جمعہ، 20 مارچ، 2026

وزارتِ تجارت کا گوشت کی برآمدات پر اضافی کارگو چارجز کا نوٹس، فوری کارروائی کی ہدایت


کراچی : وزارتِ تجارت نے گوشت برآمد کرنے والوں کی شکایات پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایوی ایشن حکام سے اضافی کارگو چارجز کے معاملے کی فوری تحقیقات اور حل طلب کر لیا ہے، جسے جاری تنازع میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 وزارتِ تجارت کی جانب سے 17 مارچ 2026 کو جاری کردہ ایک باضابطہ خط میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کراچی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کارگو ہینڈلنگ کمپنی جیریز ڈناتا کی جانب سے مبینہ طور پر عائد کیے گئے "غیر مجاز اضافی چارجز" کے معاملے کا جائزہ لے کر اسے حل کریں۔



یہ کارروائی آل پاکستان میٹ ایکسپورٹرز اینڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن (APMEPA) کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نئے چارجز کی وجہ سے برآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔

ایکسپورٹرز کے مطابق جیریز ڈناتا نے حال ہی میں گوشت کی برآمدات پر 50 روپے فی کلوگرام اضافی چارج عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں کھیپ کو ایکسپورٹ کے لیے پراسیس نہیں کیا جائے گا۔

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافی لاگت تقریباً 180 ڈالر فی ٹن بنتی ہے، جو عالمی منڈی میں پہلے سے سخت مقابلے کا سامنا کرنے والے پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

وزارتِ تجارت کے حکام نے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ 15 مارچ کو وزیراعظم کی زیر نگرانی سرپلس فوڈ آئٹمز کی جی سی سی ممالک کو برآمدات سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ اضافی چارجز واپس لے لیے گئے ہیں۔

تاہم برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور یہ چارجز بدستور وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر وزارت نے معاملے کو فوری طور پر حل کرنے اور برآمدکنندگان کے اطمینان تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

 وزارت نے متعلقہ حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔

برآمدکنندگان نے خبردار کیا ہے کہ کارگو چارجز میں غیر یقینی صورتحال گوشت جیسی خراب ہونے والی اشیاء کی برآمدات کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ یہ صنعت مکمل طور پر مربوط کولڈ چین اور ایئر کارگو نظام پر انحصار کرتی ہے۔

پاکستان کی گوشت برآمدی صنعت گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر ترقی کر چکی ہے اور اس وقت خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں کو حلال گوشت فراہم کر رہی ہے۔

صنعتی ماہرین کے مطابق برآمدات میں تسلسل کے لیے لاگت کا استحکام نہایت ضروری ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کو برازیل اور آسٹریلیا جیسے بڑے برآمدی ممالک سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ایکسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کارگو ہینڈلنگ چارجز کو شفاف اور ریگولیٹ کیا جائے، کیونکہ اچانک اور یکطرفہ اضافے نہ صرف صنعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی برآمدی حکمتِ عملی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

منگل، 10 مارچ، 2026

پی ٹی ایم ایل( یو فون) نے پاکستان میں جدید ترین موبائل سروسز کے آغاز کے 5G اسپیکٹرم حاصل کر لیا

کراچی : ملک میں یوفون کے برانڈ کے تحت خدمات فراہم کرنے والی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ، پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے اپنے ڈیجیٹل ٹیلی کام برانڈ' اونک' (onic) کے ہمراہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ نیلامی میں کامیابی سے 5Gاسپیکٹرم حاصل کر لیا ہے۔ اسپیکٹرم کا حصول پی ٹی ایم ایل کو پاکستان میں سماجی و معاشی بااختیاری ، جدت طرازی اور جامع قومی ترقی کو فروغ دینے والی جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی بڑھانے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔
یہ سنگِ میل پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے اگلے مرحلے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو تیز تر کنیکٹیویٹی، تیز رفتار انٹرنیٹ اور صارفین، کاروباری اداروں اور صنعتوں کے لیے بالکل نئے ڈیجیٹل تجربات کی راہ ہموار کرے گا۔

ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے بعد پی ٹی ایم ایل کے ساتھ انضمام مکمل ہو نے کے بعد ٹیلی نار پاکستان بھی پی ٹی ایم ایل کا 5G اسپیکٹرم استعمال کرے گا۔ انضمام کی تکمیل کے بعد مشترکہ ادارہ حاصل کردہ اسپیکٹرم اور اپنے متحدہ نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں 7کروڑ سے زائد صارفین کو اعلیٰ معیار کی جدید ترین خدمات فراہم کرے گا۔

5G محض تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ڈیجیٹل صلاحیت کی ایک بالکل نئی جہت فراہم کرتا ہے جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔

صارفین کے لیے 5G بغیر رکاوٹ الٹرا ہائی ڈیفی نیشن ویڈیو اسٹریمنگ، معیاری کلاؤڈ گیمنگ، آگمینٹڈ اور ورچوئل رئیلٹی کے تجربات، اور ڈیجیٹل خدمات و تفریح تک تیز تر رسائی ممکن بنائے گا۔


کاروباری افراد اور اداروں کے لیے 5G انقلابی صلاحیتوں کے حصول کے دروازے کھولے گا، جن میں اسمارٹ فیکٹریاں، کنکٹیڈ لاجسٹکس، اے آئی سے تقویت یافتہ تجزیات، اور انتہائی قابل اعتماد کلاؤڈ کنیکٹیویٹی شامل ہیں جو اہم آپریشنز میں معاونت کرتی ہے۔

صحت، تعلیم، زراعت اور عوامی خدمات کے شعبوں میں 5G فاصلاتی تشخیص، ورچوئل کلاس رومز، اسمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجیز، اسمارٹ ٹریفک نظام، اور نیکسٹ جنریشن مالیاتی خدمات جیسی جدت انگیزی کو ممکن بنا سکتا ہے۔
5G اسپیکٹرم کا حصول پی ٹی ایم ایل کی جانب سے اپنے انفرادی اور کاروباری صارفین کے لیے ڈیجیٹل سروسز کے معیاراور رسائی میں بہتری لانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

کمپنی اب 5G کی مرحلہ وار مگر تیز رفتار تنصیب کی تیاری کر رہی ہے، جس کا آغاز ترجیحاً بڑےشہروں سے کیا جائے گا اور اس کے بعد اسے بتدریج ملک کے دیگر علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔ 5G سروسز کے ملک بھر میں پھیلاؤ کے ساتھ مضبوط کارکردگی اور اعلیٰ معیار کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے کمپنی نیٹ ورک کی توسیع اور سائٹس کی تعداد بڑھانے پر بھرپور توجہ دے گی۔

اس اہم سنگِ میل پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی سی ایل و یو فون کے صدر و سی ای او، حاتم بامطرف نے کہا، 5G ایک انقلابی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے جو لوگوں، کاروباری اداروں اور معاشرے کے باہمی رابطوں اور جدت انگیزی کو ایک نئی جہت دے گا۔ یہ صرف تیز رفتار انٹرنیٹ نہیں، بلکہ بالکل نئے ڈیجیٹل تجربات اور معاشی مواقع کو ممکن بنانے کا وسیلہ ہے۔

ایک مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر ہماری ترجیح ہے جو پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کو بڑھاوا دے سکے۔ 5G کے ذریعے صارفین زیادہ ذہین ڈیجیٹل خدمات کا تجربہ کریں گے، کاروباری اداروں کو بہتر پیداوار اور جدت کے لیے نئے طاقتور اوزار میسر آئیں گے، اور مختلف صنعتیں ایک ڈیجیٹل دنیا میں اپنے کام کرنے کے طریقوں کو ازسرِ نو تشکیل دے سکیں گی۔''

انہوں نے مزید کہا،''ہم ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ انضمام کے بعد اپنے نیٹ ورکس اور صلاحیتوں کو یکجا کرکے بڑے پیمانے پر 5G کی تنصیب کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں ہوں گے۔ ہم لاکھوں صارفین تک جدید ڈیجیٹل خدمات پہنچا سکیں گےاور پاکستان کے کاروباری افراد، اداروں اور کمیونٹیز کو ڈیجیٹل معیشت میں بھرپور شرکت کے قابل بنائیں گے۔''

5G کی تنصیب حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کو آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، جس کا مقصد ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، جدت انگیز ی کے عمل کو تیز کرنا اور جدید ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔
جدید کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے پی ٹی سی ایل نے پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور ڈیجیٹل شمولیت میں بامعنی کردار ادا کرنے کا کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔
۔ختم شد۔

منگل، 3 مارچ، 2026

موبی لنک بینک نے سندھ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی کے لئے ایس ای ڈی ایف سے معاہدہ کر لیا



اسلام آباد ؛ پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک نے حکومت سندھ کے ذیلی ادارہ، سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ (ایس ای ڈی ایف) کے ساتھ پانچ سالہ شراکت داری کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد یہ ہے کہ صوبے میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو منظم انداز سے فنانس کی رسائی ترجیحی طور پر بڑھائی جائے۔ اس اشتراک کے تحت ایک ارب روپے تک کے قرضے موبی لنک بینک کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے جبکہ ایس ای ڈی ایف مارک اپ سبسڈی کے ذریعے سرمایہ کی لاگت کم کرنے میں معاونت کرے گا، تاکہ کاروباری افراد زیادہ آسانی سے سرمایہ حاصل کر سکیں اور صوبے بھر میں پائیدار معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

یہ اشتراک ان طبقات کے لئے مالی نظام کو مضبوط بنائے گا جو اب تک مالی سہولیات سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے لیکن معیشت میں گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ ان میں زرعی ویلیو چینز، لائیو اسٹاک اور ڈیری، پولٹری، فشریز، کولڈ اسٹوریج اور لاجسٹکس، قابلِ تجدید اور متبادل توانائی، خواتین کی زیرِ قیادت کاروبار، کان کنی و معدنیات کی پروسیسنگ اور جدت پر مبنی آئی ٹی منصوبے شامل ہیں۔ اس معاہدے کے تحت موبی لنک بینک قلیل، درمیانی اور طویل مدتی فنانسنگ فراہم کرے گا جبکہ ایس ای ڈی ایف ابتدائی تین سال کے لئے ایک سالہ کائبور (KIBOR) یا 10 فیصد (جو بھی کم ہو) تک مارک اپ سبسڈی دے گا، اس مدت میں کارکردگی کی بنیاد پر توسیع کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔ ہر منصوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ 50 لاکھ روپے تک فنانسنگ دستیاب ہوگی، جبکہ جدت پر مبنی منصوبوں میں توسیع کی سہولت بھی رکھی جائے گی۔



اس موقع پر موبی لنک بینک کے صدر و سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، ''چھوٹے کاروبار پاکستان کی حقیقی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ کاروبار روزگار پیدا کرتے ہیں، مقامی برادریوں کو متحرک رکھتے ہیں اور علاقائی ویلیو چینز کو مضبوط بناتے ہیں، مگر اس کے باوجود بہت سے کاروباری افراد کو سستی فنانسنگ کی آسان سہولت میسر نہیں۔ ایس ای ڈی ایف کے ساتھ یہ اشتراک مالی جدت اور پالیسی میں معاونت کے ذریعے ان شعبوں تک رسائی بڑھائے گا جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارا ہدف یہ ہے کہ مناسب لاگت پر سرمایہ براہِ راست مقامی کاروباری افراد تک پہنچایا جائے، نچلی سطح سے معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے اور صوبے بھر میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ یہ شراکت داری آج کے چھوٹے کاروباروں کو مضبوط بنانے کا ایک عملی قدم ہے، تاکہ کل ہم ایک زیادہ مستحکم اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی معیشت تشکیل دے سکیں۔''

سندھ حکومت کے محکمہ سرمایہ کاری کے سیکریٹری زبیر احمد چنہ نے زور دیا کہ حکومت صوبے بھر میں پیداواری شعبوں کی معاونت کے لیے مضبوط اور مؤثر مالیاتی نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق اس جیسی منظم شراکت داری سرکاری و نجی شعبے کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے اور سندھ کی ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں کام کرنے والے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے قابلِ توسیع سرمائے کی فراہمی کی راہیں کھولتی ہے۔

یہ شراکت داری موبی لنک بینک کے اس پختہ عزم کا اظہار ہے کہ وہ سرکاری پالیسی معاونت کو نجی شعبے کی مؤثر اور تیز رفتار کارکردگی کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پاکستان کے ابھرتے ہوئے معاشی خطوں میں ہمہ گیر ترقی، پائیدار استحکام اور کاروباری مواقع کو فروغ دے۔ اس اقدام سے چھوٹے و درمیانی کاروبار بالخصوص دیہی علاقوں کے کاروبار اور خواتین کی زیر قیادت کاروبار کو فائدہ پہنچے گا، جو کم لاگت میں قرض اور باضابطہ کریڈٹ تک بہتر رسائی کے ذریعے اپنی پیداوار میں اضافہ، گرین ٹیکنالوجی کا استعمال اور کاروبار میں وسعت لا سکیں گے۔

موبی لنک بینک اور ایس ای ڈی ایف کا یہ اشتراک رعایتی معاونت اور تجارتی فنانسنگ کو یکجا کر کے سندھ میں طویل المدتی معاشی استحکام کو فروغ دے گا، اور مستقبل میں اس ماڈل کو دیگر صوبوں میں بھی کامیابی سے نافذ کیا جاسکے گا۔

بدھ، 25 فروری، 2026

میگا موٹر کمپنی کا پاکستان کے پہلے بڑے NEV پلانٹ کی تعمیر کیلئے برٹش انٹریشنل انویسٹمنٹ سے فنانسنگ کا معاہدہ


کراچی ; پاکستان میں BYD کی آفیشل پارٹنر، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) نے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (بی آئی آئی) کے ساتھ فنانسنگ کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ بی آئی آئی برطانیہ کا ترقیاتی مالیاتی ادارہ اور امپیکٹ انویسٹر ہے، اور اس معاہدے کا مقصد پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں (NEV) کی خصوصی طور پر تیاری سے متعلق پہلے بڑے مینوفیکچرنگ پلانٹ کے قیام میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

اس معاہدے کے تحت بی آئی آئی طویل مدتی غیر ملکی کرنسی میں فنانسنگ فراہم کرے گا، جو اس منصوبے کی مجموعی لاگت کی 25 فیصد فناسنگ ہو گی۔ یہ سرمایہ کاری ایم ایم سی کے جدید اور خصوصی طور پر تیار کردہ NEV مینوفیکچرنگ پلانٹ میں کی جائے گی۔ اس پلانٹ کی باقاعدہ پیداوار رواں سال کی دوسری ششماہی میں شروع ہونے کا منصوبہ ہے۔ اس پلانٹ میں جدید آٹو میشن ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے مینوفیکچرنگ سسٹمز نصب کئے جائیں گے جو عالمی آٹو موٹیو معیارات میں سب سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

یہ معاہدہ پاکستان کی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ شعبے میں گرین انرجی سے منسلک اولین مالی معاونت میں شامل ہے، اور توقع ہے کہ اس سے صاف اور کم خرچ ٹرانسپورٹ کی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے مطابق پاکستان اس وقت فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کے بدترین ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ ملک میں گرین ہاؤس گیسز کے مجموعی اخراج کا 43 فیصد سے زائد حصہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے سے آتا ہے۔ ماہرین کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر ملک میں محض 30 فیصد گاڑیاں نیو انرجی گاڑیوں (NEVs)پر منتقل ہو جائیں تو ان گیسز کے مجموعی اخراج میں تقریباً 20 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ کلین موبیلٹی نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی لانے کا تیزرفتار اور مؤثر ذریعہ ہے بلکہ اس سے تیل کی درآمدات کم کرنے اور مقامی گرین انڈسٹری کو فروغ دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔




اس منصوبے سے 1100 سے زائد نئی ملازمتوں کی توقع ہے، جبکہ پائیدار صنعتی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ اندازہ ہے کہ 2034 تک تقریباً 165000 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ ممکن ہوگا۔

میگا موٹر کمپنی کے سی ای او، علی خان نے کہا، ''یہ اشتراک پاکستان میں ہماری طویل المدتی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ NEVs کے فروغ کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس سے لوگوں کی گاڑیوں تک رسائی بہتر ہوگی، سپلائی چین مضبوط ہوگی اور حکومتِ پاکستان کے NEVs اور  توانائی کے ذرائع کی منتقلی سے متعلق اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔''

میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی)کے سی ای او، علی خان نے کہا، "پاکستان اس وقت ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں کلین موبیلٹی ملک کے طویل المدتی معاشی اور توانائی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے ایم ایم سی اس تبدیلی میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے اور ملک میں عالمی مسابقتی معیار کے مطابق نیو انرجی گاڑیوں کے نظام کی بنیاد رکھ رہی ہے۔یہ گرین فیلڈ سرمایہ کاری نہ صرف نیو انرجی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ کو تیز کرے گی بلکہ مضبوط ویلیو چین کی تعمیر کے ذریعے پاکستان کی آٹو موٹیو صنعت کے مستقبل کو بھی نئی سمت دے گی، اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہوگی اور طویل عرصے کے لیے صنعتی صلاحیت مستحکم ہوگی۔"

برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور فنانشل سروسز گروپ، برائے انڈسٹریز، ٹیکنالوجی اینڈ سروسز کے سربراہ، اسٹیفن پرسٹلی نے کہا، ''اس سرمایہ کاری کا مقصد مستحکم صنعتی تبدیلی اور ماحولیاتی اقدامات کی ترجیحی طور پر حمایت کرنا ہے۔ اس کے ذریعے بڑھتے ہوئے گرین سیکٹر میں نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے صارف ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی تقویت ملے گی۔''

اسی دوران، میگا موٹر کمپنی برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے تعاون سے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG) کا پائیدار ضابطہ بھی نافذ کر رہی ہے۔ اس میں بہتر لیبر اسٹینڈرڈز، پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے انتظامات، اسٹیک ہولڈرز سے مؤثر رابطہ اور ذمہ دارانہ سپلائی چین کے سسٹمز شامل ہیں۔

منگل، 24 فروری، 2026

پولیس موبائل پر فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت 6 اہلکار اور ایک شہری شہید ہوگیا

کوہاٹ کے نواحی علاقے میں ایک بار پھر خونریزی کی ایک دلخراش داستان رقم ہو گئی ہے، جہاں دہشت گردوں نے پولیس کی بہادری اور فرض شناسی کو نشانہ بنایا۔ شکردرہ روڈ پر جب پولیس ٹیم ایک زیر حراست ملزم کو لے کر جا رہی تھی، تو اچانک نامعلوم مسلح افراد نے شدید فائرنگ شروع کر دی. یہ حملہ اتنا بے رحم تھا کہ ڈی ایس پی لاچی اسد محمود سمیت پانچ بہادر اہلکار شہید ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ شہداء میں انسپکٹر انارگل خان، گن مین، ریڈر اور ڈرائیور شامل ہیں،  یہ وہ لوگ تھے جو ہر روز امن کی خاطر جان کی بازی لڑاتے ہیں۔حملہ آوروں نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ پولیس موبائل کو آگ بھی لگا دی اور فرار ہو گئے، مگر ان کی یہ کارروائی پولیس کی لگن اور عزم کو نہیں توڑ سکی۔




واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، اور کوہاٹ سے اضافی دستے بھیج کر وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے، اور انصاف کی تلوار اب تیزی سے چل رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور دیگر شہداء کے خاندانوں کے ساتھ پورا ملک کھڑا ہے،  ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ 

یہ حملہ نہ صرف ایک خاندانوں کا غم ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک لمحہ سوچنے کا ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے جوان کس خطرے میں رہ کر فرض ادا کرتے ہیں۔ ان شہداء کی قربانی پر سر جھکاتے ہیں، اور دعا ہے کہ ان کی روحوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو شفا دے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فتح یاب ہو۔

جمعرات، 19 فروری، 2026

پی ٹی سی ایل فلیش فائبر نے معیاری سروس اور گیمنگ تجربے کی فراہمی کی بدولت دو ’اوکلا‘ ایوارڈز حاصل کر لیے


پی ٹی سی ایل فلیش فائبر  نے  معیاری سروس اور گیمنگ تجربے کی فراہمی کی بدولت دو 'اوکلا' ایوارڈز حاصل کر لیے

اسلام آباد؛  پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ  کی فلیگ شپ براڈبینڈ سروس، پی ٹی سی ایل فلیش فائبر کو عالمی سطح پر انٹرنیٹ ٹیسٹنگ اور تجزیے کے شعبے کی معروف کمپنی، اوکلا (Ookla)  کی جانب سے دو نمایاں ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، جن میں سال 2025 کے ''بہترین فکسڈ نیٹ ورک'' اور اسی سال  کے دوسرے نصف (H2 2025) کے لیے پاکستان میں ''بہترین آئی ایس پی گیمنگ ایکسپیریئنس'' فراہم  کنندہ کے اعزازات  شامل ہیں۔

یہ ایوارڈز پاکستان میں سال 2025 کی دونوں ششماہیوں کے اسپیڈ ٹیسٹ کنیکٹیوٹی رپورٹ کے اعداد و شمار   کی بنیاد پر دیے گئے ہیں اور ملک بھر میں اعلیٰ رفتار، کم ترین تعطل  اور بہتر ین صارف تجربے کی فراہمی میں پی ٹی سی ایل فلیش فائبر کی مسلسل کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔


بہترین فکسڈ نیٹ ورک کا ایوارڈ اوکلا کی جانب سے اہم ترین کارکردگی کے اشاریوں (KPI) ایویلیوایشن ماڈل کے تحت دیا جاتا ہے، جس میں ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ  کی رفتار، تعطل، ویڈیو اسٹریمنگ کی کارکردگی اور ویب براؤزنگ تجربے سمیت اہم عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اوکلا کو    فکسڈ براڈبینڈ نیٹ ورک کی کارکردگی کے حوالے سے اعلیٰ ترین اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔
سال2025 کی پہلی ششماہی میں پی ٹی سی ایل فلیش فائبر کو پاکستان کے چار خطوں میں تیز ترین سروس فراہم کنندہ قرار دیا گیا۔ جبکہ اسی سال کی دوسری ششماہی میں یہ سروس مارکیٹ میں اپنی رہنما حیثیت کو مزید مستحکم کرتے ہوئے اوکلا کے شائع کردہ ڈیٹا کے مطابق ملک کے بیشتر خطوں میں تیز ترین  سروس فراہم کنندہ کے طور پر سامنے آئی۔
اس کے علاوہ، پی ٹی سی ایل فلیش فائبر نے دوسری ششماہی کے لیے  بہترین آئی ایس پی گیمنگ ایکسپیریئنس ایوارڈ بھی حاصل کیا، جو کم ترین تعطل  اور مستحکم کنیکٹیویٹی کے ذریعے بغیر رکاوٹ  کے آن لائن گیمنگ کی سہولت کی  فراہمی  کے   بہترین  نیٹ ورک ڈیزائن کا عکاس  ہے۔ یہ ایوارڈ پاکستان بھر میں گیمرز اور زیادہ بینڈوڈتھ استعمال کرنے والے صارفین کی بدلتی ہوئی ڈیجیٹل ضروریات پوری کرنے کے پی ٹی سی ایل کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔
پی ٹی سی ایل ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کی توسیع، جدید ترین  انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی کنیکٹیویٹی ضروریات کے مطابق عالمی معیار کے ڈیجیٹل تجربات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

منگل، 17 فروری، 2026

ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک موبی لنک بینک کو 3.62 ارب روپے کا ریکارڈ قبل از ٹیکس منافع


پاکستان کے سب سے بڑے مائیکروفنانس بینک کے طور پر موبی لنک بینک کی پوزیشن مزید مستحکم

اپنے صارفین، ریگولیٹرز، شیئر ہولڈرز اور اپنی ٹیموں کے اعتماد کے مشکور ہیں، حارث محمود چوہدری

اسلام آباد، :  پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک  نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ بینک نے اہم مالیاتی اور آپریشنل اشاریوں میں نمایاں ترقی حاصل کی اور مائیکروفنانس بینکنگ کے شعبے میں اپنی قائدانہ حیثیت مزید مستحکم کی۔

سال 2025 موبی لنک بینک کے لیے مستحکم مالیاتی سال ثابت ہوا۔ بینک کا منافع قبل از ٹیکس 3.62 ارب روپے تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 217 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جبکہ مجموعی آمدن 33 فیصد بڑھ کر 89.5 ارب روپے ہو گئی۔ بینک کے ڈپازٹس 38 فیصد اضافے سے 214 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو مائیکروفنانس کے شعبے میں سب سے زیادہ ہیں اور اس سے صارفین کے بھرپور اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ گراس لون پورٹ فولیو 38 فیصد اضافے سے 103 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ سال کے اختتام پر بینک نے 19.53 فیصد کی مضبوط کیپیٹل ایڈیکویسی ریشو (CAR) برقرار رکھی، جو اس کی مستحکم مالی بنیاد اور محتاط رسک مینجمنٹ کی عکاسی کرتی ہے۔



بینک نے ماحولیاتی اعتبار سے پائیداری کے عزم کے تحت گرین فنانسنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 55.5 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ اس اقدام کے ذریعے انفرادی، گھریلو اور چھوٹے کاروباروں کو ماحول دوست مصنوعات اور وسائل اختیار کرنے میں عملی مدد فراہم کی گئی۔ بینک نے مالی شمولیت کے فروغ کا سلسلہ بھی جاری رکھا، جبکہ لون پورٹ فولیو میں خواتین کا تناسب 24.6 فیصد رہا۔ یہ پیش رفت خصوصی لون اسکیموں اور بہتر ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی کے باعث ممکن ہوئی، جس سے خواتین کی مالی رسائی مزید مضبوط ہوئی۔

سال 2025 کی ایک اہم پیش رفت اسلامی بینکاری کا آغاز تھا، جو بینک کی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اسلامی اصولوں کے مطابق مالیاتی مصنوعات متعارف کرا کے موبی لنک بینک نے مختلف سماجی طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا اور خود کو ایک ذمہ دار اور مستقبل کے مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اپنی ساکھ کو مزید مضبوط کیا۔

بینک کی کارکردگی اس کے لون کے ذمہ دارانہ نظام کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ہر لون کا فیصلہ محتاط مالی جائزے، شفاف قیمتوں، منصفانہ ریکوری طریقہ کار اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط کی مکمل پاسداری کے تحت کیا جاتا ہے۔ صارفین کو ضرورت سے زیادہ لون کے بوجھ سے بچانے اور پائیدار مالی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے داخلی نظام کو بھی مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔بینک کی ترقی میں شیئر ہولڈرز کے اعتماد نے بھی اہم کردار ادا کیاجس سے بینک کے سرمائے کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی  اور اس کی طویل المدتی حکمت عملی اور بڑی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی کو تقویت ملی۔

موبی لنک بینک کے صدر اور سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا، ''ان اعداد و شمار کے پیچھے ایک بڑا مقصد کارفرما ہے، اور وہ یہ ہے کہ اُن لوگوں تک مالی سہولیات کی رسائی بڑھائی جائے جو اب تک ان سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے۔ ہم ملک کے سب سے بڑے مائیکروفنانس بینک کے طور پر اپنے صارفین، ریگولیٹرز، شیئر ہولڈرز اور اپنی ٹیموں کے شکر گزار ہیں جن کے اعتماد اور محنت نے ہماری پیش رفت کو ممکن بنایا۔ ہماری ترقی دراصل اُن لاکھوں افراد کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے روزگار اور کاروبار کے لیے ہم پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم بدستور اس عزم پر قائم ہیں کہ ذمہ دارانہ اور شرعی اصولوں کے مطابق ڈیجیٹل بینکاری کے ذریعے چھوٹے کاروباروں اور نئے کاروباری افراد کو بااختیار بنائیں اور پاکستان بھر میں پائیدار مواقع اور مالی شمولیت کو فروغ دیں۔''

موبی لنک بینک کے چیف فنانشل آفیسر، عادل علی عباسی نے کہا، ''سال 2025 کی کارکردگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم نے مالی نظم و ضبط، اثاثوں کے بہتر معیار اور بیلنس شیٹ کے موثر انتظام پر بھرپور توجہ دی۔ منافع، ڈپازٹس اور پورٹ فولیو کے حجم میں اضافہ ہمارے بنیادی کاروبار کے استحکام کو اجاگر کرتا ہے اور ہماری اس صلاحیت کو سامنے لاتا ہے کہ ہم محتاط رسک مینجمنٹ اور سرمائے کی مستحکم پوزیشن کی بدولت ترقی کی رفتار برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ہم اپنی مالی بنیادوں کو مزید مستحکم کریں گے، آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنائیں گے اور ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے بینک کی طویل المدت ترقی کو یقینی بنائیں گے۔''

سال 2026 میں موبی لنک بینک اپنے اس ہدف پر قائم ہے کہ وہ ڈیجیٹل اسلامی بینکنگ کی خدمات کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے ملک کا نمبر ون بینک بنے۔

پیر، 9 فروری، 2026

میگا موٹر کمپنی کی طرف سے پاکستان میں BYD کی چھٹی ڈیلرشپ کا فیصل آباد میں افتتاح

فیصل آباد دنیا کی نمبر ون نیو انرجی وہیکلز (NEV) برانڈ،BYD  نے میگا موٹر کمپنی (MMC) کے اشتراک سے فیصل آباد میں اپنی چھٹی باضابطہ مکمل ڈیلرشپ کا افتتاح کیا ہے جہاں سیلز، سروس، اور اسپیئرپارٹس کی سہولت حاصل ہوگی۔ یہ اقدام پاکستان بھر میں BYD کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ پنجاب کے ایک نمایاں تجارتی علاقے میں واقع یہ نئی ڈیلرشپ صارفین کو مکمل سہولیات فراہم کرے گی، جن میں جدید نیو انرجی گاڑیوں کی نمائش، آفٹر سیلز سروسز، ٹیسٹ ڈرائیوز اور BYD کے اصل سامان و پرزہ جات تک رسائی شامل ہے۔

یہ افتتاح BYD اور MMC کے اس وژن کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کاروباری طور پر سرگرم شہروں میں اپنی موجودگی مستحکم بنانے کے ساتھ صارفین سے قریبی رابطہ رکھنے پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے BYD–MMC کے نائب صدر برائے سیلز اینڈ اسٹریٹیجی، دانش خالق نے کہا، ''ہماری چھٹی ڈیلرشپ کا آغاز اس مثبت ردِعمل کا ثبوت ہے جو BYD کو پاکستان میں ملا ہے۔ فیصل آباد سے صارفین کی طرف سے خاصی طلب نظر آئی ہے، اور یہ توسیع ہمیں یہاں کے صارفین کو زیادہ بہتر انداز سے سہولت فراہم کرنے کا موقع دے گی۔ ملک بھر میں توسیع کے ساتھ ہماری حکمتِ عملی یہی ہے کہ لائسنس یافتہ یا مجاز ڈیلرشپس کے ذریعے آسان رسائی کو فروغ دیا جائے، اورBYD ایکسپیرینس سینٹرز سے جڑی معیاری کسٹمر سروس کو برقرار رکھا جائے۔''



فیصل آباد اب BYD پاکستان کے نیٹ ورک میں شامل چوتھا شہر بن گیا ہے۔ اس فہرست پہلے ہی کراچی، لاہور اور اسلام آباد موجود ہیں۔ اس وقت ملک میں فعال چھ ڈیلرشپس میں سے تین BYD ایکسپیرینس سینٹرز ہیں، دو BYD کیئر سینٹرز ہیں جو سروس اور اسپیئر پارٹس کے لیے مخصوص ہیں۔ صارفین کو BYD ایکسپیرینس سینٹرز کے اسی معیار کی فراہمی کے ساتھ فیصل آباد میں یہ نئی ڈیلرشپ سیلز، سروس اور اسپیئر سپورٹ کی مکمل سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

بی وائی ڈی نیو انرجی ویہکلز (NEV) تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے، جو بیٹری ٹیکنالوجی، الیکٹرک پاور ٹرینز اور توانائی کی بچت پر مبنی جدید سفری حل کی فراہمی سے متعلق دہائیوں کا تجربہ رکھتی ہے۔ میگا موٹر کمپنی (MMC)  کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے BYD ملک میں ماحولیاتی اعتبار سے صاف ٹرانسپورٹ کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جس سے نہ صرف آلودگی میں کمی آتی ہے بلکہ شہروں کے فضائی معیار میں بھی بہتری آتی ہے۔

بی وائی ڈی کی موجودہ NEV گاڑیوں میں BYD Atto 3، BYD Seal، BYD Shark 6کے ساتھ ساتھ حال ہی میں متعارف کرائی گئی BYD Atto 2اور Sealion 7شامل ہیں، جو فیصل آباد کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجی لیکر آرہی ہیں یہ ماڈلز چلانے کے اخراجات کم، مستحکم کارکردگی اور جدید خصوصیات کے ساتھ جدت انگیز سوچ رکھنے والے صارفین کی ضروریات کو مدِنظر رکھ کر تیار کئے گئے ہیں۔

پیر، 2 فروری، 2026

سعودی عرب میں 19 ہزار 975 افراد کو ڈی پورٹ کردیا گیا

سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔

مقامی میڈیا ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی مزید 19 ہزار 975 کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 14 ہزار867 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
22 سے 28 جنوری 2026 کے درمیان 12 ہزار906 اقامہ قانون، 3 ہزار918 بارڈر سکیورٹی اور 3 ہزار 151 قانون محنت کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 419 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں 60 فیصد ایتھوپین، 39 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
48 ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جو سعودی عرب سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 11 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی،

کراچی: پیر کے روز شہر کے مرکزی علاقے صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، جس نے عمارت کی ساتویں منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی تین گاڑیاں موقع پر پہنچیں، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث مزید گاڑیاں طلب کر لی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ساتویں منزل پر لوگ پھنس گئے تھے جبکہ دھوئیں سے ایک شخص متاثر ہوا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم دکانداروں نے حفاظتی طور پر اپنی دکانیں بند کرنا شروع کر دیں۔




افسوسناک طور پر گل پلازہ میں آگ اور دھوئیں کے باعث کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ منزل سے لاشیں برآمد کیں، جس نے اس واقعے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی مراکز میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی اور فوری ریسکیو و امدادی کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس پی ٹریفک ساؤتھ کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت دی اور متاثرہ عمارت و اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کا حکم دیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فائر بریگیڈ کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور ہائیڈرینٹس پر ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔

اتوار، 1 فروری، 2026

شان شاہد کی عیدالفطر 2026 پر شاندار واپسی، پنجابی ایکشن فلم ’بُلّھا‘ کا اعلان

پاکستان: شیک فلمز نے اپنی بڑی پاکستانی پنجابی ایکشن فلم 'بُلّھا' کا موشن پوسٹر جاری کر دیا ہے، جس کے بعد شائقینِ سینما اور فلمی حلقوں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ فلم میں پاکستان کے سپر اسٹار شان شاہد مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دیگر نمایاں اداکاروں میں مونا لیزا، نعیمہ بٹ، عدنان بٹ، علی جوش، ماہَم مرزا اور آصف خان شامل ہیں۔ یہ فلم تقریباً 30 سال بعد شان شاہد اور سلیم شیخ کی اسکرین پر یادگار واپسی بھی ہے، جس کا شائقین طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے فلم کی تقسیم ایچ کے سی انٹرٹینمنٹ کے تحت کی جا رہی ہے

فلم کے موشن پوسٹر نے 'بُلّھا' کے شاندار انداز، سنسنی خیز فضا اور بصری وسعت کی ایک جھلک پیش کی ہے۔ اسی سلسلے میں فلم کا باضابطہ ٹیذر لانچ ایونٹ 30 جنوری 2026 کو سینی اسٹار، شِنہوا مال، لاہور میں منعقد کیا جائے گا، جس میں فلم کے فنکاروں، تخلیقی ٹیم اور میڈیا نمائندگان کی شرکت متوقع ہے۔ فلم عیدالفطر 2026 پر ملک بھر میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ نامور ہدایتکار شعیب خان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم 'بُلّھا' ایک ایسے جدید دور کے ہیرو کی کہانی ہے جو ناانصافی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ فلم پنجابی ثقافت اور روحانی پس منظر میں جڑی ایک طاقتور داستان پیش کرتی ہے، جس میں ایکشن کے ساتھ جذباتی گہرائی بھی شامل ہے۔ فلم ظلم، مزاحمت، حوصلے اور حق و باطل کی ازلی کشمکش کو اجاگر کرتی ہے۔ اس موقع پر ہدایتکار شعیب خان نے کہا:"'بُلّھا' میری محبت اور محنت کا نتیجہ ہے، جو عالمی سطح پر ناظرین سے جڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ فلم ظلم، مزاحمت، ایمان اور وقار جیسے آفاقی موضوعات کو پنجابی ثقافت میں سموئے ہوئے ہے۔"



فلم کے ہیرو شان شاہد نے کہا: "'بُلّھا' محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک آواز ہے۔ یہ وہ سینما ہے جس کی آج ہمیں ضرورت ہے—بے خوف، بامعنی اور سچ پر مبنی۔ یہ فلم ہماری ثقافت اور ایمان کی طاقت کو یاد دلاتی ہے اور دیر تک ناظرین کے دل و دماغ پر اثر چھوڑتی ہے۔" فلم کے پروڈیوسر مسٹر وہورا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "'بُلّھا' پنجابی سینما کی تجارتی صلاحیت اور ثقافتی طاقت کا ثبوت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ فلم نہ صرف ناظرین کو متاثر کرے گی بلکہ معیاری اور مقامی ثقافت سے جڑی فلم سازی کے ایک نئے دور کی بنیاد بھی رکھے گی، جو پاکستانی سینما کے مستقبل کو مضبوط بنائے گی۔"

فلم کی کہانی معروف اور لیجنڈری مصنف ناصر ادیب نے تحریر کی ہے، جن کی تحریری خدمات جنوبی ایشیائی سینما کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس مضبوط تخلیقی ٹیم کے ساتھ 'بُلّھا' کو سال کی ایک بڑی اور یادگار فلم قرار دیا جا رہا ہے، جو عوامی مقبولیت کے ساتھ بامعنی کہانی، شاندار اداکاری اور ثقافتی ہم آہنگی کا حسین امتزاج پیش کرے گی۔

جمعہ، 30 جنوری، 2026

میزان بینک کوملائیشیا کے مرکزی بینک کی جانب سے رسک شیئرنگ فنانس پر مہارت شیئرکرنے کی دعوت

کراچی: پاکستان کے ممتاز اور سب سے بڑے اسلامی بینک میزان بینک نے رسک شیئرنگ فنانس پر علم و تجربہ کے تبادلہ کیلئے ملائیشیا کے مرکزی بینک، بینک نیگارا ملائیشیا  (BNM)کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

میزان بینک نے بینک نیگارا ملائیشیاکی دعوت پر ملائیشیا میں اسلامک بینکنگ کے ماہرین کیلئے ڈیزائن کیے گئے ایک پروگرام "انکیوبیشن پروگرام آن رسک شیئرنگ"میں بطور مقرر شرکت کی۔ اس پروگرام کا مقصد ملائیشیا کے اسلامی بینکاری سیکٹر میں رسک شیئرنگ اور نان ڈیٹ بیسڈ مالیاتی سلوشنز کے فروغ میں معاونت فراہم کرناتھا۔ پروگرام میں میزان بینک کی مارکیٹ لیڈرشپ اوراسلامی بینکاری میں وسیع تجربہ سے استفادہ کیاگیا۔



پروگرام میں میزان بینک کی نمائندگی شریعہ کمپلائنس کے سربراہ شایان احمد بیگ نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں شریعہ کے مطابق رسک شیئرنگ پراڈکٹس کی تشکیل، نفاذ اورگورننس سے متعلق میزان بینک کے عملی تجربے کی بنیاد پر تفصیلی گفتگوکی۔ سیشنز میں رسک شیئرنگ کے نظریاتی اصولوں کو قابلِ عمل بینکاری سلوشنز میں ڈھالنے پر توجہ دی گئی جبکہ ریگولیٹری تقاضوں، آپریشنل نفاذاور شریعہ گورننس فریم ورک پربھی تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ میزان بینک نے رسک شیئرنگ مقاصدسے ہم آہنگ متبادل مصنوعات کے اسٹرکچر اورمقامی ریگولیٹری تقاضوں سے متعلق اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔

اس دورہ کے دوران شایان احمد بیگ نے بینک نیگارا ملائیشیا کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کی اور حال ہی میں لانچ کی گئی میزان بینک کی آفیشل تاریخ پر مبنی کتاب"Unconventional: The Bank No One Saw Coming," نیگارا بینک کے اسسٹنٹ گورنر کو پیش کی۔ اس کتاب میں پاکستان میں اسلامی بینکاری کی ترقی میں میزان بینک کے سفر اور کردارکو اجاگر کیاگیاہے۔

اس پروگرام میں میزان بینک کی شرکت اسلامی بینکاری کے شعبہ میں اس کے قائدانہ کردار، تکنیکی مہارت اور فکری قیادت کے بڑھتے ہوئے عالمی اعتراف کی عکاسی ہے۔ کسی غیر ملکی مرکزی بینک کی جانب سے دعوت دیاجانا اس بات کی عکاسی ہے کہ میزان بینک نہ صرف پاکستان بلکہ اہم بین الاقوامی مارکیٹس میں بھی اسلامی مالیات کے ایک نمایاں اور معیاری ادارے کے طورپر تسلیم کیا جاتاہے۔

محمد سعید مہدی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’دی آئی وِٹنس‘ کی لاہور میں رونمائی

لاہور:  محمد سعید مہدی کی طویل انتظار کے بعد شائع ہونے والی یادداشتوں پر مبنی کتاب

 The Eyewitness: Standing in the Shadows of Pakistan's History

کی رونمائی لاہور میں ایک پروقار اور بھرپور تقریب کے دوران کی گئی۔ لائٹ اسٹون پبلشرز کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس تقریب میں 600 سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں سفارتکار، سینئر صحافی، قانونی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور ادبی شخصیات شامل تھیں۔ یہ کتاب پاکستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ میں ایک اہم اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔

تقریب کا آغاز لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر آمنہ سید کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جنہوں نے کتاب کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کے اہم اور فیصلہ کن ادوار کا چشم دید بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد سعید مہدی کے مشاہدے میں آنے والے ادوار آئندہ نسلوں کے لیے قیمتی تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔



آمنہ سید نے لائٹ اسٹون پبلشرز کی تعلیمی اور ثقافتی خدمات کا بھی ذکر کیا، خصوصاً ادب فیسٹیول کے ذریعے فکری اور تخلیقی ترقی کے فروغ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے شائع کردہ اسکول نصاب کے کتب ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ ہیں اور تنقیدی سوچ، جستجو اور تخیل کو فروغ دیتے ہیں۔

مصنف محمد سعید مہدی نے اپنے خطاب میں کتاب لکھنے کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے کہا،
"میں نے یہ کتاب سچ کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی ہے۔ میں نے وہی لکھا ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، نہ اس میں کچھ بڑھایا اور نہ گھٹایا۔"اس کے بعد گفتگو نے کتاب کے سیاسی، عدالتی اور صحافتی پہلوؤں کا احاطہ کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی اور سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے چشم دید تاریخی بیانات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایسے بیانات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں شامل بھٹو مقدمے کے عدالتی پہلو ملکی قانونی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب لکھنا جہاد کی مانند ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بھی ردعمل کا باعث بن سکتا ہے، مگر محمد سعید مہدی نے بے خوف ہو کر سچ لکھا۔ انہوں نے

پیر، 26 جنوری، 2026

خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کی جانب سے SME کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026 میں نمایاں کاروباری حل پیش


لاہور ؛ خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ  نے SME میڈ اِن پاکستان کلسٹر ایکسپو 2026 میں اپنے اسٹال کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے مؤثر اور جامع حل پیش کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ایکسپو کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے زیرِ اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے SME شعبے میں کام کرنے والے معتبر اداروں اور پلیٹ فارمز نے شرکت کی۔

SME کلائنٹس کے ساتھ کامیاب شراکت داری اور ثابت شدہ کارکردگی کی بنیاد پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک کو اپنے خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے باعث بھرپور پذیرائی ملی۔ یہ قرضہ پروگرام مختلف زمروں پر مشتمل ہے جو بینک کے متنوع صارفین اور ان کی مختلف کاروباری ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔



ثاقب حسین ، ریجنل بزنس ہیڈ،خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"خوشحالی مائیکروفنانس بینک میں SME شعبے کے لیے ہماری اولین ترجیح استحکام اور ترقی ہے جو سادہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے حاصل کی جاتی ہےتاکہ کاروباری مالکان اپنے اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔"

بینک کے اسٹال میں خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے تحت مختلف نمایاں حل پیش کیے گئے جن میں رننگ فنانس قرضہ شامل تھا جو مؤثر کیش فلو مینجمنٹ اور ورکنگ کیپیٹل کے تسلسل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کمرشل وہیکل فنانسنگ جو لاجسٹکس، نقل و حرکت اور تقسیم کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کاروباری توسیع میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر قرضہ لاگت میں کمی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدتی عملی پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تمام حل شرکاء میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو SME شعبے کی عملی ضروریات سے ان کی براہِ راست مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدف ارشد رانا، سینئر ایریا مینیجر، خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"ہمارے خوشحالی کاروباری قرضہ جات ہمارے صارفین کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلق اور مختلف معاشرتی طبقات کی ضروریات کو سمجھنے کا ثبوت ہیں جو مختلف SME صنعتوں میں محفوظ اور پائیدار ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔"

ملک کے SME شعبے کے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک اپنے دیہی، شہری اور نیم شہری صارفین کو مخصوص مالی مصنوعات، خدمات اور رہنمائی فراہم کرتا رہے گا جو پاکستان کے SME شعبے کی ترقی کے لیے بینک کے عزم اور ایک نمایاں مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

نیہا کریم اللہ اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان کی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کی ایمبیسڈر منتخب

نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر میں اسپاٹیفائی کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر نیہا کریم اللہ جلوہ گر ہوئیں

کراچی ؛ اسپاٹیفائی نے ابھرتی ہوئی ڈانس -پاپ گلوکارہ نیہا کریم اللہ کو پاکستانی میوزک کی دنیا میں ایک تازہ اور مسحور کن آواز کو سراہنے کے ساتھ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے لیے ایکول پاکستان ایمبیسڈر منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں 22 جنوری کو نیہا کریم اللہ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں اسپاٹیفائی کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر جلوہ گر ہوئیں اور اس پلیٹ فارم ان کے گانے مختلف منتخب پلے لسٹس میں بھی شامل کئے گئے جو انکی گلوکاری کے سفر میں بڑا سنگ میل ہے۔

اپنی کہانی سنانے کے جذباتی انداز اور الیکٹرانک دھنوں کے امتزاج سے نیہا کی موسیقی نئی نسل کے سامعین کو مسحور کردیتی ہے۔ نیہا کے خصوصی گیت ''آؤ تو ذرا'' نے اپنے ماڈرن طریقے سے تیاری اور دل کو چھولینے والے انداز سے سامعین کو متوجہ کیا ہے جس کی بدولت انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی منفرد سامعین سے جڑنے میں مدد ملی ہے۔

انکی مسلسل مقبولیت کا اظہار پاکستان سے بڑھ کر امریکا، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات سے سامعین کی بڑھتی تعداد نیہا کی موسیقی کی عالمی رسائی کی عکاس ہے۔ اسپاٹیفائی کے اعداد و شمار کے مطابق ان کے 85 فیصد سامعین ملینیئلز اور جین زی سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ نوجوان انکی موسیقی کے انداز کو پسند کرتے ہیں۔

  

ڈانس۔پاپ کے شعبے میں نیہا کے گیتوں کے کیٹالاگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکے گیتوں میں توانائی اور جذبات کا اظہار ایک توازن کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ انکے گیت جیسے Modern Day Witch Trial (Mdwt) اور 'دیوانے' ردھم اور رقص کے انداز کو نمایاں کرتے ہیں جبکہ 'نہ کروں ' گیت سے انکی تخلیق کا ایک منفرد زاویہ سامنے آیا ہے۔ مجموعی طور پر، انکی گلوکاری کی صلاحیتیں منفردآواز اور کہانی سنانے کے دلچسپ طریقوں کے ذریعے سامعین کو جوڑے رکھتی ہیں۔

ایکول پاکستان کی ایمبیسڈر بننے پر نیہا کریم اللہ نے کہا، ''اسپاٹیفائی ایکول پاکستان پروگرام خواتین گلوکاروں کے لیے واقعی ایک شاندار اقدام ہے۔ یہ خواتین گلوکاروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، ہماری کہانیوں کو جگہ دیتا ہے اور ہمیں وہ پہچان دیتا ہے جس کی بہت عرصے سے ضرورت تھی۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو ہماری جدوجہد کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری آواز کو مزید بلند کرتا ہے۔ ایسی کاوش کا حصہ بننا جو خواتین کی حوصلہ افزائی کرے، انکی نمائندگی میں پیش قدمی کرے اور نئی نسل کی لڑکیوں کو موسیقی کے لئے مائیک اٹھانے کی ترغیب دے، وہ میرے لئے بہت خاص ہے۔ "

اسپاٹیفائی پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپس کی منیجر رطابہ یعقوب نے کہا، ''پاکستانی میوزک انڈسٹری میں نیہا کریم اللہ ایک نئی آواز ہے جو تنوع اور تازگی لیکر آئی ہیں۔ ایکو ل پاکستان کے ذریعے ہم خواتین گلوکاروں کو انکی موسیقی کے سفر میں ہر مرحلے پر تعاون فراہم کرتے ہیں اور نیہا کی اس پروگرام میں شمولیت اس عزم کی عکاس ہے کہ ہم ابھرتی ہوئی آوازوں عالمی سطح تک پہنچانا چاہتے ہیں ''

ایکول پاکستان جیسے اقدامات کے ذریعے اسپاٹیفائی خواتین گلوکاروں کی عالمی سطح پر حوصلہ افزائی کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ نیہا کریم اللہ کا بطور حالیہ ایکول پاکستان ایمبیسڈر انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ اسپاٹیفائی وسیع اقسام کی آوازوں کو آگے لانے اور پاکستانی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

پاکستان کی متاثر کن خواتین گلوکاروں کے گیت تلاش کرنے کے لئے سامعین اسپاٹیفائی پر ایکول پاکستان کی پلے لسٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان اور ملائیشیا کے برادرانہ تعلقات تعلیم کے شعبے میں بھی مستحکم

ملائیشیا میں پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم، ای ایم جی ایس

اسلام آباد: ایجوکیشن ملائیشیا گلوبل سروسز نے اسلام آباد میں ایک نیٹ ورکنگ تقریب کا انعقاد کیا، جس کی میزبانی پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر عالی جناب داتو محمد اظہر مزلان نے کی۔ اس موقع پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا، جو مشترکہ ثقافتی، مذہبی اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے تعلیمی نظام، عالمی سطح پر تسلیم شدہ جامعات اور مناسب تعلیمی اخراجات کے باعث ملائیشیا پاکستانی طلبہ کے لیے ایک پسندیدہ تعلیمی منزل بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اس وقت ملائیشیا کی معروف سرکاری و نجی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی روابط کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
 


اس موقع پر موئن احمد، ریجنل ہیڈ جنوبی ایشیا، ایجوکیشن ملائیشیا گلوبل سروسز نے بھی خطاب کیا اور پاکستان کے تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ملائیشیا کے تعلیمی نظام کی مضبوط علمی بنیادوں، صنعت سے ہم آہنگ نصاب اور طلبہ دوست ماحول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ ملائیشیا کی عالمی معیار کی جامعات میں دستیاب تعلیمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

 یہ تقریب ملائیشیا کی اعلیٰ تعلیمی جامعات اور پاکستان کے تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان روابط، تعاون اور تبادلۂ خیال کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ اس موقع پر ملائیشیا کی معروف جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں یونیورسٹی آف ملایا، یونیورسٹی اترا ملائیشیا (UUM)، یونیورسٹی کوالالمپور (UniKL)، ایشیا پیسیفک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن (APU)، یو سی ایس آئی یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سائبرجایا (UOC) شامل ہیں۔
 
تقریب کے اختتام پر ای ایم جی ایس نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستانی طلبہ کے لیے ملائیشیا کو ایک ممتاز عالمی تعلیمی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کی جانب سے SME کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026 میں نمایاں کاروباری حل پیش

لاہورخوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ  نے SME میڈ اِن پاکستان کلسٹر ایکسپو 2026 میں اپنے اسٹال کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے
لیے مؤثر اور جامع حل پیش کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ایکسپو کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے زیرِ اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے SME شعبے میں کام کرنے والے معتبر اداروں اور پلیٹ فارمز نے شرکت کی۔

SME کلائنٹس کے ساتھ کامیاب شراکت داری اور ثابت شدہ کارکردگی کی بنیاد پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک کو اپنے خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے باعث بھرپور پذیرائی ملی۔ یہ قرضہ پروگرام مختلف زمروں پر مشتمل ہے جو بینک کے متنوع صارفین اور ان کی مختلف کاروباری ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔



ثاقب حسین ، ریجنل بزنس ہیڈ،خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"خوشحالی مائیکروفنانس بینک میں SME شعبے کے لیے ہماری اولین ترجیح استحکام اور ترقی ہے جو سادہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے حاصل کی جاتی ہےتاکہ کاروباری مالکان اپنے اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔"

بینک کے اسٹال میں خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے تحت مختلف نمایاں حل پیش کیے گئے جن میں رننگ فنانس قرضہ شامل تھا جو مؤثر کیش فلو مینجمنٹ اور ورکنگ کیپیٹل کے تسلسل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کمرشل وہیکل فنانسنگ جو لاجسٹکس، نقل و حرکت اور تقسیم کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کاروباری توسیع میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر قرضہ لاگت میں کمی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدتی عملی پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تمام حل شرکاء میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو SME شعبے کی عملی ضروریات سے ان کی براہِ راست مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدف ارشد رانا، سینئر ایریا مینیجر، خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"ہمارے خوشحالی کاروباری قرضہ جات ہمارے صارفین کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلق اور مختلف معاشرتی طبقات کی ضروریات کو سمجھنے کا ثبوت ہیں جو مختلف SME صنعتوں میں محفوظ اور پائیدار ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔"

ملک کے SME شعبے کے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک اپنے دیہی، شہری اور نیم شہری صارفین کو مخصوص مالی مصنوعات، خدمات اور رہنمائی فراہم کرتا رہے گا جو پاکستان کے SME شعبے کی ترقی کے لیے بینک کے عزم اور ایک نمایاں مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

جمعرات، 22 جنوری، 2026

موبی لنک کے انفارمیشن سیکیورٹی سسٹم نے ISO 27001​ کی عالمی سرٹیفکیشن حاصل کرلی



اسلام آباد : پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک نے آئی ایس او کی جدید عالمی سرٹیفکیشن (ISO/IEC 27001:2022) حاصل کرلی ہے۔ یہ سرٹیفکیشن اسکے انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹمز (آئی ایس ایم ایس)کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔یہ سرٹیفکیشن اُن اداروں کو دی جاتی ہے جو ڈیٹا سیکیورٹی کے بین الاقوامی تقاضوں پر پورا اترتے ہوں۔ یہ کامیابی موبی لنک بینک کی انفارمیشن سیکیورٹی کی مضبوط گورننس، سائبر خطرات کو منظم انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت، اور بہترین عالمی طریقوں کے تحت صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو ظاہر کرتی ہے۔

عالمی سطح پر اس سرٹیفکیشن (ISO/IEC 27001:2022) کو انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم کے قیام، اسکے نفاذ اور اس میں مسلسل بہتری کے لیے ایک اعلیٰ معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفکیشن خطرات سے نمٹنے کا واضح فریم ورک فراہم کرتی ہے جو انفارمیشن کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے، اور ڈیٹا کی رازداری، درستگی اور دستیابی کو یقینی بناتی ہے۔ موبی لنک بینک کی یہ کامیابی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کا ڈیجیٹل بینکنگ کا نظام مضبوط، خود مختار اور مصدقہ انفارمیشن کے تحفظ کے طریقہ کار پر قائم ہے۔



یہ اہم سنگِ میل موبی لنک بینک کے صارفین کو اولین ترجیح دینے کے وژن اور سروس میں جدت کے عزم سے ہم آہنگ ہے، جہاں عالمی معیار کو بنیادی آپریشنز کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بینک اپنے پلیٹ فارمز کی سیکیورٹی اور اعتماد کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے تاکہ صارفین کا بھرپور اعتماد قائم ہو اور ڈیجیٹل بینکنگ کی خدمات کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

اس اہم پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے موبی لنک بینک کے چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسر، مصطفی لوٹیا نے کہا، ''یہ سرٹیفکیشن صارفین کی معلومات کے تحفظ، سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے، اور ہماری تمام سرگرمیوں میں بہترین عالمی طریقوں کی شمولیت کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔ ہمارے صارفین اپنے ڈیٹا کے معاملے میں ہم پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، اور یہ سرٹیفکیشن اس اعتماد کے تحفظ سے متعلق ہماری ذمہ داری کو مزید مستحکم بناتی ہے۔ اس سرٹیفکیشن کی بدولت ہم پاکستان بھر میں محفوظ، جدید اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل بینکنگ کی خدمات مسلسل فراہم کرسکیں گے۔''

یہ سرٹیفکیشن موبی لنک بینک کے اس مقصد کو تقویت دیتی ہے کہ وہ مؤثر گورننس، رسک مینجمنٹ اور سیکیورٹی کنٹرولز کے ذریعے ایک مضبوط انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم (آئی ایس ایم ایس) قائم کرے، اسے فعال رکھے اور اسے مسلسل بہتر بناتا رہے، تاکہ انفارمیشن کا تحفظ ہو اور محفوظ، پائیدار اور قابلِ اعتماد بینکنگ کی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

پیر، 19 جنوری، 2026

لکی انوسٹمنٹس نے لکی فنڈز موبائل ایپ متعارف کرادی

کراچی: لکی انوسٹمنٹس نے موبائل سرمایہ کاری ایپلیکشن "لکی فنڈز"  متعارف کرادی ہے۔ یہ ایپ سرمایہ کاروں کو شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری تک محفوظ،آسان اور شفاف رسائی فراہم کرنے کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔

 

لکی فنڈز گوگل پلے اسٹور (Android) اور ایپل ایپ اسٹور (iOS) دونوں پر دستیاب ہے۔ ایپ کے ذریعے سرمایہ کار لکی انوسٹمنٹس کے تمام میوچل اور پنشن فنڈزمیں سرمایہ کاری،فنڈز کی تبدیل اور ریڈیمشن کی سہولت کے ساتھ ساتھ رئیل ٹائم میں پورٹ فولیو کی نگرانی اور فنڈزسے متعلق جامع معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

 

سرمایہ کاری کو آسان بنانے کیلئے تیارکی گئی ایپ کے ذریعے صارفین فنڈز کا جائزہ،ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت، سرمایہ کاری کی کارکردگی کو ٹریک اور کسی بھی وقت کہیں بھی اپنی سرمایہ کاری کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایپ سرمایہ کاروں کو آگاہی فراہم کرنے میں بھی معاون ہے جس میں شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری سے متعلق تجزیہ، سی ای او مارکیٹ آؤٹ لک اور مالی منصوبہ بندی کے ٹولز شامل ہیں جو منظم بچت اور کمپاؤنڈنگ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

 

لکی فنڈز ایپ کو ایک محفوظ ڈیجیٹل سروس چینل کے طورپر تیارکیاگیاہے جس میں بائیو میٹرک اور چہرے کی شناخت کی تصدیق، انکرپٹڈ کمیونیکیشن، بیک اینڈ آتھرائزیشن کنڑولز،آڈٹ ٹریل اور سسٹم کی منطقی تقسیم شامل ہے تاکہ ڈیٹا اور ٹرانزیکشنز کی رازداری، سالمیت اوراعتماد کو یقینی بنایا جاسکے۔

 

ایپ کی نمایاں خصوصیات میں ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنا، فنڈ کے حساب سے پورٹ فولیو کی سیگریشن،یومیہ نیٹ ایسٹ ویلیو(NAV) اور کارکردگی رپورٹس تک رسائی، اسٹیٹمنٹس اور سرٹیفکیٹس ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت، ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز، راست آئی ڈی جنریشن، کیوک پے سروس،قابلِ تخصیص یوزر انٹر فیس تھیمز، پش نوٹیفکیشنز اورسرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق اسکیل ہونے والا ہائی اویلبلٹی انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔

 

لکی انوسٹمنٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد شعیب سی ایف اے نے کہاکہ لکی فنڈز ایپ ٹیکنالوجی اور شریعہ کے مطابق گورننس کو یکجا کرنے کے کمپنی کے عزم کی عکاسی ہے جس کا مقصداعتماد اور شفافیت پر سمجھوتہ کیے بغیر سرمایہ کاروں کے تجربے کوبہتر بناناہے۔

جمعہ، 16 جنوری، 2026

زونگ فورجی کی پاکستان میں فائیو جی کو فروغ دینے کے لیے زیڈ ٹی ای اور سکوٹیل کے ساتھ شراکت داری

اسلام آباد ،  پاکستان کی معروف انفارمیشن سروسز اور ٹیکنالوجی انوویشن کمپنی زونگ فورجی نے زیڈ ٹی ای کارپوریشن اور اس کے مجاز ڈسٹری بیوٹر سکوٹیل(Siccotel) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی شراکت داری ہے جس کا مقصد پاکستان بھر کے صارفین کے لیے نیکسٹ جنریشن ڈیوائسزتک رسائی کوبڑھانا ہے۔

اس شراکت داری کے تحت زونگ فورجی کے ڈیوائس پورٹ فولیو کو مختلف صارفین کے طبقات میں نمایاں طور پر وسعت دی جائے گی جس میں فائیو جی ٹیکنالوجی تک جامع رسائی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس شراکت داری سے زیڈ ٹی ای ابتدائی سطح سے لے کر درمیانی اور اعلیٰ درجے تک کے متنوع فائیو جی اسمارٹ فونز متعارف کرائے گا، اس کے ساتھ ساتھ گیمنگ پر مرکوز ایسے ڈیوائسز بھی پیش کیے جائیں گے جو ہائی پرفارمنس صارفین اور نوجوانوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

قیمتوں کو مزید قابلِ برداشت بنانے اور اپنانے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے، اس شراکت داری کے تحت 'بائی ناو، پے لیٹر(BNPL) اسکیمیں بھی متعارف کرائی جائیں گی، جس کے ذریعے صارفین ادائیگی کے قابل عمل اختیارات کے ساتھ جدید اسمارٹ فونز حاصل کر سکیں گے۔ تمام ڈیوائسز مسابقتی مارکیٹ نرخوں پر دستیاب ہوں گی اور زونگ فورجی کے پیکجز کے ساتھ بنڈل کی جائیں گی، جن میں گیمنگ، ای اسپورٹس،انٹرٹینمنٹ اور ڈیٹا پر مرکوز پیشکشوں جیسی ویلیو ایڈڈ سروسز شامل ہوں گی۔



زونگ فورجی میں ہیڈ آف مارکیٹنگ ساجد منیرنے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ،"یہ شراکت داری پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے زونگ کی اسٹریٹجک سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ فائیو جی کے افق پر آنے اور اسمارٹ فون کے پھیلاؤ کے ارتقائی مرحلے میں ہونے کے باعث، یہ انتہائی اہم ہے کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی ہو اور وہ زیادہ مہنگی بھی نہ ہو۔فائیو جی کی ڈیوائسز، اعلیٰ کارکردگی والے گیمنگ اسمارٹ فونز اور لچکدار ادائیگی کے حل متعارف کروا کر، ہم مزید پاکستانیوں کو ڈیجیٹل معیشت میں شرکت کے قابل بنا رہے ہیں۔ اس سے ہم جدت کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ کنیکٹیویٹی اور مصروفیت کی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔"

یہ اقدام اسمارٹ فونز تک رسائی کو نمایاں طور پر بڑھائے گا جبکہ ٹیکنالوجی سے باخبر اور گیمنگ پر مرکوز صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو بھی پورا کرے گا۔نیکسٹ جنریشن ڈیوائسز، جدید مالیاتی حل اور قدر پر مبنی سروس بنڈلز کو یکجا کر کے، یہ تعاون مستقبل کے لیے تیار ڈیجیٹل تجربات کی فراہمی میں زونگ فورجی کی قیادت کو مضبوط کرتا ہے اور حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل پاکستان کے قومی وژن کو آگے بڑھاتا ہے۔

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں