کراچی: پیر کے روز شہر کے مرکزی علاقے صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، جس نے عمارت کی ساتویں منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی تین گاڑیاں موقع پر پہنچیں، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث مزید گاڑیاں طلب کر لی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ساتویں منزل پر لوگ پھنس گئے تھے جبکہ دھوئیں سے ایک شخص متاثر ہوا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم دکانداروں نے حفاظتی طور پر اپنی دکانیں بند کرنا شروع کر دیں۔

افسوسناک طور پر گل پلازہ میں آگ اور دھوئیں کے باعث کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ منزل سے لاشیں برآمد کیں، جس نے اس واقعے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی مراکز میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی اور فوری ریسکیو و امدادی کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس پی ٹریفک ساؤتھ کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت دی اور متاثرہ عمارت و اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کا حکم دیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فائر بریگیڈ کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور ہائیڈرینٹس پر ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔
آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی تین گاڑیاں موقع پر پہنچیں، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث مزید گاڑیاں طلب کر لی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ساتویں منزل پر لوگ پھنس گئے تھے جبکہ دھوئیں سے ایک شخص متاثر ہوا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم دکانداروں نے حفاظتی طور پر اپنی دکانیں بند کرنا شروع کر دیں۔
افسوسناک طور پر گل پلازہ میں آگ اور دھوئیں کے باعث کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ منزل سے لاشیں برآمد کیں، جس نے اس واقعے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی مراکز میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی اور فوری ریسکیو و امدادی کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس پی ٹریفک ساؤتھ کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت دی اور متاثرہ عمارت و اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کا حکم دیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فائر بریگیڈ کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور ہائیڈرینٹس پر ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔
کوئی تبصرے نہیں:
Write تبصرے