے ڈیوائس پورٹ فولیو کو مختلف صارفین کے طبقات میں نمایاں طور پر وسعت دی جائے گی جس میں فائیو جی ٹیکنالوجی تک جامع رسائی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس شراکت داری سے زیڈ ٹی ای ابتدائی سطح سے لے کر درمیانی اور اعلیٰ درجے تک کے متنوع فائیو جی اسمارٹ فونز متعارف کرائے گا، اس کے ساتھ ساتھ گیمنگ پر مرکوز ایسے ڈیوائسز بھی پیش کیے جائیں گے جو ہائی پرفارمنس صارفین اور نوجوانوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

قیمتوں کو مزید قابلِ برداشت بنانے اور اپنانے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے، اس شراکت داری کے تحت 'بائی ناو، پے لیٹر(BNPL) اسکیمیں بھی متعارف کرائی جائیں گی، جس کے ذریعے صارفین ادائیگی کے قابل عمل اختیارات کے ساتھ جدید اسمارٹ فونز حاصل کر سکیں گے۔ تمام ڈیوائسز مسابقتی مارکیٹ نرخوں پر دستیاب ہوں گی اور زونگ فورجی کے پیکجز کے ساتھ بنڈل کی جائیں گی، جن میں گیمنگ، ای اسپورٹس،انٹرٹینمنٹ اور ڈیٹا پر مرکوز پیشکشوں جیسی ویلیو ایڈڈ سروسز شامل ہوں گی۔



زونگ فورجی میں ہیڈ آف مارکیٹنگ ساجد منیرنے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ،"یہ شراکت داری پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے زونگ کی اسٹریٹجک سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ فائیو جی کے افق پر آنے اور اسمارٹ فون کے پھیلاؤ کے ارتقائی مرحلے میں ہونے کے باعث، یہ انتہائی اہم ہے کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی ہو اور وہ زیادہ مہنگی بھی نہ ہو۔فائیو جی کی ڈیوائسز، اعلیٰ کارکردگی والے گیمنگ اسمارٹ فونز اور لچکدار ادائیگی کے حل متعارف کروا کر، ہم مزید پاکستانیوں کو ڈیجیٹل معیشت میں شرکت کے قابل بنا رہے ہیں۔ اس سے ہم جدت کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ کنیکٹیویٹی اور مصروفیت کی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔"

یہ اقدام اسمارٹ فونز تک رسائی کو نمایاں طور پر بڑھائے گا جبکہ ٹیکنالوجی سے باخبر اور گیمنگ پر مرکوز صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو بھی پورا کرے گا۔نیکسٹ جنریشن ڈیوائسز، جدید مالیاتی حل اور قدر پر مبنی سروس بنڈلز کو یکجا کر کے، یہ تعاون مستقبل کے لیے تیار ڈیجیٹل تجربات کی فراہمی میں زونگ فورجی کی قیادت کو مضبوط کرتا ہے اور حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل پاکستان کے قومی وژن کو آگے بڑھاتا ہے۔

بدھ، 14 جنوری، 2026

میزان بینک اپنے ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز کو سفری سہولیات دینے کے لئے پی آئی اے کے ساتھ اشتراک کر لیا

میزان بینک کا پی آئی اے کے ساتھ معاہدہ

 کراچی: پاکستان کے پہلے اور سب سے بڑے اسلامی بینک میزان بینک نے اپنے ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز کو مزید سہولیات اور ٹریول سے متعلق آفرز فراہم کرنے کیلئے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس شراکت داری کے تحت میزان بینک کے صارفین اپنے میزان بینک ڈیبٹ کارڈکے ذریعے پی آئی اے کی فلائٹس کی بکنگ کی سہولت کے ساتھ ساتھ ان پر خصوصی ڈسکاؤنٹس سے فائدہ حاصل کرسکیں گے، جس سے ادائیگی کا عمل مزید آسان اور سہل ہوجائے گا۔ یہ شراکت داری دونوں اداروں کے مشترکہ عزم کی عکاسی ہے جس کا مقصد اسٹریٹجک الائنسز اور جدید بینکنگ سلوشنز کے ذریعے صارفین کوبہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

معاہدے پر میزان بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید عامر علی اور پی آئی اے کے چیف کمرشل آفیسر نوشیروان عادل نے دستخط کیے۔ اس موقع پر میزان بینک کے گروپ ہیڈ کنزیومرفنانس احمد علی صدیقی اور پی آئی اے کے جنرل منیجر ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایس ایم فہیم سمیت دونوں اداروں کی سینئر مینجمنٹ بھی موجود تھی۔



اس موقع پر میزان بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید عامر علی نے کہاکہ یہ شراکت داری شریعہ کے مطابق موئثر بینکاری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے صارفین کیلئے سہولت میں اضافہ کے میزان بینک کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن جیسے ممتاز اداروں کے ساتھ اشتراک سے ہمیں ادائیگی کے انفرااسٹرکچرکو مضبوط بنانے،کراس چینل میں قبولیت بڑھانے،خدمات تک رسائی بہتر بنانے اور صارفین کو ایک سیم لیس تجربہ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

اس موقع پرپی آئی اے کے چیف کمرشل آفیسر نوشیروان عادل نے کہاکہ میزان بینک کے ساتھ شراکت داری پی آئی اے کے صارفین کو بہتر سہولیات اور آسان سفری تجربہ فراہم کرنے کے ہمارے عزم کی عکاسی ہے۔ پی آئی اے متعدد مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس اقدام کے ذریعے میزان بینک کے ڈیبٹ کارڈ ہولڈرزکواضافی فوائد اور پی آئی اے کے ساتھ مزید آسان بکنگ کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

جمعرات، 8 جنوری، 2026

ایمریٹس کی پریمیئم اکانومی سروس کا دائرہ مزید وسیع، کراچی بھی شامل

* یکم مارچ سے روزانہ کی بنیاد پر کراچی کے لئے ایمریٹس کا خصوصی طیارہ آپریٹ کرے گا
* پریمیئم اکانومی دس نئے شہروں میں متعارف ہوگی، دو موجودہ مقامات پر مزید پروازوں کا اضافہ


کراچی،  ایمریٹس ایئرلائن اپنے اپگریڈ شدہ بوئنگ 777 اور نئے A350 طیاروں کو ایشیاء، مشرقِ وسطیٰ، یورپ، شمالی امریکا، افریقہ اور آسٹریلیا کے اہم شہروں تک متعارف کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی اور اپنی پریمیئم اکانومی کے ساتھ دوران سفر جدید سہولیات کو اپنے نیٹ ورک کے مزید شہروں تک وسعت دے رہی ہے۔ یکم مارچ سے ایمریٹس کا اپگریڈ شدہ تھری کلاس بوئنگ 777-200 ایل آر طیارہ روزانہ کی بنیاد پر کراچی کے لیے EK606/607 پرواز کے طور پر آپریٹ کرے گا۔اگر طیارے مقررہ وقت سے قبل اپگریڈ ہوگئے تو انکے ذریعے سفری سروس کا آغاز مقررہ تاریخ سے قبل بھی ممکن ہے۔

مسافر ایمریٹس کی ایوارڈ یافتہ پریمیئم اکانومی سروس سے لطف اندوز ہو سکیں گے، جس میں ٹانگیں پھیلانے کی کشادہ جگہ، اضافی سہولیات، بہتر و معیاری کھانوں سمیت مزید سفری خدمات شامل ہیں۔ یکم جولائی تک ایمریٹس اپنے جدید کیبن انٹیریئرز کے ساتھ اپگریڈ شدہ A380 جہاز، بوئنگ 777 جہاز اور A350 طیاروں کو 84 سے زائد روٹس پر متعارف کرائے گا، جس کے نتیجے میں پورے نیٹ ورک میں اسکی طرف سے یکساں اور اعلیٰ معیار کے سفر کی عکاسی ہوگی۔ اسکے فضائی ٹکٹس emirates.com، ایمریٹس ایپ، آن لائن اور آف لائن ٹریول ایجنٹس کے ساتھ ساتھ ایمریٹس کے ریٹیل اسٹورز سے بھی بک کروائے جا سکتے ہیں۔



پریمیئم اکانومی کے روٹس میں توسیع کے تحت ایشیاء، آسٹریلیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا کے دیگر شہروں میں ادیس ابابا، بارسلونا، بصرہ، کوچی، کوپن ہیگن، میکسیکو سٹی، روم، تائی پے اور تہران شامل ہیں۔

چینی کمپنی بی وائے ڈی نے سال 2025 میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا، ٹیسلا پیچھے رہ گیا

بی وائی ڈی نیو انرجی ویہکلز (NEV) کی فروخت میں نمبر 1 کمپنی بن گئی

کراچی،  دنیا کی نمبر ون نیو انرجی وہیکلز (NEVs) بنانے والی کمپنی، بی وائی ڈی (BYD) نے سال 2025 کے لیے اپنی عالمی فروخت کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے سال 2025 کے دوران دنیا بھر میں 4.6 ملین سے زائد نیو انرجی گاڑیاں فروخت کیں اور ایک بار پھر عالمی سطح پر فروخت میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ کامیابی دنیا بھر میں بی وائی ڈی کی عالمی برتری کو نمایاں کرتی ہے، جس کی بنیاد جدت، معیار اور صارفین کے اعتماد پر رکھی گئی ہے۔

عالمی سطح پر توسیع کے تحت کمپنی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سال 2025 میں پہلی مرتبہ ایک ہی سال کے دوران 10 لاکھ یونٹس سے زائد بیرونِ ملک فروخت نے ایک نیا سنگِ میل عبور کیا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی مارکیٹوں میں بی وائی ڈی کی گاڑیوں اور برانڈز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور قبولیت کو واضح طور پر اجاگر کرتی ہے۔

بی وائی ڈی پاکستان کے کنٹری ہیڈ، لی جیان نے اس موقع پر کہا، '' سال 2025  بی وائی ڈی کے لیے ایک فیصلہ کن وقت ثابت ہوا ہے، جہاں ریکارڈ فروخت کے ساتھ ساتھ ہمیں نہ صرف مقامی طور پر بلکہ عالمی سطح پر بھی غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ پاکستان میں سال 2024 میں متعارف ہونے کے بعد بی وائی ڈی نے اپنی نمایاں کیٹیگری ماڈلز بشومل بی وائی ڈی آٹو 3(BYD ATTO 3)، بی وائی ڈی سیل (BYD SEAL)اور بی وائی ڈی شارک 6 (BYD SHARK 6)نمائش کے لئے پیش کیں جس سے مقامی مارکیٹ میں خاصا جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے کہا، ''پاکستان میں ہماری گاڑیوں کو صارفین کی طرف سے غیر معمولی مثبت ردِعمل ملا ہے، جہاں صارفین جدید ترین ٹیکنالوجیز کی طرف تیزی سے متوجہ ہو رہے ہیں، جنہیں ہم مسلسل بہتر بنا رہے ہیں اور آٹو انڈسٹری میں ممکنات کی حدود کو آگے بڑھا رہے ہیں۔''



2003 میں قائم، بی وائی ڈی آٹو (BYD Auto) دراصل بی وائی ڈی کی آٹوموٹیو کی ذیلی کمپنی ہے، یہ ایک عالمی ہائی ٹیک کمپنی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر زندگی کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ عالمی ٹرانسپورٹ کے شعبے کو گرین ٹرانزیشن بنانے کے ہدف کے تحت، بی وائی ڈی آٹو مکمل طور پر الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری پر توجہ دیتی ہے۔ کمپنی نیو انرجی وہیکلز کی مکمل صنعتی چین کی بنیادی ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھتی ہے، جن میں بیٹریز، الیکٹرک موٹرز اور الیکٹرانک کنٹرول سسٹمز شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں بی وائی ڈی نے متعدد اہم تکنیکی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں بلیڈ بیٹری (Blade Battery)، ڈی ایم-آئی (DM-i) اور ڈی ایم-پی (DM-p) ہائبرڈ ٹیکنالوجی، ای پلیٹ فارم 3.0، سی ٹی بی (CTB) اور آئی ٹی اے سی (iTAC) ٹیکنالوجیز، ڈی سس انٹیلیجنٹ باڈی کنٹرول سسٹم (DiSus Intelligent Body Control System) اور ژوانجی آرکیٹیکچر (XUANJI Architecture) شامل ہیں۔ بی وائی ڈی دنیا کی پہلی کارساز کمپنی ہے جس نے فوسل فیول پر چلنے والی گاڑیوں کی پیداوار مکمل طور پر بند کر کے نیو انرجی ویہکلز کی جانب منتقلی کی، اور گزشتہ دس برسوں سے چین میں نیو انرجی مسافر گاڑیوں کی فروخت میں مسلسل سرفہرست ہے۔

سال2025 کے نتائج بی وائی ڈی کی اس حکمت عملی کی مزید تصدیق کرتے ہیں کہ کمپنی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس، اعلیٰ کارکردگی کی حامل گاڑیاں پیش کر رہی ہے، جو دنیا بھر کی مختلف مارکیٹوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ تحقیق و ترقی اور بین الاقوامی آپریشنز میں مسلسل سرمایہ کاری کے ساتھ بی وائی ڈی پاکستان سمیت عالمی سطح پر مستقبل کی جدید سفری سہولیات کو تشکیل دینے کے لیے پرعزم ہے۔

منگل، 30 دسمبر، 2025

زندگی ٹرسٹ کی ڈیجیٹل آرٹس لیب شمسی توانائی پر منتقل, موبی لنک بینک کی معاونت

کراچی میں خاتون پاکستان گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول میں قائم زندگی ٹرسٹ کی ڈیجیٹل آرٹس لیب شمسی توانائی پر منتقل

اسلام آباد،  پاکستان کے صف اول کے نمایاں ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک نے اپنی کاروباری سماجی ذمہ داری (CSR)  پروگرام کے تحت کراچی کے خاتون پاکستان گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول میں قائم زندگی ٹرسٹ کی ڈیجیٹل آرٹس لیب کو شمسی توانائی پر منتقل کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لڑکیوں کو کسی تعطل کے بغیر ڈیجیٹل اور تخلیقی تعلیم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ پروجیکٹ پائیدار توانائی کے ذریعے تعلیمی مسائل کے حل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ موبی لنک بینک کے اس وسیع وژن کا حصہ بھی ہے جس کے تحت وہ خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دے رہا ہے اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لئے ایک نمایاں بینک بن رہا ہے۔ اسکے علاوہ، بینک ماحولیات کے تحفظ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔



یہ پروجیکٹ چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کی تقریباً 320 طالبات کو ڈیجیٹل اور تخلیقی تعلیم تک قابلِ اعتماد رسائی فراہم کرے گا، جبکہ مستقبل کی تمام طالبات بھی ڈیجیٹل آرٹس لیب سے مستفید ہوتی رہیں گی۔ یہ اقدام خواتین کی شمولیت کو پائیدار طریقے سے آگے بڑھانے کے موبی لنک بینک کے عزم سے ہم آہنگ ہے۔ بینک زندگی ٹرسٹ کے اس مشن کی براہِ راست حمایت کرتا ہے جس کے تحت سرکاری اسکولوں میں جدید اور مستقبل سے ہم آہنگ تعلیمی ماحول قائم کیا جا رہا ہے، تاکہ بچیاں محدود سہولیات کے باوجود معیاری ڈیجیٹل، اور تخلیقی سوچ کی مہارتیں حاصل کر سکیں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے موبی لنک بینک کے صدر اور سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، ''بامقصد ڈیجیٹل تعلیم کے لئے مسلسل اور پائیدار توانائی تک رسائی نہایت ضروری ہے۔ زندگی ٹرسٹ سے اشتراک کے ذریعے موبی لنک بینک ایک اہم قومی مسئلے کا حل پیش کر رہا ہے اور کم عمر بچیوں کو سیکھنے، اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے لیس دنیا میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کررہا ہے۔''

زندگی ٹرسٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ تعلیم میں حقیقی بہتری نصاب میں جدت لانے کے ساتھ ساتھ موزوں بنیادی سہولیات کی فراہمی سے ہی ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی سے آراستہ تعلیمی ادارے میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کے ذریعے ٹرسٹ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے طلباء بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں کہیں پیچھے نہ رہ جائیں۔

اس اقدام کے ذریعے موبی لنک بینک نے ایک ایسا پائیدار حل متعارف کرایا ہے جو موجودہ طالبات کے لیے تعلیمی ماحول کو بہتر بناتا ہے اور خاتون پاکستان گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول میں داخلہ لینے والی طالبات کے لیے طویل مدتی فوائد کو یقینی بناتا ہے۔

ایزی پیسہ صارفین اب 100 سے زائد کرنسیوں میں سرحد پار ادائیگیاں اور وصولیاں کر سکیں گے

ایزی پیسہ صارفین اب 100 سے زائد کرنسیوں میں سرحد پار ادائیگیاں کرنے اور دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک سے ترسیلاتِ زر براہِ راست اپنے ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں وصول کر سکیں گے۔

اس اہم پیش رفت کا اعلان ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کی ڈیجیٹل بینکنگ آپریشنز کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کیا گیا۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کی جانب سے اس موقع پر مقامی ہوٹل میں اسٹیک ہولڈرز کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جس میں وفاقی وزرا، پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، کاروباری شخصیات اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔

تقریب کی میزبانی بورڈ چیئرمین عرفان وہاب خان، اینٹ انٹرنیشنل کے صدر ڈگلس فیگن اور ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب خان نے کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے ایزی پیسہ کو ڈیجیٹل بینک کے طور پر ایک سال مکمل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے مربوط اور ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔



وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ مؤثر پالیسی سازی کے لیے ڈیجیٹل فنانس کے ماہرین کی شمولیت ناگزیر ہے اور کیش لیس معیشت کے عملی فوائد کو عوام کے سامنے لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے مطابق سال 2025 کے دوران ایزی پیسہ پلیٹ فارم کے ذریعے 3.8 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت 15 کھرب روپے سے تجاوز کر گئی۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ڈیجیٹل لین دین اب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 11 فیصد کے برابر ہو چکے ہیں۔

ایزی پیسہ نے بتایا کہ اس وقت ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی ایزی پیسہ صارف ہے، جبکہ مجموعی صارفین میں خواتین کی نمائندگی 31 فیصد ہے، جو ڈیجیٹل مالی شمولیت اور خواتین کی مالی خودمختاری کے فروغ میں ایزی پیسہ کے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نیٹ میٹرنگ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی
اس موقع پر اینٹ انٹرنیشنل کے ورلڈ فرسٹ پلیٹ فارم کے ساتھ ایزی پیسہ کی شراکت داری کے آغاز کا باضابطہ اعلان بھی کیا گیا۔

اس شراکت داری کے تحت ایزی پیسہ صارفین اب 100 سے زائد کرنسیوں میں سرحد پار ادائیگیاں اور دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک سے ترسیلاتِ زر براہِ راست اپنے اکاؤنٹس میں وصول کر سکیں گے۔

اس اقدام سے خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکا جیسے روایتی ترسیلاتی راستوں سے آگے رسائی ممکن ہو گی، جبکہ فری لانسرز، برآمد کنندگان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو تیز، محفوظ اور آسان مالی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔

ایزی پیسہ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے اور ملکی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

جمعہ، 26 دسمبر، 2025

میزان بینک نے اسٹائلرز انٹرنیشنل کوشریعہ کمپلائنٹ سرٹیفکیشن کے حصول کیلئے ایڈوائزری خدمات فراہم کیں

کراچی: پاکستان کے معروف اسلامک بینک میزان بینک نے اسٹائلرز انٹرنیشنل لمیٹڈ (SIL)کوشریعہ گورننس ریگولیشنز2023کے تحت سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا شریعہ کمپلائنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے شریعہ ٹیکنیکل سروسز اینڈ ایڈوائزری سپورٹ فراہم کی ہے۔ اس سنگِ میل سے اسٹائلرز انٹرنیشنل پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے۔

 

میزان بینک کے شریعہ ایڈوائزری یونٹ نے اسٹائلرز انٹرنیشنل کی آئینی دستاویزات، داخلی پالیسیوں،اور آپریشنل فریم ورک کا جائزہ لیا اور انہیں شریعہ گورننس ریگولیشنزکی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کیا۔ اس جائزہ میں کمپنی کے تمام شعبوں میں شریعہ کمپلائنٹ پریکٹسزکو یقینی بنانے کیلئے ہیومن ریسورسز،فنانس،آپریشنز،مارکیٹنگ، پروکیورمنٹ اور کارپوریٹ گورننس سمیت کلیدی شعبوں کااحاطہ کیا گیا۔

 

بینک نے ایس آئی ایل کے 30جون 2025کو ختم ہونے والے سال کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی شریعہ اسکریننگ بھی کی، جس میں تصدیق کی گئی کہ کمپنی کے سودی قرض نہیں ہیں اورنہ ہی غیر شرعی سرمایہ کاری اور ناجائز آمدنی ہے۔

 

اس وقت میزان بینک ایس آئی ایل کے شریعہ کمپلائنس فنکشن کے طورپر خدمات فراہم کررہا ہے جس کے تحت مسلسل شریعہ مانیٹرنگ،باقاعدہ کمپلائنس جائزے، روز مرہ کاروباری امور پر مشاورت اور تربیتی پروگرامز کے ذریعے صلاحیت سازی شامل ہے۔ یہ خدمات کمپنی کے تمام شعبوں میں شریعہ کمپلائنس فریم ورک کی پائیداری اور عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے فراہم کی جارہی ہیں۔

 

میزان بینک کے ہیڈ آف انوسٹمنٹ بینکنگ اینڈ شریعہ ایڈوائزری سید طارق علی نے کہاکہ میزان بینک کو خوشی ہے کہ اس نے اسٹائلرز انٹرنیشنل کو ایس ای سی پی سے شریعہ کمپلائنس سرٹیفکیشن کے حصول میں معاونت فراہم کی۔یہ شراکت داری پاکستان میں شریعہ کے مطابق کارپوریٹ طرزِ عمل کے فروغ اور لسٹڈ کمپنیوں کومضبوط اور شفاف شریعہ گورننس فریم ورک کو اپنانے کیلئے سپورٹ فراہم کرنے کے میزان بینک کے عزم کی عکاسی ہے جواسلامک فنانس کی پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کرتاہے۔

 

اس موقع پر اسٹائلرز انٹرنیشنل کے چیئرمین/ڈائریکٹر جاوید ارشد بھٹی نے کہاکہ الحمدللہ اسٹائلرز انٹرنیشنل کو ایس آرجی کے تحت ایس ای سی پی نے شریعہ کمپلائنٹ قرارد دیا گیاہے۔ اس اعزاز کے ساتھ ایس آئی ایل پاکستان کی ان منتخب کمپنیوں میں شامل ہوگئی ہے جو شرعی اصولوں کے مطابق کاروبار کررہی ہیں اور ہم اس ذمہ داری کو اخلاص اور مقصدیت کے تحت قبول کرتے ہیں۔

 

انہوں نے کہاکہ شریعہ کمپلائنس کی تعمیل ایک تقاضا نہیں بلکہ دیرپا کامیابی کیلئے رہنما ئی کا ذریعہ ہے۔ میزان بینک کے اشتراک سے حاصل ہونے والی یہ منظوری ہمارے تمام امور میں اخلاقی، شفافیت اوردین سے ہم آہنگ طرزِ عمل پر عمل پیرا ہونے کے ہمارے عزم کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ کامیابی ہماری ٹیم کی محنت، لگن اور مشترکہ یقین کی عکاسی ہے۔

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

میزان بینک نے وثاق پلیٹ فارم کوڈاؤلینس ڈسٹری بیوٹرز کیلئے مرابحہ پر مبنی فنانسنگ کے ذریعے توسیع دے دی

کراچی: پاکستان کے معروف اسلامی بینک میزان بینک نے حبل کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ڈیجیٹل سپلائی چین فنانسنگ پلیٹ فارم وثاق کو توسیع دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس توسیع کے تحت پاکستان کی معروف ہوم اپلائنس کمپنی ڈاؤلینس کے ساتھ مرابحہ پر مبنی نئی فنانسنگ متعارف کرائی ہے۔

 

اس جدید اقدام کے ذریعے ڈاؤلینس کے ڈسٹری بیوٹرزاب ڈاؤلینس سے براہِ راست انونٹری پروکیورمنٹ کیلئے فوری، ڈیجیٹل اور شریعہ کے مطابق فنانسنگ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ سہولت ڈسٹری بیوٹرز کی لیکوڈیٹی کو مضبوط بنانے، سپلائی چین کے آپریشنز کو موئثر اور ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں کاروباری ترقی کو فروغ دینے کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔

 

وثاق پلیٹ فارم دستی مفاہمت اور طویل منظوری کے مراحل کو ختم کرکے فنانسنگ کے عمل کو تبدیل کردیتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایک مکمل طورپر ڈیجیٹل، شفاف، موئثر اور ڈیٹا پر مبنی فنانسگ کا تجربہ فراہم کرتاہے۔

 

 معاہدے پر دستخط کی تقریب میں میزان بینک کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر سید عامر علی،میزان بینک کے گروپ ایگزیکٹو سید تنویر حسین، ڈاؤلینس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر احسن خان، ڈاؤلینس پاکستان کے چیف فنانشل آفیسر فرحان اکرم اور حبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمیر بن احسن نے شرکت کی۔

 

اس موقع پرمیزان بینک کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر سید عامر علی نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ یہ شراکت داری حقیقی معاشی سرگرمیوں میں شریعہ کے مطابق فنانس کو مرکزی حیثیت دینے کے میزان بینک کے عزم کی عکاسی ہے۔ حبل اور ڈاؤلینس کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ہم یہ ثابت کررہے ہیں کہ ڈیجیٹل سپلائی چین فنانسنگ زیادہ شفاف، موثر اور ہر حجم کے کاروبار کیلئے قابلِ رسائی ہوسکتی ہے۔ ہم اس اقدم کو پاکستان کی سپلائی چینز کو جدید بنانے اور شریعہ کے مطابق مالیاتی سلوشنز کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم سمجھتے ہیں۔

 

اس موقع پر حبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمیر بن احسن نے کہاکہ ڈاؤلینس کا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پاکستان کے سب سے فعال اور وسیع نیٹ ورکس میں سے ایک ہے جس کیلئے تیز رفتار فنانسنگ کی ضرورت ہے اور وثاق اسی ضرورت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے تیار کیاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ میزان بینک کے اعتماد اور ڈاولینس کے ڈیجیٹائز یشن کے وژن کے ساتھ ہم ایک ایسا فنانسنگ ماڈل تشکیل دے رہے ہیں جو مارکیٹ کی رفتارسے ہم آہنگ ہو۔ یہ پاکستان کی سپلائی چین کے منظر نامے کیلئے ایک اہم سنگِ میل ہے جواس بات کی بھی عکاسی ہے کہ بڑے پیمانے پر فنانسنگ  شریعہ کے مطابق جدید، فوری اور مکمل طورپر ڈیٹا پرمبنی ہوسکتی ہے۔

 

اس موقع پر ڈاؤلینس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر احسن خان نے کہاکہ ہمارے ڈسٹری بیوٹرز ہمارے کاروبارکی بنیاد ہیں۔ یہ نیا فنانسنگ پروگرام انہیں زیادہ اسٹاک رکھنے اور مارکیٹ ڈیمانڈ کو پورا کرنے کیلئے اعتماد فراہم کرے گا۔اس پروگرام کے ذریعے ہمارے شراکت دار لیکویڈیٹی چیلنجز کے بغیر اپنے کاروبار کوتوسیع دے سکیں گے جس سے تمام اسٹیک ہولڈرز کوکا فائدہ ہوگااور ڈاؤلینس کی ملک بھر میں موجودگی مزیدمستحکم ہوگی۔

جمعرات، 18 دسمبر، 2025

پاک قطر فیملی تکافل کے آئی پی او کی بک بلڈنگ کا آغاز 11​ دسمبرسےہوگیا ہے


کراچی: پاک قطر فیملی تکافل کے آئی پی او کی بک بلڈنگ کا آغاز 11دسمبر سے ہو گیا ہے جو 12دسمبر تک جاری رہے گی۔آئی پی او میں بڑے انفرادی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو 100فیصد (50ملین شیئرز) آفر کیے جائیں گے۔ بک بلڈنگ کے عمل کے بعد کامیاب بولی دہندگان کو 50ملین شیئرزمیں سے37.5  ملین شیئرز(75فیصد) جبکہ بقیہ 12.5 ملین (25فیصد) شیئرزریٹیل سرمایہ کاروں کیلئے اسٹرائک پرائس پر پیش کیے جائیں گے۔

 

پاک قطر فیملی تکافل کا آئی پی او کے ذریعے 1.1بلین روپے اکھٹاکرنے کے منصوبہ ہے۔ بک بلڈنگ کا آغاز  14روپے فی حصص سے کیا جائے گا اور بک بلڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بنیاد پر حصص کی اسٹرائک پرائس 21روپے فی شیئر تک بڑھ سکتی ہے۔

 

 آئی پی او کی لیڈ منیجر عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد علی حبیب نے کہاکہ یہ پاکستان میں کسی بھی بڑی فیملی تکافل کمپنی کا پہلا آئی پی او ہے اور سرمایہ کار اس پیشکش میں بھر پور دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئی پی او سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پاک قطر فیملی تکافل کو کم سے کم کیپٹل ضروریات پوری کرنے، اپنے ڈیجیٹل چینلز کو توسیع دینے اور مزیدصارف مرکوز پراڈکٹس متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔


 

پاک قطر فیملی تکافل کو قطر کے فنانشل سیکٹر کی مضبوط سپورٹ حاصل ہے۔کمپنی کا آئی پی او سے حاصل ہونے والی آمدنی پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی انشورنس مارکیٹ میں اپنے آپریشنز اور مصنوعات کو توسیع دینے کیلئے استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔

 

پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ پاکستان کی پہلی اور سب سے بڑی فیملی تکافل کمپنی ہے۔ اس وقت کمپنی کے پاس مجموعی فیملی تکافل سیکٹر کا 44فیصد اور فیملی تکافل سیگمنٹ کا 90.47فیصد مارکیٹ شیئرہے  جبکہ ملک کے مجموعی لائف انشورنس بزنس میں کمپنی کا شیئر 6.6فیصد ہے۔

ملک بھر میں سیلز نیٹ ورک پر مشتمل 73برانچز اور 1971فیلڈ نمائندوں کے ساتھ پاک قطر فیملی تکافل ذاتی سرمایہ کاری اور تکافل سلوشنزپیش کرتی ہے۔ پاک قطر فیملی تکافل نے بینک برانچز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تحفظ سلوشنز فراہم کرنے کیلئے 14کلیدی بینکوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بھی کی ہے۔

 

پاکستان میں 2024میں بڑھتی ہوئی تعلیم اور بہتر معاشی حالات میں مستقبل میں مضبوط ترقی کے امکانات کے باوجود انشورنس کی رسائی 0.7فیصد کم رہی۔ گلوبل انشورنس انڈسٹری نے تیزی سے لیکن غیر مساوی ترقی کی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں 10فیصد سے زیادہ رسائی دیکھنے میں آئی ہے اورابھرتی ہوئی EMEAاور ایشیا مارکیٹس اس میں پیچھے ہیں

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں